نیویارک: نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہَش منی کیس میں سزا سے بچ گئے تاہم ان کا جرم برقرار ہے۔
نیویارک کی فوجداری عدالت میں ٹرمپ کو سزائے جانے کے لیے سماعت ہوئی جس میں جج نے کہا کہ ٹرمپ کو جیل میں قید نہیں کیا جائے گا اور نہ ان پر کوئی جرمانہ ہوگا۔
عدالت نے ٹرمپ کی رہائی کا فیصلہ دیتے ہوئے پیسے دے کر چھپانے کا جرم ٹرمپ کے ریکارڈ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا۔
عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ امریکی تاریخ کے پہلے صدر ہوں گے جو مجرمانہ ریکارڈ کے ساتھ صدارت کا عہدہ سنبھالیں گے۔
فحش اداکارہ رقم ادائیگی کیس میں ٹرمپ پر الزامات درست قرار، امریکی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر کو سزا
خیال رہے کہ گزشتہ سال مئی میں امریکی عدالت نے فحش اداکارہ کو رقم کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ٹرمپ پر عائد الزامات درست قرار دیتے ہوئے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر فحش فلموں کی اداکارہ اسٹارمی ڈینئلز کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی سے متعلق 34 الزامات عائد کیے گئے تھے، جیوری نے تمام 34 الزامات کو درست قرار دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ ان کے اسٹارمی ڈینئلز کے ساتھ جنسی تعلقات تھے اور انہیں چھپانے کے لیے 2016 کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اسٹارمی ڈینئلز کو رقم دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیت گئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کو سزائے سنائے جانے کے لیے کیس کی مزید سماعت ابتدائی طور پر 11 جولائی 2024 کو ہونی تھی جو متعدد مرتبہ ملتوی ہوئی۔
(بشکریہ:جیونیوز)
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

