اسلام آباد : نیب کے پراسیکیوٹر جنرل اصغر حیدر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ آئندہ ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے متوقع فیصلے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جلد ہی کیس کا ’شارٹ اینڈ سوئیٹ‘ فیصلہ سنائیں گے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر (ہفتہ)کو ریٹائر ہونے والے ہیں لہٰذا امکان ہے کہ سپریم کورٹ جمعہ تک فیصلہ سنادے گی۔
اصغر حیدر کے اچانک استعفیٰ کی وجہ کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں لیکن اصغر حیدر نے اسے ’بالکل نارمل‘ قرار دیا، وہ واحد پراسیکیوٹر جنرل تھے جنہیں دوسری مدت کے لیے توسیع دی گئی تھی۔
انہیں جنوری 2018 میں اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تعینات کیا تھا جبکہ پی ٹی آئی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی تھی۔لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج اصغر حیدر کو 3 نومبر 2007 کو جنرل مشرف کے جاری کردہ عبوری آئینی آرڈر کے تحت حلف اٹھانے پر لاہور ہائی کورٹ میں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
نیب قانون پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع سے روکتا ہے، قومی احتساب آرڈیننس کے سیکشن 8 (3) (اے) میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل 3 سال کی (ناقابل توسیع) مدت کے لیے عہدہ سنبھالے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ اصغر حیدر چیف جسٹس کے قریبی دوست ہیں جو اگلے ہفتے ریٹائر ہو رہے ہیں، ’ڈان‘ سے بات کرتے ہوئے اصغر حیدر نے تصدیق کی کہ جسٹس عمر عطا بندیال ان کے دوست ہیں لیکن میرے استعفیٰ کی وجہ بالکل مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ این اے او، جو نیب کو کنٹرول کرتا ہے، پراسیکیوٹر جنرل کے لیے اہلیت کے کچھ تقاضوں کا تعین کرتا ہے۔این اے او کے سیکشن 8 میں کہا گیا ہے کہ صدر پاکستان، چیئرمین نیب کے مشورے سے ایسے کسی بھی شخص کو، جو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تعینات ہونے کا اہل ہو، بطور پراسیکیوٹر جنرل مقرر کر سکتے ہیں۔
اصغر حیدر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج 65 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ یہی معیار پراسیکیوٹر جنرل پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
رواں برس 21 جولائی کو اصغر حیدر 65 سال کے ہو گئے، انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 3 ماہ سے استعفیٰ دینے پر غور کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا، تاہم نیب کی جانب سے عمر کی حد کی تشریح مختلف تھی، نیب کا مؤقف ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل کی ریٹائرمنٹ کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے اس لیے استعفیٰ دیا کیونکہ وہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف آئندہ ریفرنسز پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں، تاہم اصغر حیدر نے اس رائے کی تردید کردی۔واضح رہے کہ نیب عمران خان کے خلاف 2 مقدمات کی تحقیقات کر رہا ہے، ایک 190 ملین پاؤنڈ کی کرپشن کا کیس ہے اور دوسرا توشہ خانہ تحفے سے متعلق ہے۔
متعلقہ قانون کے مطابق چیئرمین نیب کسی بھی ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل (اے پی جی) کو پراسیکیوٹر جنرل کا چارج تفویض کر سکتے ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل اکبر تارڑ کو پی جی کا چارج دیا جا سکتا ہے، وہ تقریباً 15 سال سے نیب میں کام کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی صورت میں احتساب عدالتوں سے نیب کو واپس کیے گئے کیسز دوبارہ کھولے جائیں گے۔
( بشکریہ : ڈان نیوز )
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

