وہ بھی کیا دن تھے جب بجلی کا بل دیکھتے ہی کلیجہ منہ کو نہیں آتا تھا۔اب تو بل کھولتے ہی لگتا ہے کہ جیسے کسی نے میٹر کے اندر چھوٹا سا ایٹمی ری ایکٹر لگا دیا ہو۔یونٹس گنتے گنتے ہم خود بھی گنے جانے لگے ہیں۔پٹرول کا ریٹ سن کر رنگ فق نہیں ہوتا تھا۔سبزی کے دام سن کر دل میں یہ گماں نہیں ہوتا تھا کہ یہ بندہ اصل میں ڈاکو ہے۔جو سبزی کے بہانے لوٹ رہا ہے۔گیس کا بل دیکھ کر یوں نہیں لگتا تھا کہ ہم نے چولہا نہیں ، کہوٹہ کا پاور پلانٹ چلایا ہے۔وہ قصے اب داستان پارینہ بن چکے ہیں۔اب تو سانس لینے پر بھی ٹیکس کی افواہیں اڑتی ہیں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ہوا مہنگی ہونے سے پہلے ہمارے پھیپھڑے کچھ اور آکسیجن کھینچ لیں۔یا پھر اوپر والا انہیں اوپر کھینچ لے جو ایسا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ پہلے تنخواہ آتی تھی تو ساتھ خوشیاں بھی لاتی تھی۔
اب تنخواہ آتی ہے تو بل قطار بنا کر استقبال کرتے ہیں۔ رقم آنے کی خوشی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ پہلےکون سا بل ادا کریں ۔ تنخواہ اب تنخواہ نہیں رہی، صرف بلوں کے درمیان ایک مختصر سی جنگ بندی کا اعلان بن کر رہ گئی ہے۔ پہلے مہینے کے آخر میں بل دیکھ کر سکون ملتا تھا۔ جیسے محبوب کا ہلکا سا پریم پتر آیا ہو۔ آج میٹر باکس کی طرف دیکھتے ہوئے ایسا دورہ پڑتا ہے۔ جیسے اچانک گھر میں چھ سات مہمان آ گئے ہوں۔ یادش بخیر، بازار سے پھل خریدتے وقت جیب کو اتنی ٹینشن نہیں ہوتی تھی جتنی آج پیاز یا ٹماٹر خریدتے وقت ہوتی ہے۔ پہلے لوگ کلو کلو سبزی لاتے تھے۔ اب آدھا پاؤ ٹماٹر مانگتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے کسی خفیہ ادارے سے جوہری راز مانگ رہے ہوں۔
ٹماٹر کی جو عزتِ سادات بڑھ چکی ہے۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ اگلے الیکشن میں وہ کسی آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا ہوگا۔ اور اس کا انتخابی نشان ’ایک کلو، ایک ووٹ‘ ہو گا ۔ اب تو وہ دور آ گیا ہے کہ جی چاہتا ہے کسی غیر ملک کی ڈونکی لگا کر یہاں سے بھاگ چلیں۔ اسی بارڈر پار فرار کے منصوبے سوچتے ہوئے کل جو گلی کی نکڑ پر پہنچا ۔تو دیکھا کہ ملا ہُد ہُد صاحب سر پر ہاتھ دھرے اکڑوں بیٹھے ہیں ۔ پہلے تو گمان ہوا کہ شاید قبلہ پرانی قبض کا شکار ہیں ۔اور حکمت کا کوئی نسخہ یاد کر رہے ہیں ۔ مگر قریب جانے پر معلوم ہوا کہ غمِ روزگار نے پکڑ رکھا ہے۔ قریب ہی سرکاری مولوی ، حضرت صاحب کھڑے تھے۔طنزیہ کہنے لگے۔ملا جی، تم تو ایسے اداس بیٹھے ہو ،گویا بیوی کے پاس بیٹھے ہو۔ملا بھنا کر بولے۔حضرت صاحب! کچھ خدا کا خوف کریں۔ آٹا چھ سو روپے کلو ہو گیا ہے اور سبزی والے نے ٹماٹر کو ہاتھ لگانے کی الگ سےفیس رکھ دی ہے۔ اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دے دیا گیا ہو ۔ رہی سہی کسر بجلی کے بلوں نے پوری کر دی ہے۔ اگر یونٹس کا یہی حساب رہا تو موبائل چارج کرنے کے لیے بھی بینک سے قرضہ لینا پڑے گا۔ بل دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے واپڈا والوں نے بجلی کا میٹر نہیں، ہمارے گھر پر تاوان کا نوٹس چسپاں کر دیا ہے ۔ بندہ جئے تو جئے کیسے؟۔
حضرت صاحب عرف سرکاری مولوی نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ملا جی ! آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ مہنگائی کہاں ہوئی ہے ؟ ۔صرف وہ چیزیں مہنگی ہوئی ہیں جن کی عوام کو ضرورت ہے۔باقی زندگی پرسکون ہے۔معیشت تو اڑان بھر رہی ہے۔بس عوام زمین پر رہ گئے ہیں۔ ٹماٹر اب سبزی نہیں رہا، قومی اثاثہ بن گیا ہے۔ جو اس پر اعتراض کرے وہ ترقی مخالف ہے۔ یقین نہ آئے تو سرکاری ٹی وی لگا لو۔۔۔۔وہاں سب سستا ہے۔ سرکاری مولوی کی یاوہ گوئی سن کر ملا بلبلاتے ہوئے بولے۔پر سکون زندگی؟ یہ دیکھو مولوی صاحب! یہ گیس کا بل ہے ۔ چولہا جلتا نہیں مگر ہمارا دل ضرور جلتا ہے۔اب تو لگتا ہے کہ محکمہ گیس بھی ہمارے غم میں شریک ہو گیا ہے اس لیے گیس نہیں بھیجتا۔ اور جب گیس آتی بھی ہے تو یوں جیسے سرحد پار سے کوئی بچھڑا ہوا عزیز صرف آدھے گھنٹے کے لیے آیا ہو۔
یہ سن کر سرکاری مولوی نے پہلے تو کان پر ہاتھ رکھ کر شوخی سے کہا ۔ دل جلتا ہے تو جلنے دے آنسو نہ بہا فریاد نہ کر۔ پھر آنکھیں نکالتے ہوئے کہنے لگا۔اصل بات یہ ہے کہ تم جیسی ناعاقبت اندیش عوام نے ناشتے میں پروٹین کی جگہ، زیادہ پیٹ بھر کر روٹی کھانا شروع کر دیا ہے۔ اس لیے بل بھی زیادہ آرہے ہیں ۔ جہاں تک پیاز اور ٹماٹر کا تعلق ہے تو وہ اب سبزیاں نہیں رہے۔حکومتی زبان میں لگژری آئٹمز ہیں۔ اور لگژری چیزیں سستی اچھی بھی نہیں لگتیں ۔ حضرت صاحب عرف سرکاری مولوی کی گفتگو سن کر ملا ہُد ہُد نے آسمان کی طرف دیکھا اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہنے لگے۔ یا اللہ! ہمارے حکمرانوں کو عقلِ سلیم عطا فرما۔ اور اگر یہ منصوبہ بھی بقیہ ترقیاتی منصوبوں کی طرح تاخیر کا شکار ہے۔ تو کم از کم انہیں ایک مہینے کے تمام بل اپنی جیب سے ادا کرنے کی توفیق دے دے۔ مجھے یقین ہے کہ پہلی ہی قسط کے بعد ان کی معاشی بصیرت بحال ہو جائے گی۔۔۔۔اور اگر پھر بھی نہ ہوئی تو سمجھ لیں کہ بصیرت نہیں، ان کی وارنٹی ہی ختم ہو چکی ہے!۔اتنا کہنے کے بعد ملا ہُد ہُد نے لہجے میں مزید رقت پیدا کرتے ہوئے التجا کی۔یا پھر ہمارے حضرت صاحب کو بھی کسی پوش منڈی کا سیکٹر کمانڈر بنا دے۔تاکہ انہیں بھی معلوم ہو سکے کہ ٹماٹر اب سبزی ہے، پھل ہے یا سرمایہ کاری کی کوئی نئی اسکیم!
اتوار, اکتوبر 18, 2026
تازہ خبریں:
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
- پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی

