Browsing: سہیل وڑائچ

اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہےاور اس میں اگر اپنوں کی بھی ’’ منجی ٹھک‘‘ رہی ہے تو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ اہل حکم، دباؤ اور احساسات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اپنا یا پرایااوراتحادی یا مخالف،اہم نہیں ہوتے ایجنڈا اہم ہوتا ہے اس میں کسی کی ’’منجی چکی جائے‘‘ یا’’ منجی بسترا گول ہوجائے‘‘ انہیں اس سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ اسکی پروا ۔ اسی لئے تو وہ اہل حکم ہوتے ہیں اور باقی سب اہل ظلم۔

انہوں نے کہاکہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ملک بھر میں آتش بازی کا جال بچھادینگے ہر چھوٹی بڑی جگہ پر آتش بازی کے ماہرین روز رات کو آتش بازی کا اہتمام کیا کرینگے ، آتش بازی کوصنعت کا درجہ دیدیا جائے گا ،آتش بازوں کو حکومت سستے قرضے فراہم کرے گی، ہر تحصیل اور ضلع میں آتش باز افسر مقرر ہوگا ،چھوٹے انتظامی یونٹس میں آتش بازی کے فن کے فروغ سے ملک بھر میں ایکسپورٹ کوفروغ ملےگااور دنیا بھر میں آتش بازی کا سامان ملک سے ہی جایا کرے گا۔

اس زمانے کے ککڑ برائلر کی طرح سست الوجود اور ساکت نہیں ہوتے تھے، وہ کبھی چھت پر چڑھ جاتے کبھی بستروں کے اوپر جاکر بیٹھ جاتے ،بڑی تگ ودو کے بعد ’’چوچا‘‘ گرفتار ہوتا تو ذبح کرنیوالے کی تلاش ہوتی یہ دیسی چوچے بڑی مشکل سے قابو آتے تھے انہیں پھڑ پھڑاتے اور زور لگاتے ہوئے پکڑ کر چھری پھیرنی پڑتی تھی

ماضی کے کئی صاحبان اقتدار کی گردن میں سریےپڑے اور پھر جب وہ روبہ زوال ہوئے تو نہ ان کی عزت رہی اور نہ مقام۔ موجودہ حکومت کو خبردار ہوشیار اور تیار کرنے کا مطلب اسے متنبہ کرنا ہے۔ اس سے درخواست کرنا ہے کہ اپنے زوال کو روک لے خود کو تبدیل کرے وگرنہ تقدیر کا پہیہ گھومے گا اور پھر’’ لاد چلے گا بنجارہ‘‘