دوپہر کا وقت تھا۔ سورج سوا نیزے پر نہیں بلکہ آدھے نیزے پر کھڑا پوری شدت سے دھوپ پھینک رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے آسمان سے پگھلا ہوا تانبا برس رہا ہو۔ ایڑھی سے چوٹی تک پسینے کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ میں اور ملا کھد بد ایک ایسے ناگزیر کام کے سلسلے میں ( بازار میں) خوار ہو رہے تھے جس کا مقصد ہم گرمی کے مارے بھول چکے تھے۔ پیاس کا وہ عالم تھا کہ اگر اگلے چند منٹوں میں ہمیں ٹھنڈا پانی یا کولڈ ڈرنک نہ ملتی، تو میرے حلق سے ‘قاؤں قاؤں’ اور کھدبد صاحب کے حلق سے ‘چیوں چیوں’ کی آوازیں نکلنا شروع ہو جاتیں ۔ لیکن اس کے باوجود ہم دونوں اس ڈر سے کولڈ ڈرنک کا نام نہیں لے رہے تھے۔ کہ اگر کسی ایک نے بھی اس کا نام لے لیا، تو بل کا سارا مدعا اسی کے سر مڑھ دیا جائے گا۔ چنانچہ اس خوفناک حادثے سے بچنے کے لیے ہم چاروں طرف دیکھتے ہوئے کسی شناسا چہرے کی تلاش میں تھے۔
پھر اچانک ہی ہماری نظر، دور سے آتے ہوئے ملا ہدہد پر جا پڑی۔ جو بیگم کے حکم پر بازار سے سودا سلف لینے نکلے تھے۔ہمیں دیکھتے ہی ملا کے چہرے پر بارہ بج گئے اور انہوں نے ایک خرانٹ گوریلے کی طرح پینترا بدلا اور دوسری گلی کی طرف نکلنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن ہم نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔ شکار کو بھاگتے دیکھ کر ہمارے اندر بجلی سی بھر چکی تھی چنانچہ ہم نے ملا کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے اسے پکڑ ہی لیا۔ ملا کو دبوچنے کے ساتھ ہی پہلے تو کھد بد نے فاتحانہ نعرہ لگایا پھر ہلکا سا سٹیپ کرتے ہوئے بولے ’’ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں‘‘۔
اتنا کہہ کر انہوں نے ملا کا دامن کچھ ایسے ملنگانہ انداز میں کھینچا جیسے کوئی غرض مند پیر سائیں کی چوکھٹ پکڑتا ہے۔ اور انتہائی لجاجت سے بولے ‘ہدہد بھائی! یہ دنیا فانی ہے آخر ایک دن ہم سب نے مر جانا ہے۔ جس اللہ کو تم نے جان دینی ہے۔اسی کے نام پر ہمیں ایک ایک ٹھنڈی بوتل تو پلا دو۔ جنت میں گھر کے ساتھ ساتھ ثوابِ دارین بھی حاصل ہو گا۔
ملا نے کھد بد کی بات بڑے ہی دھیان سے سنی۔ اس کے بعد اپنی مختصر مگر جامع داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پہلے دائیں پھر بائیں جانب دیکھا اس کے بعد اچانک ہی وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ جو کہ کھدبد نے بڑی پھرتی سے ناکام بنا دی۔ اور ایک دفعہ پھر وہی سٹیپ دہراتے ہوئے لہک لہک کر بولے۔ ’’ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں‘‘ ۔ادھر فرار سے ناکامی کے بعد ملا نے ایک ٹھنڈی مگر کربناک و دردناک آہ بھری۔ پھر ہم سے خطاب کرتے ہوئے بولے میرے بھائیو! تمہاری بات سر آنکھوں پر۔ بے شک میں نے جان اللہ کو ہی دینی ہے۔۔ لیکن حساب بیگم کو دینا ہے۔ اور دوستو تم تو جانتے ہو کہ بیگم کے حساب سے تو بڑے بڑے کیلکولیٹر بھی پناہ مانگتے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور مہنگائی کا رونا روتے ہوئے بولے۔ کیا بتاؤں یارو اس مہنگائی نے تو ہنستے کھیلتے گھر اجاڑ کر رکھ دیے ہیں۔ یہی دیکھ لو حجام کی فیس بچانے کے لیے اب تو میرے اور بچوں کے بال بھی تمہاری بھابھی ہی کاٹتی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے جیسے ہی سر سے عمامہ سرکایا، ہم دونوں کی مشترکہ چیخ نکل گئی۔ ملا کا سر کسی میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا جہاں قینچی نے اندھا دھند بمباری کی تھی۔ بال کٹے نہیں تھے، بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے چیل کووں نے نوچے ہوں۔ سر کا یہ ہولناک جغرافیہ دکھانے کے بعد انہوں نے دوبارہ عمامہ فٹ کیا اور آہ بھر کر بولے۔اب پتہ چلا؟ کہ اس گرمی کے باوجود میں ہر وقت عمامہ کیوں باندھے رکھتا ہوں؟
ملا کے عبرتناک سر کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم نے ان کی مختصر مگر جامع داڑھی کے ساتھ ان کا دامن بھی چھوڑ دیا۔ جان چھوٹنے پر ملا نے یوں سکھ کی سانس لی جیسے آئی ایم ایف کی قسط منظور ہونے پر وزیرِ خزانہ سانس لیتے ہیں۔
اب بازار کے اسی چوراہے پر ہمارے ساتھ ملا ہدہد بھی کھڑے کسی چوتھے شکار کی تلاش میں تھے ۔ہمارے حلق سوکھ کر مزید کانٹا ہو چکے تھے اور ہم کسی ایسے کنوارے شناسا کی تلاش میں تھے۔۔جس کا حساب لینے والی ابھی اس کے حجالئہ عقد میں نہ آئی ہو۔
ہمیں وہاں کھڑے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اچانک ہدہد نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا میرے خیال میں کام بن گیا ہے۔ ہم نے چونک کر اشارے کی سمت دیکھا تو مولانا اکڑ بکڑ اپنے ہیبت ناک جثے کے ساتھ کھوئے ملائی والی ریڑھی پر کھڑے قلفیاں لے رہے تھے ۔ٹھنڈی ٹھار اور مزے دار قلفیوں کو دیکھتے ہی ہمارے منہوں میں آبِ دہن کا ایسا سیلاب آیا کہ پیاس کی شدت خودبخود ڈوب کر مر گئی۔اور ہم تینوں پیاسے گیدڑوں کی طرح مولانا کی طرف لپکے۔ پھر جیسے ہی مولانا نے قلفیوں کی خریداری مکمل کرتے ہوئے تھرمس کو بند کیا۔تو عین اسی وقت ہم تینوں نے بیک وقت حلق کے پیچھے سے آوازیں نکالتے ہوئے انہیں السلام و علیکم یا حضرت جی کہا۔ آواز سنتے ہی سب سے پہلے وہ قلفیوں والے تھرموس کو اپنے جبے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیں پہچاننے سے ہی انکار کرنے لگے تھے۔ لیکن پھر ہمارے منہوں سے رالیں ٹپکتے دیکھ کر انہوں یہ ارادہ ترک کردیا۔ اسی اثناء میں ملا ہدہد قلفیوں والے تھرموس کو ندیدی نظروں سے گھورتے ہوئے بولے۔ مولانا آپ سے بسلسہ شریعت راہنمائی درکار ہے اور وہ یہ کہ کھوئے ملائی والی قلفی کھانے کے بعد پہلے ملائی والا ڈکار آتا ہے یا کھوئے والا؟۔ پھر ہونٹوں پہ زبان بھیرتے ہوئے بولے۔ علمائے حق کا اس بابت کیا کہنا ہے؟ مولانا نے ہم تینوں کے رال ٹپکاتے ہوئے چہروں کو غور سے دیکھا اور بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔ چنانچہ انہوں نے تھرمس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس ڈبے میں کل آٹھ قلفیاں ہیں چھ میری جبکہ دو میں نے ڈرائیور کے لیے لی تھیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ڈرائیور کی قلفیاں تو دو ہیں اور تم تین عدد ہو، اب یہ دو قلفیاں ڈرائیور سمیت چار بندوں میں کیسے بانٹی جائیں؟۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولے چلو قرعہ اندازی کر لیتے ہیں۔جو جیتا وہی قلفی کا سکندر ہو گا۔ پھر ہماری ہماری طرف انگلی کا اشارہ کرتے کہنے لگے اکڑ بکڑ بمبے بو۔۔۔اسی نوے ۔۔ہم نے محسوس کیا کہ ڈرائیور کو جتانے لئے مولانا گنتی میں جان بوجھ کر ہیرا پھیری کر رہے ہیں چنانچہ اس سے قبل کہ وہ پورے سو کا اعلان فرماتے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہی دفعتاً ملا کھدبد نے ان کے ہاتھ پہ جھپٹا مارا۔ اور قلفیوں والے تھرموس کو لے کر چمپت ہو گئے۔ پھر تھوڑی دور جا کر رکے ۔ Cتھرمس کا ڈھکن کھولا اس میں سے قلفی باہر نکالی اور اپنا مشہور زمانہ ‘سٹیپ’ دہرانے سے پہلے قلفی پر ایک بڑا سا چک مارا۔ ۔پھر مولانا کی طرف دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں بولے۔ بجلی بھری ہے میرے انگ انگ میں !
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

