لندن : آرچ بشپ آف کینٹربری نے پاکستانی مذہبی رہنما محمد طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا اعزاز واپس لے لیا ہے، جو انھیں بین المذاہب ہم آہنگی اور مفاہمت کے فروغ کے اعتراف میں گذشتہ ہفتے دیا گیا تھا۔
حافظ طاہر اشرفی کو یہ اعزاز ڈیم سارہ ملیلی نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں پیش کیا تھا۔ انھیں پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور مختلف مذاہب کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے سراہا گیا تھا۔
تاہم، لیمبتھ پیلس کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب سنہ 2007 کے ان بیانات کی طرف توجہ دلائی گئی جن میں طاہر اشرفی نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو ’روس، امریکہ اور برطانیہ کے خلاف اسلام کے لیے لڑنے والا مجاہد‘ قرار دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بن لادن کو ’سیف اللہ‘ یعنی اللہ کی تلوار کا لقب دینا چاہیں گے۔
حافظ طاہر اشرفی نے بی بی سی سے گفتگو میں موقف اختیار کیا کہ ان کے بیانات کو ’سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا‘ اور ان کے خلاف ردعمل ’غیر منصفانہ مہم‘ کا حصہ ہے۔
پاکستان میں طاہر اشرفی میڈیا اور سوشل میڈیا پر متحرک رہتے ہیں۔ متعدد تنازعات میں بھی ان کا نام سامنے آتا رہا ہے۔ ماضی میں ان کی اسلامی نظریاتی کونسل میں جھگڑے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ سعودی عرب کے حکمرانوں کے ساتھ تو جیسے انھوں نے سرگرم تعلقات بنا رکھے ہوں۔ ان کے سوشل میڈیا پر پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پر عربی میں پوسٹس اور ٹویٹ بھی بکثرت مل جاتی ہیں۔
اب لیمبتھ پیلس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’طاہر اشرفی کے بعض ایسے تبصرے سامنے آئے ہیں جن کے بعد ہمیں اس اعزاز پر نظرثانی کرنا پڑی، اور اب ہم تصدیق کرتے ہیں کہ یہ اعزاز واپس لے لیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے، اور اسامہ بن لادن کو ان حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔
حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ 2007 میں اسامہ بن لادن کے بارے میں ان کے تبصرے دراصل سر سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ دیے جانے پر بہت سے مسلمانوں میں پائے جانے والے غم و غصے کے تناظر میں کیے گئے تھے۔تاہم انھوں نے ایک مصنف اور ایسے شخص کے درمیان موازنہ کرنے کے اپنے مؤقف کا دفاع بھی کیا، جسے ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
طاہر اشرفی پر تنقید صرف اسامہ بن لادن سے متعلق ان کے بیانات تک محدود نہیں رہی۔
گذشتہ ہفتے بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پر انھیں اعزاز دیتے ہوئے لیمبتھ پیلس نے اس بات کا حوالہ دیا تھا کہ انھوں نے 2012 میں رمشا مسیح کے مقدمے میں کردار ادا کیا تھا۔ رمشا مسیح پاکستان کی ایک کم عمر مسیحی لڑکی تھیں جن پر توہینِ مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود طاہر اشرفی عمومی طور پر پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین کے حامی رہے ہیں۔ ان قوانین کے تحت 1980 کی دہائی کے اواخر سے اب تک اندازاً دو ہزار افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
ان مقدمات میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسیحیوں اور احمدیوں، کا تناسب نسبتاً زیادہ رہا ہے، اگرچہ بڑی تعداد میں سنی مسلمان بھی ان قوانین کی زد میں آئے ہیں۔
طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ توہینِ مذہب کے قوانین درحقیقت ’جانیں بچاتے ہیں‘ کیونکہ یہ لوگوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے روکتے ہیں۔
اس کے برعکس، ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ سال کہا تھا کہ یہ قوانین مذہبی امتیاز کو برقرار رکھتے ہیں اور بعض اوقات غریب اور اقلیتی طبقات کو نشانہ بنانے، غیر قانونی بے دخلیوں اور زمینوں پر قبضے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان قوانین میں فوری اصلاحات کی جائیں تاکہ انھیں کمزور اور پسماندہ برادریوں کے خلاف ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
( بشکریہ : بی بی سی )
اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
ایڈیٹر4 Views

