Browsing: مظہر عباس

اِس وقت اپوزیشن جماعتیں بھی اپنی اپنی پرواز کر رہی ہیں اور تین حصوں میں تقسیم ہیں۔ پی ٹی آئی، اپوزیشن اتحاد، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کسی پرواز کا حصہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’سیف لینڈنگ‘ کون کرتا ہے اور اگلی پرواز کے ہمسفر کون کون ہوتے ہیں۔

فیڈرل اردو یونیورسٹی کا کیس ہمارے سامنے ہے ۔ ایسے میں طلبہ کیا70 ستر سال کے اُستاد اور ٹیچر بھی کاکروچ تحریک چلاتے ہیں البتہ وہ ہمارے میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتے کیونکہ اس میں وہ ’کلر‘ نظر نہیں آتا۔طلبہ غلط ہو سکتے ہیں، جذباتی بھی ہوسکتے ہیں مگر’غدار‘ نہیں ہو سکتے۔ ’کاکروچ‘ تحریک سے سبق سیکھیں بیماری کا علاج دوا سے ہوتا ہے لاٹھی یا آنسو گیس سے نہیں۔

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان خدشات کا اندازہ تھا اسی لئے کہتے ہیں کہ انہوں نےکسی تقریب یا جلسے میں اس وقت کے صوبائی وزیر بلدیات جام صادق علی کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہِ مذاق ہی سہی کہا، ’’مجھے زمینوں کی بندر بانٹ کی بڑی خبریں مل رہی ہیں بس مزار قائد کو بخش دینا۔ ‘‘

70کی دہائی تک شاید کسی کو سہراب گوٹھ کا پتا تک نہ ہو مگر سپر ہائی وے جہاں سے شروع اور جہاں ختم ہوتی ہے کراچی سے جانے اور پہنچنے تک وہ 80کی دہائی میں اسلحہ اور ڈرگ کا سب سے بڑا اڈہ بن گئی جہاں سے کراچی میں اس کی سپلائی شروع ہوئی اور پھر شہر خون آلود ہوگیا۔