زبان اور بولی کا فرق
زبان (Language) اور بولی (Dialect) کے درمیان بنیادی فرق ان کے دائرہ کار، اصولوں اور استعمال کا ہوتا ہے۔
زبان (Language)
علاقائی وسعت: زبان ایک بہت بڑے علاقے او کثیر آبادی کے ذریعہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
باضابطہ اصول: زبان کے اپنے طے شدہ قواعد و ضوابط (Grammar) اور لغت ہوتی ہے۔
زبان کا اپنا باضابطہ رسم الخط (Script) ہوتا ہے اور اس میں سرکاری خط و کتابت، عدالتی امور، صحافت اور اعلیٰ ادب تخلیق ہوتا ہے۔
معیاری حیثیت
زبان ایک معیاری (Standard) شکل رکھتی ہے جبکہ
بولی (Dialect) کسی خاص اور چھوٹے سے علاقے یا کسی مخصوص گروہ تک محدود ہوتی ہے۔
بولی دراصل کسی بڑی زبان کی ہی ذیلی شاخ یا علاقائی روپ ہوتی ہے۔
بولی زیادہ تر روزمرہ کی عام گفت و شنید میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کے لیے زبان کی طرح سخت اصلاح یا تحریری اصول ضروری نہیں ہوتے۔
تلفظ اور لہجہ
بولی میں الفاظ کی ادائیگی، تلفظ اور بعض اوقات چھوٹے موٹے لسانی فرق پائے جاتے ہیں۔
کسی بولی کو زبان بنانے میں جغرافیائی سیاسی اور سماجی عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں ایک مثال نارویجن اور ڈینش کی ہے جو باہمی طور پر قابل فہم ، یکساں رسم الخط جیسی بہت زیادہ مماثلت رکھنے کے باوجود الگ زبانیں ہیں ۔
اس کے علاوہ سماجی شناخت بھی ایک عامل ہے ، اگر ایک کثیر آبادی اصرار کرتی ہے کہ ہماری زبان کا نام فلاں ہے تو اسے تسلیم کیا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اس نکتے کی طرف کی لہندا پنجابی کی بولی ہے یا الگ زبان تو جارج ابرھام گریرسن نے اس مسئلے کو بڑی تفصیل سے دلائل کے ساتھ حل کیا ہے۔
جناب گریئرسن کی رائے بالکل واضح تھی،
گریئرسن کے مطابق لہندا اور پنجابی دو الگ الگ زبانیں ہیں انہوں نے اپنے Linguistic Survey of India – Vol VIII, Part 1 میں دونوں کو الگ الگ زبانوں کے طور پر درج کیا ہے۔
ان کے دلائل
1. جغرافیائی تقسیم
پنجابی (مشرقی پنجابی) لاہور، امرتسر، گوجرانوالہ، جالندھر، لدھیانہ تک۔
لہندا (مغربی پنجابی) ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، میانوالی، شاہ پور، پوٹھوہار، ڈیرہ جات
2. لسانی فرق
گریئرسن نے لکھا کہ لہندا میں مستقبل کا زمانہ "س” سے بنتا ہے _کرے-ساں_ (میں کروں گا)- جبکہ مشرقی پنجابی میں "گ،، سے _کراں-گا_
– ضمیر اور فعل کی گردان بالکل مختلف ہے –
– 2 یہ سندھی اور پنجابی کے درمیان کی ایک پل زبان ہے ۔
– 3. ان کی مشہور اصطلاح
انہوں نے لہندا کو "Lahnda – Western Punjabi”کا نام دیا، لیکن ساتھ ہی وضاحت کی کہ نام میں "پنجابی” لکھنے سے مراد یہ نہیں کہ یہ پنجابی کی بولی ہے، بلکہ جغرافیائی قربت کے لیے ہے۔
> گریئرسن لکھتے ہیں: _”Lahnda is not a dialect of Punjabi, but a distinct language, though closely allied to it.”_
بعد کی تحقیق
گریئرسن کے بعد آج کے ماہرینِ لسانیات (جیسے ڈاکٹر کرسٹوفر شیکل) اسی "لہندا” کو سرائیکی کہتے ہیں۔ پاکستان میں آج جسے سرائیکی کہا جاتا ہے، وہی گریئرسن کی لہندا ہے۔ جس میں ملتانی، جٹکی، دیرے والی، تھلوچی، اعوانکی پوٹھوہاری سب بولیاں شامل ہیں۔
یعنی ملتانی یا آج کی سرائیکی گریئرسن کے مطابق پنجابی کی بولی نہیں، بلکہ لہندا (آج کی سرائیکی) ایک الگ زبان ہے اور اس کی اپنی تاریخ اور گرامر ہے۔
اس لیے جب گریئرسن نے اسی "آوارہ بیٹے” والی کہانی کا ترجمہ کروایا تو انہوں نے پنجابی کا الگ اور لہندا (ملتانی، شاہ پوری) کا الگ ترجمہ شامل کیا۔
پاکستان میں 1960 کے بعد ملتانی ریاستی ڈیرے وال تھلوچڑی کو ملا کر سرائیکی کو ایک الگ زبان کے طور پر تسلیم کرنے کی تحریک چلی اور اب مردم شماری میں یہ الگ زبان ہے۔ اس لیے آج بہت سے ماہرین جھنگوچی اور شاہ پوری کو پنجابی اور سرائیکی کے درمیان پُل (Transitional dialects) کہتے ہیں۔ پوٹھوہاری کے بارے میں جدید ماہرین اسے پنجابی سے زیادہ پہاڑی پوٹھوہاری نامی ایک الگ گروہ میں رکھتے ہیں جس کا تعلق کشمیری اور ہندکو سے زیادہ ہے۔
جھنگوچی ،شاہ پوری کے بارے میں پنجاب یونیورسٹی اور پنجابی کے ادارے انہیں اب بھی پنجابی کی بولیاں کہتے ہیں، جبکہ سرائیکی وسیب کے محقق انہیں لہندا یا سرائیکی سے جڑی بولیاں قرار دیتے ہیں۔
اگر ہم گریئرسن کی کلاسیکی تقسیم کو سامنے رکھیں تو پنجابی کی بولیاں معیاری پنجابی ماجھی، مالوی، دوآبی ہیں
جبکہ شاہ پوری، جھنگوچی، پوٹھوہاری، ہندکو لہندا یا موجودہ سرائیکی کی بولیاں ہیں ۔
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

