Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, ستمبر 7, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
  • پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
  • صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
  • زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
  • نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
  • بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
  • صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
  • پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » خط کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تو ادارہ مکمل تعاون کرے گا، ترجمان پاک فوج
اہم خبریں

خط کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنا تو ادارہ مکمل تعاون کرے گا، ترجمان پاک فوج

ایڈیٹرجون 15, 20222 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
major general babar iftikhar
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

اسلام آباد : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ خط کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن یا اور کوئی فورم بنا تو ادارہ مکمل تعاون کرے گا۔
‘ہم نیوز’ کے پروگرام ‘بریکنگ ود مالک’ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز ایک انٹرویو کے دوران کسی قسم کا کوئی سیاسی بیان نہیں دیا۔اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میں نے صرف پاکستان آرمی کے سروسز چیفس کی جانب سے ایک وضاحتی بیان دیا تھا، گزشتہ ہفتے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک نجی چینل کے پروگرام میں ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کسی بھی سروس چیف نے یہ نہیں کہا کہ سازش نہیں ہوئی۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ شیخ رشید نے اپنی گفتگو کے دوران اس انداز میں گفتگو کی جیسے کہ وہ ان کے نمائندے کے طور پر بات کر رہے ہیں، اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اسی پروگرام میں جاکر اس بات کی وضاحت کی جائے کیونکہ سروسز چیفس کے حوالے سے ان کا ترجمان میں ہی ہوں اور اگر ان کے بارے میں کوئی اس طرح کی بات کی جاتی ہے تو میری ذمےدار بنتی ہے کہ میں اس کی وضاحت کروں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ اس لیے میرے بیان میں کوئی سیاسی بات نہیں ہے اور جس چیز کی میں نے وضاحت کی وہ بھی یہ ہی تھی کہ بہت وضاحت کے ساتھ اس میٹنگ میں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے بالکل واضح کردیا گیا تھا کہ کسی قسم کی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس پر میں نے کل کافی وضاحت سے بات کی، میری جانب سے ایک وضاحتی بیان تھا، اس میں کوئی سیاسی بات نہیں تھی۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ ایک قومی سلامتی کا معاملہ تھا، اسی لیے تمام سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی وہاں اجلاس میں بلایا گیا تھا اور جب اس طرح کے اعلیٰ ترین فورم پر جو ملک کی سلامتی کا سب سے اہم فورم ہے، جب وہاں بلایا جاتا ہے تو اس کا ایجنڈا پہلے سے بتادیا جاتا ہے کہ اجلاس کیوں ہو رہا ہے۔
انہوں نےمزید کہا کہ اس طرح کے اجلاس میں شرکت کےلیے تمام شرکا، خاص طور پر تینوں سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی اپنی ان پٹ لے کر جاتے ہیں اور وہ ان پٹ جو ہوتی ہے وہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ہوتی ہے، وہ رائے نہیں ہوتی، آج کہا گیا کہ یہ اُن کی رائے ہے، وہ ہماری رائے ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دے کر کہا کہ میں سروسز چیفس کی جانب سے آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ یہ رائے نہیں تھی، یہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر انفارمیشن تھی، حقائق کو دیکھ کر ان کے مطابق وہاں یہ ان پٹ دی گئی تھی، اس لیے اجلاس میں موجود سیاسی قیادت نے بھی اس کے بعد میٹنگ کے اعلامیے میں سازش کا لفظ شامل نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح سے یہ ان پٹ دی گئی تھی تو اس کو رائے نہیں کہا جاسکتا، یہ ایک طریقہ کار کےتحت بریف کیا گیا تھا، ان پٹ لے کر گئے تھے اور اس کی بنیاد پر یہ بات کی گئی تھی۔ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت عدالتی کمیشن یا کوئی بھی کمیشن اس معاملے کو اس کے منطقی انجام تک لے جانے کےلیے بنانا چاہیے تو وہ بنا سکتی ہے، سابقہ حکومت کے پاس بھی یہ اختیار موجود تھا جب کہ اس حکومت کے پاس بھی اختیار موجود ہے اور اگر حکومت اس معاملے پر کوئی کمیشن یا فورم بناتی ہے تو ادارہ اس سلسلے میں تمام مطلوبہ سہولت اور تعاون فراہم کرے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے کہا تھا کہ اگر ڈی جی آئی ایس پی آر بار بار سیاسی معاملات کی تشریح کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ فوج کے لیے بھی اچھا ہوگا اور ملک کے لیے بھی اچھا ہوگا۔
پارٹی رہنما شیریں مزاری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا تھا کہ عسکری قیادت میں سے ایک صاحب نے ایک انٹرویو میں بات کی تھی کہ حقائق اور رائے کو الگ الگ کرکے دیکھنا چاہیے اور انہوں نے امریکا کی طرف سے دیے گئے دھمکی آمیز خط میں سے دو، چار جملے بھی پڑھے تھے۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ بات قومی سلامتی کمیٹی کے 2 بار ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز میں لکھی گئی ہے جس میں واضح طور پر ’بیرونی مداخلت‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ بیرونی مداخلت کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ سازش کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے نہیں تھی اور آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل یہاں تک بھی درست کہتے ہیں کہ عسکری قیادت میں سے کچھ نے اس اجلاس میں کہا کہ ان کو کسی بھی بیرونی سازش کے شواہد نظر نہیں آئے۔
اسد عمر نے مزید کہا تھا کہ ابھی بھی ہماری یہی اپیل ہے کہ اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس کی کھلی سماعت ہو اور پورا پاکستان دیکھے کہ اس میں کون آکر کیا بات کر رہا ہے اور کیا شواہد سامنے رکھے جارہے ہیں، پھر اس بنیاد پر فیصلہ کیا جائے کہ واقعی میں بیرونی سازش تھی اور اگر سازش تھی تو اس میں کون ملوث تھا اور وہ تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ‘دنیا نیوز’ کے پروگرام ‘آن دی فرنٹ’ میں اینکر پرسن کامران شاہد کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ مسلح افواج اور قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہےایسا نہیں ہونا چاہیے، حقائق مسخ کرنے کا حق کسی کے پاس نہیں، اپنی رائے کا سب کو حق حاصل ہے لیکن جھوٹ کا سہارا نہیں لینا چاہیے، شیخ رشید نے کہا قومی سلامتی اجلاس میں کسی نے نہیں کہا سازش نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے شرکا کو واضح اور مفصل انداز میں بتایا گیاکہ کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں، ایسا کچھ نہیں ہوا، ہماری ایجنسیوں کا 24 گھنٹے کا کام دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ اجلاس میں تینوں سروسز چیفس موجود تھے، اجلاس کے شرکا کو واضح انداز میں بتا دیا گیا تھا کہ ایجنسیوں نے تمام چیزوں کو بغور اور پیشہ ورانہ طور پر دیکھا گیا ہے اور اس معاملے میں کسی سازش کے شواہد نہیں ہیں۔
سازش اور مداخلت کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا تھا کہ اتنا کہنا چاہوں گا یہ سفارتی لفظ ہے، سفارتی سطح پر سفارتی ابلاغ میں اس طرح کی چیزوں کو استعمال کیا جاتا ہے، مجھے یقین ہے کہ سفارتکار ہی اس کو بہتر طریقے سے واضح کر سکتے ہیں، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے جو ایکشن لیا گیا وہ سفارتی طور پر لیا گیا ہے، ہماری طرف سے بہت واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

آئی ایس پی آر پاک فوج
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleرضی الدین رضی کا کالم : ویسٹ انڈیز کا دورہ ملتان اور1981ء کا قاسم باغ سٹیڈیم
Next Article سید مجاہد علی کا تجزیہ : دفاعی بجٹ میں کمی اور پرویز مشرف کی واپسی کا مقدمہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ڈاکٹر فخر عباس ، مریم نواز اور لاہور سے محبت : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم

اگست 29, 2026

ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کی ’ریڈ لائنز‘ کیا ہیں؟ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

جولائی 24, 2026

جنرل عامر رضا کو ترقی دے کر پاکستان کی نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا پہلا سربراہ مقرر کر دیا گیا

جولائی 24, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم ستمبر 7, 2026
  • پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ستمبر 6, 2026
  • صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 6, 2026
  • نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم ستمبر 6, 2026
  • زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات ستمبر 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.