ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں اب تک کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) آگے ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق بی این پی تقریباً دو تہائی نشستیں جیت سکتی ہے۔
بی این پی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے طارق رحمان اس کے مرکزی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، پارٹیوں نے ووٹوں میں دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں۔ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو نوجوانوں کی تحریک کی نمائندگی کرتی ہے اور جس نے 2024 میں شیخ حسینہ کو ہٹایا تھا، نے الزام لگایا ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی گئی ہے۔
کم از کم دو دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے بھی اسی طرح کے الزامات کے ساتھ الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ بی این پی نے جماعت اسلامی پر فراڈ کا الزام لگایا ہے۔
بنگلہ دیش میں جمعرات بارہ فروری کو عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ ووٹنگ 4:30 بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد گنتی شروع ہو گئی تھی۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی کے بعد اس بار اصل مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
پیر, ستمبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا

