سڈنی:پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے آخری میچ میں بھی آسٹریلیا نے پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دیکر تین میچوں کی سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔
سڈنی ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان نے آسٹریلیا کو جیت کیلئے 130 رنز کا ہدف دیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان کو میلبرن ٹیسٹ میں 79رنزسے شکست ہوئی، پرتھ ٹیسٹ بھی پاکستان 360 رنزکے بھاری مارجن سے ہارا تھا۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی پہلی وکٹ صفر پر گر گئی، اوپنر عثمان خواجہ ساجد خان کا شکار بن کر پویلین لوٹے۔
میچ کے چوتھے روز اپنی دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے کھانے کے وقفے تک 1 وکٹ کے نقصان پر 91 رنز بنالیے تھے، کھانے کے وقفے کے بعد ڈیوڈ وارنر 57 رنز بناکر ساجد خان کا شکار ہوئے۔
اسٹیون اسمتھ نے 4 رنز اور مارنس لبوشین نے 55 رنز بنا کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔
آسٹریلیا نے چوتھے روز پاکستان کا دیا ہوا 130 رنز کا ہدف 2 وکٹوں کے نقصان پر 25.5 اوورز میں حاصل کیا۔
اس سے پہلے چوتھے دن کے آغاز میں پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں 115 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی تھی۔
پاکستانی بیٹرز محمد رضوان 28، عامر جمال 18 اور حسن علی 5 رنز بنا کر آؤٹ ہو ئے جبکہ عبداللہ شفیق، شان مسعود، ساجد اور سلمان صفر پر آؤٹ ہوئے تھے، صائم ایوب 33 اور اسٹار بیٹر بابراعظم صرف 23 رن بنا سکے۔
پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں ہیزل ووڈ نے 4 اور نیتھن لائن نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

