آج کی تیز رفتار دنیا میں دو سال پہلے کا واقعہ کل پرسوں کی بات معلوم ہوتی ہے لیکن خالد سعید کے بعد مجھے ایسے لگتا ہے کہ ان کو گئے دو صدیوں بیت چکی ہیں ، میری بیوی کہتی ہے کہ کتنا کچھ ہے جو سر کو نہیں بتایا…..
نہ صحیفہ کی خبر دی کہ اس نے کامیابی سے بولنا شروع کر دیا ہے نہ اپنی چھوٹی صاحبزادی کی پیدائش کی اطلاع، نہ اماں کے گوڈے کے درد کی خیریت بتائی نہ فیسٹیولز کی روداد، نہ نواز شریف کی واپسی ڈسکس ہوئی نہ عمران خان کی جیل، نہ کسی نے زرداری کے دربارہ صدر بن جانے کے "جشن” کی کال دی نہ گیلانی کے چیرمین سینیٹ بننے کی مبارکباد….
کتنے ہی دن ہوئے کہ کسی نے ٹیسٹ میچ کا سکور پوچھنے کو فون نہیں کیا، صدیاں بیت گئیں کہ کسی نے مجھے رواں سال کے نوبل پرائز ونر ناول کا نام بتایا ہو، مدت ہوئی کہ میرے باغیچے میں گلاب کے پھول کو مرجھاتا دیکھ کر کسی نے مجھے جھاڑ پلائی ہو، مدت ہوئی کسی ایسے کو دیکھے کہ اسکے پالے جانور کی موت پر وہ غم سے نڈھال ہو، کاش کہ میں پھر کبھی وہ منظر دیکھ پاؤں کہ کوئی عالم اپنے شاگردوں میں پیپل کے درخت کے نیچے گھرا بیٹھا ہو اور جو بھی راہ چلتا اس سے سوال پوچھے تو وہ پہلے اسکے لیے چائے کا آڈر کرے، سگریٹ پیش کرے اور پھر سوال کا جواب یوں دے کہ جیسے میں تمھارے ہی تو انتظار میں تھا کہ تم کب پوچھو اور میں کب بتاوں۔
مدت ہوئی کسی ایسے شخص کو دیکھے کہ جس کے سامنے ہر "سوال” کیا جا سکتا ہو، کسی ایسے کو کہ جس نے غلطی کے سارے اعتراف کر لیے ہوں، جو اپنی نسل کی غلطیوں کو اپنی کہتا ہو، جبکہ وہ ساری زندگی اپنی نسل سے بھی برسر پیکار رہا ہو، مدت ہوئی کسی ایسے کو دیکھے کہ جس سے سب کو کام ہو مگر اسے کسی سے کوئی کام نہ ہو، جبکہ سب کے لیے موجود بھی صرف وہی ہو، مدت ہوئی کسی ایسے کو دیکھے جس کو کسی سے ذات کا عناد نہ ہو، مدت ہوئی کسی ایسے کو دیکھے کہ جو بدترین مخالف کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ سکتا ہو….
میں نے دیکھا ہے، میں نے ایسے ایک شخص کو ایک مدت دیکھا ہے، مجھے اس آدمی نے بتایا کہ ناکامی صرف تمہاری ہے ہاں کامیابی میں لوگوں کا ساتھ ہوتا ہے، اس نے بتایا کہ بادشاہ ننگا ہوتا ہے، اس نے بتایا کہ لشکر کا خمیر سفاکیت سے اٹھایا گیا ہے، اس نے یہ بھی بتایا کہ مولوی اور فوج سے نہ بھڑو تو پاکستان سے بہتر دنیا میں رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، اس کے نذدیک درد کا احساس علم سے ایک ہزار گنا متبرک ہے، وہ انساں کی سائینسی ترقی کو صرف اور صرف سیارے کی تباہی سے تعبیر کرتا ہے، اس کے نذدیک انسان کوئی اشرف المخلوقات نہیں ہے، انسان ایلین ہے جس کو اس دھرتی سے کوئی پیار نہیں ہے جس نے اسکے سمندر گدلے کر دیئے ہیں، جو اسٌ سے پہلے سے یہاں آباد مخلوقات کے لیے ایک قیامت کی طرح ٹوٹا ہے، جو انکی نسل کشی کرتا ہے، جس نے یہاں بیٹھ کر اوزون شگافتہ کر دی ہے، میرینا ٹرینچ کے تہہ سے لے کر ماؤنٹ ایورسٹ کی چونچ تک اس نے دخل اندازی کی ہے، خالد سعید کہتا ہے کہ باقی مخلوقات کو دیکھنے کے بعد یہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انسان اس سیارے کی مخلوق ہونا کوالیفائی نہیں کرتا…
خالد سعید جیسے لوگ آئینہ ہوتے ہیں وہ کوئی دیوتا نہیں ہوتے وہ انسان کا اصل روپ ہوتے ہیں وہ یہی بتاتے ہیں کہ کم سے کم انسان ہونا کیا یہی نہیں کہ آپ ایک مرتے ہوئے پودے یا جانور کی زندگی بچانے کی کوشش کریں؟؟ لیکن کیا ہی آرٹ ہے کہ وہ پودوں اور جانوروں کا عاشق وہاں خوشی خوشی اور خوش فہمی کی حد تک پٌر امید زندگی گزار گیا کہ جہاں دن رات صبح شام انسان کا نوحہ لکھا جا رہا ہے اور کوئی نہیں سنتا، یہ اسی کا حوصلہ تھا کہ جو مرتے ہوئے پودے کو دیکھ کر غمگین ہو جاتا تھا کہ اس نے اپنے گھر میں ضیاء الحق کے مارشل کے وکٹم دیکھے کہ جن کی انگلیاں ضیاء الحق کا شاہی قلعہ کھا گیا تھا لیکن وہ کبھی کسی کو اکساتا نہیں پایا گیا….
جس طرح زندگی کو اس نے سیلیبریٹ کیا یہی کہا جا سکتا تھا کہ ایسے شخص کو اپنی موت کا بہت خوف ہو گا کہ جو زندگی کے ہر رنگ سے اتنا پیار کرتا ہو وہ یقینا مرنا تو نہیں چاہے گا لیکن ہم نے دیکھا کہ جب اسکو یقین تھا کہ میں چلا جاؤں گا وہ تب بھی خالد سعید تھا وہ تب بھی نڈر تھا، بے خوف تھا،آزاد تھا، جب ڈاکٹر نے پوچھا کہ آپ کو موت کا خوف ہے تو کہا کہ
"اب اسی سال کے بعد کون سی جوانی نے آنا ہے موت ہی آئے گی اور ویسے بھی موت آرگیزم کا حتمی لیول ہے”
کہاں ملیں گے ایسے لوگ کہ جو زندگی کے ہر پہلو کو نعمت سمجھتے ہوں، موت انکے لیے آرگیزمک ہو، کرونا اس لیے پسند ہو کہ تتلیاں اور جنگو واپس آ گئے ہیں، اپنی کیمو اور لیزر تھراپیوں کو تحفہ اس لیے سمجھتے ہوں کہ پینڈنگ کام ہو جائینگے اور چوالیس کیموز اور چھ لیزر تھراپیوں کے دوران ہاتھ سے چار ہزار صفحات
(نو کتابیں) لکھ جائیں، اور جب تک ہوش رہے تو دماغ میں صرف یہ ہو کہ فلاں کے تھیسیس کا کیا بنا تو فلاں کا سائنوپسس کہاں تک پہنچا؟
22 اپریل کو میری اس سے آخری ملاقات ہوئی تھی اور دو دن بعد وہ قومے میں چلا گیا آخری ملاقات میں کہا کہ جب ٹھیک ہو جاؤں گا تو تمہاری اماں کی زمینوں پر چل کر رہیں گے نہ لائٹ ہوگی، نہ شہر ہو گا، نہ پلوشن، سبزیاں اگائیں گے، بکریاں، بھیڑیں، گائے، اونٹ اور کتے پالیں گے پیپل، نیم ،بکین، جامن اور شہتوت کے درخت لگائیں گے دن میں لسی پیئیں گے رات میں دیسی کے گھڑے کھولیں گے اور کسی مقامی سے ہیر وارث شاہ سنیں گے اور یقین کرو یہی جنت ہے……
Previous Articleمعروف کالم نگار وسعت اللہ خان نے بی بی سی کو خیر باد کہہ دیا
Next Article سید مجاہد علی کا کالم : عدلیہ کیسے آزاد ہوسکتی ہے؟

