پاکستان میں طاقت کے کھیل میں عام آدمی اپنے مفادات کی جنگ میں بہت پیچھے کھڑا نظر آتا ہے ۔ عام آدمی کا مقدمہ قومی سیاست میں عملی طور پر بنیادی حقوق کی بنیاد پر بہت کمزور ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مجموعی طورپر عام آدمی ریاستی سطح پر طاقت ور بننے کی بجائے اپنے بنیادی سطح کے مسائل میں الجھا ہوا نظر آتا ہے ۔اسی بنیاد پر ہم ریاست، حکومت اور معاشرے کے درمیان عام آدمی کے مقدمہ میں ایک بڑی خلیج دیکھ رہے ہیں ۔اگرچہ قومی سیاست میں سیاست اور سیاسی جماعتیں عام آدمی کی بات تو بڑی شدت سے کرتے ہیں لیکن ان کی عملی ترجیحات کی طرف دیکھیں تو ان کی حکمت عملی کا محور ایک مخصوص طاقت ور طبقہ ہوتا ہے ۔سیاسی جماعتوں کے منشور اور مختلف نوعیت کی پالیسیوں کو دیکھیں تو اس میں عام آدمی کے مفادات کی عکاسی نہیں ہوتی ۔
ایک عام آدمی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں حکومت یا حزب اختلاف یا دیگر طاقت کے مراکزمیں جو بھی سیاسی رشہ کشی ہورہی ہے اس کا عام آدمی کے مفادات سے کیا تعلق ہے ۔کیونکہ اگر اقتدار یا طاقت کے مرکز میں عام آدمی محض ایک نمائشی حیثیت اختیار کرلے تو ایسی صورت میں عام آدمی کو طاقت اور اقتدار کی سیاست سے کچھ نہیں ملتا۔مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سیاست سمیت بڑے طاقت و ر لوگ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہورہے ہیں جبکہ عام آدمی پہلے کے مقابلے میں اور زیادہ کمزور ہورہا ہے ۔ اس کی بنیاد ی وجہ معاشرے یا ریاست کا وہ نظام ہے جو عملی طور پر استحصال یا طبقاتی تقسیم کی بنیاد پر قائم ہے ۔کیونکہ اس طرز کی تقسیم میں سب سے زیادہ متاثر بھی عام آدمی ہی ہوتا ہے اور اس کی کوئی شنوائی اس نظام میں نہیں ہوتی ۔
عام آدمی کے لیے بنیادی مسائل تعلیم ، صحت ، روزگار، تحفظ، انصاف، پانی ، علاج ، شیلٹر، ٹرانسپورٹ، مہنگائی جیسے امور اہمیت رکھتے ہیں ۔اگر اس کی زندگی میں روزمرہ کے بنیادی نوعیت سے جڑے معاملات میں بہتری ہوگی تو اس کا ریاست ، حکومت اور معاشرے پراعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ویسے بھی عام آدمی کی بڑی توقعات بھی ریاست کے نظام سے ہوتی ہے ۔کیونکہ کمزور او رمحروم افراد کی ذندگی میں اگر کچھ بہتری کا عمل پیدا ہوگا تو یہ کام ریاستی مدد او رحمایت کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔اس لیے عام آدمی کے تناظر میں ہمیں بنیادی طو ر پر زمہ دار ریاست او رحکومت درکار ہوگی جو عام آدمی کے مفادات کو سامنے رکھ کر نہ صرف پالیسی یا قانون سازی کو یقینی بنائے بلکہ اس پر ٹھوس بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا بھی اس کی پہلی ترجیح یا ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا ریاستی و حکومتی نظام کی مضبوط دیوار 1973 کے آئین کے پہلے بنیادی حقوق کی فراہمی کے باب میں آرٹیکل 8سے28تک ہونا چاہیے ۔ کیونکہ یہ 1973کا آئین ہی ہے جو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ وہ عام آدمی کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
عام آدمی کا مقدمہ کیسے مضبوط او رمربوط ہوگا یہ ہی بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو طاقت کے مراکز سمیت عوامی رائے عامہ تشکیل دینے کے انفرادی افراد یا معاون اداروں پر زیر بحث ہونا چاہیے ۔کیونکہ جب تک ہم مسئلہ کو مسئلہ سمجھ کر یا اسے بڑا سمجھ کر قبول نہیں کریں گے تو پھر کیسے اس کی اصلاح کی طرف ہم بڑھ سکیں گے ۔اول تو یہ کہ ہماری ریاست یا حکومتی نظام ذمہ دار لوگوں یا اداروں پرمشتمل ہو جو خود اپنی ذمہ داری کو قبول کرکے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ تحفظ دیں ۔ دوئم ہمیں معاشرے کے اندر ایسے پریشر گروپس یا مضبوط سیاسی جماعتوں سمیت ایک مضبوط میڈیا درکار ہے جو عام آدمی طاقت بن کر حکومت پر بڑے دباو کی سیاست کو پیدا کرسکے ۔کیونکہ عمومی طور پر جب تک خود لوگ یا ایسے ادارے جو عوامی مفاد سے جڑے ہوں باہر نہیں نکلیں گے یا آواز نہیں اٹھائیں گے تو پھر بڑی مثبت تبدیلی کا عمل کیسے ہوگا اور کون اس کو شروع کرے گا ۔
بدقسمتی یہ ہے کہ عام آدمی کے مفادات سے جڑا مجموعی سیاسی نظام طاقت کے سیاسی کھیل میں کہیں الجھ کر رہ گیا ہے ۔ یہ نہیں کہ ہماری سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ میں اچھے لوگ نہیں بلکہ بحران یہ بڑھ گیا ہے کہ ان اچھے لوگوں کے لیے بھی موجودہ سیاسی نظام میں وہ جگہ نہیں جو وہ عام آدمی کے تناظر میں اپنی جنگ لڑسکیں ۔ یہاں ان لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کی اپنی ذاتی جنگ میں ایک یرغمالی کردار کے طو رپر کام کریں ۔ اگر ایسے لوگ جو اچھی شہرت کے مالک ہیں یا واقعی حقیقی تبدیلی کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں توایسے لوگوں کی اس سیاسی نظام میں جگہ بڑھنے کی بجائے سکڑ رہی ہے ۔ان لوگوں کو دولت ، طاقت ، اقتدار اور کرپشن سمیت بدعنوانی کے کھےل میں یا تو حصہ دار بننے پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر وہ اپنی ہی سیاسی جماعتوں یا قیادت کی نظر میں پس پشت چلے جاتے ہیں ۔
یہ بات بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ ہمارے پاس عام آدمی کے لیے سیاسی ، سماجی او رمعاشی نعرے تو بہت موجود ہیں لیکن جب بھی عملی بنیادوں پر دیکھا جائے تو ہمیں عام آدمی کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیںملتی ۔ ایک بحران اچھی حکمرانی کی عدم موجودگی کا بھی ہے ۔ ہمارا سیاسی نظام ، ریاست او رحکومت سے جڑے افراد اچھی حکمرانی سے جڑے بنیادوں اصولوں سے ہی اتفاق نہیں کرتے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ جو سبق دنیا نے اچھی حکمرانی کے لیے زیادہ سے زیادہ نچلی سطح پر اختیارات کی تقسیم یا 1973کے آئین کی شق140-Aکے تحت ایک مضبوط او رمربوط مقامی حکومتوں کا نظام ہے ۔ اس نظام کے تحت جب سیاسی ، انتظامی او رمالی بنیادوں پر اختیارات کی واضح اور شفاف تقسیم ہوگی تو اس کا مثبت اثر جہاں مضبوط مقامی حکمرانی پر پڑے گا وہیں عام آدمی کی زندگی میں بھی ہمیں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کا عمل بھی دیکھنے کو ملے گا۔
عام آدمی کے مقدمہ میں بہتری پیدا کرنے کے لیے ہمیں میڈیا کے محاذ پر بھی بہت کچھ بدلنا ہوگا۔ کیونکہ میڈیا کو افراد کی پسند و ناپسندیا افراد کی حمایت یا مخالفت میں الجھنے کی بجائے بنیادی نوعیت سے جڑے اہم معاملات جن کا عام آدمی کی ز ندگی میں براہ راست اثر پڑتا ہے پر توجہ دینی ہوگی ۔میڈیا کا محض شخصیات میں الجھنا بھی عام آدمی کے مفادات کو کمزور کرتا ہے ۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا سمیت پریشر گروپس سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت پر دباو ڈالیں کہ وہ اپنی سیاست کا رخ ذاتی مفادات ،محاز آرائی ،ٹکراو یا الزامات پر مبنی سیاست پردینے کی بجائے عام آدمی کے تحفظ کی جنگ لڑیں ۔ کیونکہ محرومی او ربنیادی حقوق کی عدم فراہمی کی سیاست نے پورے نظام میںایک منفی خلیج اور بداعتمادی کی فضا کو پیدا کیا ہوا ہے ۔
عام آدمی کی لڑائی مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ اس کے لیے عام آدمی کو مختلف طور طریقوں سے اپنی آوازمیں نئی سیاسی طاقت پیدا کرنا ہوگی ۔کیونکہ ایسے طبقات پر جو عام آدمی کا استحصال کرکے خود اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ان پر بڑا انحصار کرنے کی بجائے خود کو ایک بڑی طاقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔ایسا نظام جو عام آدمی کے مفادات کے برعکس ہو او راس کے نتیجہ میں استحصالی معاشرہ پیدا ہورہا ہو تو ایسے نظام کوقبول کرنے کی بجائے اس سے خود لاتعلقی پیدا کرنا ہوگی ۔لوگوں کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ اسی سیاسی نظام سے تعلق رکھیں گے جو محض عملی بنیادوں پر ان کے مفادات کو فوقیت دے گا ۔یہ عمل محض لفاظی یانعروں تک محددو نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کی واضح اور شفاف اندازمیں شکلیں بھی نظر آنی چاہیے ، تاکہ عام آدمی کا ریاست اور حکمرانوں پر اعتماد بحال ہو۔
( بشکریہ : روزنامہ ایکسپریس )
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا

