Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
بدھ, ستمبر 23, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
  • امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
  • دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
  • اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
  • ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » سید مجاہد علی کا تجزیہ: بنگلہ دیش کی مفرور وزیر اعظم اور بلوچستان کے نودریافت شدہ دہشت گرد
تازہ ترین

سید مجاہد علی کا تجزیہ: بنگلہ دیش کی مفرور وزیر اعظم اور بلوچستان کے نودریافت شدہ دہشت گرد

ایڈیٹراگست 6, 202445 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
hasina wajid
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

بنگلہ دیش میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم حسینہ واجد کو استعفیٰ دے کر ملک سے فرار ہونا پڑا ہے۔ آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں سے مشاورت کے بعد عبوری حکومت قائم کریں گے۔ انسانی حقوق اور معاشی سہولتوں کے لیے ہونے والے اس احتجاج کا بظاہر اختتام ایک نئے آمرانہ دور پر ہونے والا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں پاک فوج نے بلوچستان میں احتجاج کرنے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی کو دہشت گردوں کی گماشتہ قرار دیا ہے۔
1971 تک پاکستان کا حصہ رہنے والے ملک میں جمہوریت کے نام پر شخصی آمریت قائم کرنے والی حکومت کا زوال ایک مفصل تجزیے کا موضوع ہونا چاہئے لیکن پاکستانی امور پر نگاہ رکھتے ہوئے ، ان رویوں اور اعلانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ملک کے مستقبل ، خوشحالی، نظام کے استحکام بلکہ ملکی سالمیت کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔ بلوچ یک جہتی کمیٹی کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے سخت اور دو ٹوک ریمارکس نے انسانی حقوق اور معاشی معاملات میں حصہ داری کے حوالے سے چلائی گئی ایک عوامی تحریک کے ساتھ براہ راست تصادم کی دعوت دی ہے۔ عام طور سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو منظم اور پرامن عوامی تحریک کہا جاتا ہے ۔ اس کمیٹی نے اس سے پہلے اسلام آباد میں بھی دھرنا دیا تھا اور اپنے مطالبات پر توجہ حاصل کرنے کے بعد اسے پر امن طور سے ختم بھی کردیا تھا۔ اب تقریباً ان ہی مطالبات کے لئے بلوچستان میں گوادر کے مقام پر دھرنا دینے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حکام کی طرف سے دھرنے میں شرکت کے لیے آنے والوں کے راستے روکے گئے ۔ اسی لیے ان مظاہرین نے ہر اس مقام پر دھرنا دے دیا جہاں وہ موجود تھے۔ اس طرح بعض شاہراہوں پر ٹریفک متاثر ہوئی۔
بلوچستان کی حکومت بلوچ یک جہتی کمیٹی کے ساتھ 2 اگست کو ایک معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی ۔ اس معاہدے کے مطابق کمیٹی نے گرفتار شدہ کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ ماننے پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن اس دوران میں کچھ عملی مشکلات حائل ہوئیں اور اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ ملکی میڈیا نے چونکہ اس دھرنے کے بارے میں خبروں کا بلیک آؤٹ کیا ہؤا ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اور کیسے غلط فہمی پیدا ہوئی لیکن آخری خبروں کے مطابق صوبائی حکومت اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہؤا ہے اور تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ البتہ ملک کی طاقت ور فوج کی جانب سے بلوچ یک جہتی کمیٹی پر دہشت گردوں کا ایجنڈا مکمل کرنے کا الزام عائد کرکے نہ صرف ان مذاکرات کو مشکوک بنا دیا گیا ہے بلکہ مستقبل قریب میں بلوچ عوام اور ریاست پاکستان کے رشتے میں مزید دراڑ پڑنے کا اندیشہ بھی پیدا ہؤا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے علاوہ فوج کی پوری اعلیٰ قیادت کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان اس وقت ایسے تنازعہ اور تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ رائے اس پوری صورت حال سے باہر بیٹھے ہوئے لوگ دے سکتے ہیں، البتہ اندر سے ان پر غور کرکے فیصلے کرنے والوں کے پاس ضرور کچھ ایسے زاویے ہوں گے جن کی بنیاد پر وہ اپنی رائے بناتے ہیں۔
اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ آئی ایس پی آر کے ڈائیریکٹر جنرل نے آج کی پریس کانفرنس میں کیا فرمایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت دہشتگرد تنظیموں، غیرقانونی کام کرنے والے عناصر، سمگلرز اور بھتہ خوروں کی پراکسی یعنی گماشتہ ہے جو بیرونی فنڈنگ سے فوج کے خلاف پروپیگنڈاکرتی ہے۔ یہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی نام نہاد لیڈرشپ دہشتگرد تنظیموں، الیگل سپیکٹرم اور کریمنل مافیا کی ایک ’پراکسی‘ ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس کمیٹی کو یہ کام ملا ہے کہ جوقانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں ، دہشتگردی ،کریمنل مافیا، بھتہ خوروں کے خلاف کام کر رہے ہیں، ان کو بدنام کیا جائے۔ ان کے خلاف پروپیگنڈاکیا جائے۔بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کو متنازع بنایا جائے۔کمیٹی کا طریقہ کار یہ ہے کہ بیرونی بیانیے اور بیرون فنڈنگ پر ایک جتھا جمع کرو، اس جتھے کے گرد معصوم شہریوں کو ورغلاؤ، ریاست کی رٹ کو چیلنج کرو، پتھراؤ کرو، آگ لگاؤ، بے جا مطالبات پیش کرو، اور جب ریاست جواب دے تو معصوم بن جاؤ‘۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ ’بیرونی ایجنڈے والے پیچھے بیٹھے ہیں۔ وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نام پر ان کے حق میں بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وہ تماشا ہے جو آپ نے گزشتہ دنوں گوادر میں دیکھا‘۔ بنیادی حقوق اور لاپتہ افراد کے بارے میں سوال کرنے والی تحریک کے خلاف ایسے شدید اور سنگین الزامات عائد کرکے ایک ناگوار سنگین صورت حال پید کی گئی ہے۔ فوج کے ترجمان نے ایک ایسے وقت میں یہ سخت بیان دینے کی ضرورت محسوس کی ہے جب صوبے کی منتخب حکومت ان عناصر سے بات چیت کے ذریعے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں بھی پارلیمنٹ موجود ہے اور ایک جمہوری سیٹ اپ کام کررہا ہے۔ ایسے میں فوج کو آگے بڑھ کر ایک صوبے میں چند معاملات پر احتجاج کرنے والوں کو سخت پیغام دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے تھی۔ یہ پیغام نہ صرف فوج کے متعین آئینی مینڈیٹ سے ماورا ہے بلکہ اس سے منتخب حکومتوں کے لیے کام کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔
عالمی تعلقات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ دوست ممالک اور عالمی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچا رہے ہیں کیوں کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ ملک میں حالات کیا رخ اختیار کرنے والے ہیں۔ یا پاکستان میں فیصلے کرنے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ کی پریس کانفرنس میں داخلی امور کے بارے میں بھی شبہات پیدا کیے گئے ہیں۔ اب ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ بعض مطالبوں کے لیے احتجاج کرنے والے لوگوں سے منتخب حکومتیں معاملات طے کریں گی یا اس کے لیے بھی انہیں فوج سے اجازت درکار ہوگی۔ اگر فوج داخلی و خارجہ امور پر ایسا ہی مکمل کنٹرول چاہتی ہے تو ملک میں جمہوریت کا ڈرامہ رچانے اور پریشانی کا سلسلہ دارز کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ براہ راست جی ایچ کیو اہم معاملات پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلیٰ کو حکم جاری کردیا کرے۔ شہباز شریف اور کم از کم تین صوبوں کی حکومتوں کو ایسی ہدایات لینے اور ان پر عمل کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ خیبر پختون خوا کی حکومت تن تنہا کس حد تک مزاحمت کرے گی۔ یا تو وہ بھی ’حاضر جناب‘ کہے گی یا اس کا کوئی تیر بہدف علاج آئین کے عین مطابق آصف زرداری جیسے تعاون کرنے والے صدر کے ذریعے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح ملک میں کم از کم جمہوریت کا ڈھونگ تو ختم ہوجائے گا۔ قومی اسمبلی جس نہج پر کام کرتی ہے، موجودہ حالات میں وہ فوج کو کسی مناسب قانون سازی کی صورت میں ہدایت نامے جاری کرنے کے کا اختیار بھی تفویض کرسکتی۔ بعینہ جیسے الیکشن ایکٹ میں نئی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے یقین کرلینا چاہئے کہ ایسے ہتھکنڈے پائیدار اور مؤثر ہوں ۔
ملکی معاملات اور فوج کے کردار کے حوالے سے بات طویل ہوسکتی ہے لیکن بنگلہ دیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ اس بارے میں سبق آموز ہوسکتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتا لیکن مسلسل کوشش کرنے میں حرج بھی کیا ہے۔ ویسے بھی ایک صحافی اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہے بے شمار طاقت کے گمان میں مبتلا اداروں اور افراد کو آئینہ دکھا یا جائے۔ بنگلہ دیش سے مفرور ہونے والی حسینہ واجد ایک روز پہلے تک اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کو دہشت گرد قرار دے رہی تھیں۔ کرفیو اور سکیورٹی فورسز کے ذریعے احتجاج کو پوری قوت سے کچل دینے کا عزم رکھتی تھیں۔ البتہ جب عوام کے انبوہ کثیر نے ڈھاکہ کی طرف مارچ کیا اور مشتعل ہجوم تمام رکاوٹیں عبور کرتا ہؤا وزیراعظم ہاؤس کے اندر گھس گیا تو بنگلہ دیش کی آئرن لیڈی کو آخری تقریر ریکارڈ کرانے کا موقع بھی نہیں ملا ۔ انہیں فوری طور سے اپنی بہن کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر میں بھارت فرار ہونا پڑا۔
بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزماں نے اس کے تھوڑی دیر بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے استعفے کا اعلان کیا اور بتایا کہ وہ عوامی لیگ کے سوا باقی سیاسی لیڈروں کے تعاون سے عبوری حکومت قائم کریں گے ۔ انہوں نے کل سے کام کاج شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اب احتجاج کرنے ، کرفیو لگانے یا ملکی امور کو معطل رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بنگلہ دیش میں 6 اگست کو صبح چھے بجے سے زندگی معمول کے مطابق کام کرنے لگے گی۔ اس کا اندازہ تو آنے والے دنوں ہی میں ہوگا کہ یہ اعلان کس حد تک کارگر ہوگا اور بنگلہ دیش کا مستقبل اب کیا شکل اختیار کرے گا لیکن یہ حقیقت بہر صورت مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ ایک فرد کی ہٹ دھرمی اور عاقبت نااندیشی کی وجہ سے منتخب آئینی حکومت کسی آئینی طریقہ کار کے تحت اپنے انجام کو نہیں پہنچی۔ حسینہ واجد نے جنوری میں منعقدہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد پانچویں بار وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن وہ اس بات کا اندازہ نہیں کرسکیں کہ بگڑے ہوئے معاشی حالات، سیاسی جبر اور دھاندلی کے ہتھکنڈوں اور حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ریاستی تشدد کے باعث عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے۔
گزشتہ ماہ کے شروع میں طالب علموں نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ کوٹے کی بجائے میرٹ پر سرکاری ملازمتیں دی جائیں۔ اس انتظام میں 1971 کی جنگ آزادی میں جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان کو 30 فیصد ملازمتیں دی جاتی تھیں۔ عام طور سے یہ کوٹہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے کارکنوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طالب علموں کے احتجاج کو پہلے عوامی لیگ کے طلبہ ونگ نے تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کی ۔ یہ طریقہ کامیاب نہیں ہؤا ۔ اس احتجاج میں 200 افراد کی جانیں گئیں۔ البتہ 21 جولائی کو ملکی سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم کو بڑی حد تک ختم کرنے کا حکم دے کر اس تنازعہ کو رفع دفع کردیا تھا۔ امن بحال ہونے کے بعد حسینہ واجد نے طلبہ کی اشک شوئی اور ملک میں انسانی حقوق کے احترام کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے ، احتجاج منظم کرنے والے طالب علم لیڈروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔ چنددنوں میں 10ہزار افراد گرفتار کرکے ایک بار پھر شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا۔ اس کے رد عمل میں عوامی غم و غصہ کا طوفان بے قابو ہوگیا اور آج بنگلہ دیش پر بیس سال تک حکومت کرنے والی خاتون کو بے سر و سامانی کے عالم میں گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ ان کی پارٹی ، لیڈر اور کارکن اب حالات کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
حسینہ واجد نے 2009 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بنگلہ دیش میں معاشی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا تھا۔ ملک میں غربت کم ہونے لگی، برآمدات کئی گنا ہوگئیں، قومی پیداوار کی شرح ہمسایہ ملک بھارت سے بڑھ گئی۔ البتہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ حسینہ واجد کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے جمہوریت کے ذریعے اقتدار لینے کے باوجود جمہوری و انسانی اقدار کا احترام نہیں کیا۔ سیاسی مخالفین کے لیے زندگی مشکل کی گئی اور بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔ مہنگائی و بیروزگاری پر احتجاج کرنے والوں کو کی صورت میں ریاستی غیظ و غضب کا نشانہ بنایا جاتا۔ مخالفین کو نشان عبرت بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنے والی حسینہ واجد آج دن کے دوران عوام کے خوف سے ملک چھوڑتے ہوئے خود عبرت کا سب سے بڑا نشان بن گئیں۔
(بشکریہ:کاروان ناروے)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

بنگلہ دیش حسینہ واجد سید مجاہد علی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleبھارت ہوش کے ناخن لے اور بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر بات کرے، وزیراعظم
Next Article بنگلا دیشی طلبہ تحریک کا ملک میں فوجی حکومت قبول کرنے سے انکار، اپنی تجاویز پیش کردیں
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

آئین کے شیش محل میں پڑتی دراڑیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ستمبر 15, 2026

عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

ستمبر 14, 2026

پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ

ستمبر 9, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ ستمبر 23, 2026
  • امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ ستمبر 23, 2026
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ ستمبر 22, 2026
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی ستمبر 22, 2026
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا ستمبر 22, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.