”سر معذرت کے ساتھ،بڑے مجرم ہیں وہ جنھوں نے پاکستانیوں کو آ ج تک اتنا مجبور اور کسی حد تک جاہل رکھاکہ کبھی وہ مذ ہبی ، سیاسی اور کبھی سماجی اور معاشرتی شدت پسند بن جاتے ہیں۔۔۔الطاف بھائی، ذالفقار بھٹو، نواز اور عمران خان اس گناہ اور جرم کے صرف چھوٹے حصہ دار لگتے ہیں۔
سر کریں ہمت اور لکھیں کلٹ سازی ، شخصیت پرستی کو فروغ دے کر ، عوام کو آپس میں الجھا کر اپنے اقتدار کو زبردستی مسلط رکھنے والوں کے خلاف ۔۔“
کلٹ مائنڈ سیٹ کے حوالے سے میرے مضمون پر ایک دوست نے یہ کمنٹ کیا ہے جو ماشاءاللہ ایک اچھے فزیشن اور سماجی شخصیت بھی ہیں۔
بادی النظر سے یہ لگتا ہے کہ اس سے ان کی مراد فوج ہے ، جاگیردار اور سرمایہ دار مراد ہوتے تو ان مبینہ چھوٹے حصے داروں میں جناب ذوالفقار علی بھٹو اور محترم میاں نواز شریف کے نام نہ ہوتے ۔
جناب عمران احمد خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے تک ہماری اربن مڈل کلاس اور تعلیم یافتہ حضرات پاک فوج کے عشق میں مبتلا تھے ، ملک میں موجود تمام اچھائیوں کا کریڈٹ فوج کو دیا جاتا تھا اور تمام برائیوں کا ذمہ دار جاگیردار اور سرمایہ دار سیاستدانوں پر عائد کیا جاتا تھا ، اب یہ بیانیہ ریورس ہو چکا ہے ، پہلے علی وزیر تو کیا نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی غدار کہے جاتے تھے اور اب الطاف حسین اور شیخ مجیب الرحمٰن تک فریڈم فائٹر شمار ہوتے ہیں ، وجہ وہی ہے جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا یعنی کلٹ مائنڈ سیٹ۔
اگر آپ ایک شخص کو اقتدار میں لانے کے لیے آئین شکنی کرتے ہیں تو آپ محبوب ٹھہرتے ہیں اور اگر آپ اسے بچانے کے لیے آئین شکنی نہیں کرتے تو آپ مردود ٹھہرتے ہیں۔
ہمارا تو ہمیشہ سے یہ نقطہ نظر رہا ہے کہ فوج کو ریاست کا وفادار ہونا چاہیے سیاست کا نہیں ۔ فوج کا آئینی فریضہ ملکی دفاع ہے اسے اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے بلکہ فوج ہی کیا ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیے ، سیاستدان متنازعہ ہوتے ہیں، ہو سکتے ہیں لیکن فوج اور عدلیہ کو تو انتہائی غیر متنازع ہونا چاہیے، ان سے کوئی ایسا فعل سرزد ہونا ہی نہیں چاہیے کہ کسی کو ان اداروں پر انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔
ملکی تاریخ دیکھیں تو آئین و قانون اور انصاف کا سب سے زیادہ خون عدلیہ نے بہایا ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ فوج اور عدلیہ کی طرح بیوروکریسی اور پولیس کو بھی آئین و قانون کا تابع ہونا چاہیے، کسی سیاستدان کا ذاتی وفادار نہیں ہونا چاہیے ۔۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا آیا ہے اور ہو رہا ہے۔
غور کریں تو ایک اور عجیب تضاد irony سامنے آتی ہے، ہمارے شہری مڈل کلاس دانشوروں کا یہ بیانیہ ہے کہ ملک اس وقت ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو گا جب اس کی قیادت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی بجائے مڈل کلاس کے ہاتھ آئے گی اور اب اسی مڈل کلاس کا بیانیہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک اقتدار فوج کے ہاتھوں میں رہا ہے اسی لیے ملک ٹیک آف نہیں کر سکا ۔ جنرل محمد ایوب خان سے جنرل عاصم منیر تک کتنے ایسے آرمی چیف آئے ہیں جن کا تعلق جاگیر دار اور سرمایہ دار خاندانوں سے تھا ! صرف فوج ہی نہیں عدلیہ اور بیوروکریسی پر بھی ہمیشہ مڈل کلاس کا غلبہ رہا ہے ، بہت ہی کم جرنیل ، جج اور بیوروکریٹ سیاسی ایلیٹ گھرانوں سے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ اس کے باوجود ہماری مڈل کلاس ملک کی تباہ حالی کی تمام تر ذمہ داری سوکالڈ اپر کلاس یا جاگیردار اشرافیہ پر ڈال دیتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ وڈیروں اور جاگیر داروں نے عوام کو تعلیم سے محروم رکھا ، عوام کو جاہل اور پسماندہ رکھا ، درست ہے ۔ آئیں ذرا اس کا سائنسی تجزیہ کریں ، چارلس ڈارون کے ان اصولوں struggle for existence اور survival of the fittest کی روشنی میں ۔ جاگیردار ہمیشہ سے جاگیردار نہیں تھا ، اس نے بزور شمشیر جاگیر حاصل کی ، خود چھینی یا کسی گروہ میں شامل ہو کر حاصل کی یا کسی بادشاہ کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اس سے جاگیر حاصل کی یا بیشک مقامیوں کے خلاف انگریزوں یا دوسرے حملہ آوروں کے لیے لڑ کر حاصل کی ، اس نے ہر ممکن طریقے سے جاگیر پر مضبوطی سے قابض رہنا تھا اس میں اضافہ کرنا تھا اور اسے اپنی اگلی نسل کو منتقل کرنا تھا ، اسے اس جاگیر پر کام کرنے کے لیے مزارع اور مزدور چاہئیں تھے ، وہ کیوں چاہتا کہ اس کے علاقے میں رہنے والے لوگ اس کے چنگل سے نکلیں وہ پڑھیں اور خوشحال ہوں ۔ یہ صرف جاگیردار کی بات نہیں ہے ہمارے سماج میں لوگ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو بھی ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے ، ان کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج بھی اکثر لوگ بہنوں اور بیٹیوں کو جائداد میں حصہ نہیں دیتے ، کچھ اچھے لوگ اپنے ضمیر اور خدا کو مطمئن کرنے کے لیے بہنوں بیٹیوں سے حق معاف کرا لیتے ہیں۔ میں ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جن کے بیٹوں کے پاس زمین تھی اور بیٹیاں جہاں دیں ان کے پاس نہیں تھی (یاد رہے یہ چھوٹے زمیندار تھے جاگیردار نہیں ) ، تو جب ان بیٹیوں کے بچے سکول جانے کی عمر کو پہنچے اور انہیں سکول داخل کرایا گیا تو خاتون بہت ناراض ہوئیں کہ یہ تو پڑھ رہے ہیں تمہارے بھائیوں کے کھیتوں میں کون کام کرے گا۔ یہ پورا سماج ہی ایسا ہے۔ لیکن اب سائنس اور ٹیکنالوجی کی آمد سے ذرائع پیداوار بدلنے سے صورت حال بدل رہی ہے ، ایک جاگیر دار کو اپنے فارم پر کام کرنے کے لیے تربیت یافتہ کارکن چاہیئں ، میں کئی ایسے جاگیرداروں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے فارمز پر ایگریکلچر گریجویٹ اچھی تنخواہوں پہ رکھے ہوئے ہیں، انہیں کمپیوٹر آپریٹر چاہیئں ، فارم مشینری آپریٹر چاہئیں ، انہیں آڈٹ اور فنانس کے لوگ چاہیئں ، اب ان پڑھ اور غیر تربیت یافتہ مزدوروں کی ڈیمانڈ ختم ہوتی جا رہی ہے ، تعلیم کے کمرشل ہو جانے کے بعد جاگیردار خود تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں۔ یہ سب عرض کرنے کا مطلب جاگیرداروں کی صفائی دینا نہیں زمینی حقائق بیان کرنا ہے۔ ملک میں جمہوریت اور انتخابات کے سلسلے کے بعد جو وڈیرہ کسی کے سلام کا جواب نہیں دیتا تھا وہ بستی بستی گاؤں گاؤ ں ووٹ مانگنے جاتا ہے ، سکول ہسپتال اور سڑکیں بنواتا ہے ، دور دراز گاؤں میں بجلی لے کر جاتا ہے ، لوگوں کی شادیوں اور غموں میں شریک ہوتا ہے ۔۔۔۔ اگرچہ ابھی اصلاح کی بہت گنجائش ہے۔۔۔۔ لیکن ہماری شہری مڈل کلاس کی perception وڈیرے اور جاگیردار کے حوالے سے بالکل غلط ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ nature does not proceed by leaps ، تو ہر نظام میں ایسا ہی ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں اور آہستہ آتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مغرب میں تبدیلی اور انقلاب تعلیم یافتہ مڈل کلاس لے کر آئی لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی مڈل کلاس ایک فاشسٹ کلاس ہے ، یہ تاریخ عالم سے ناواقف ہے ، اسے سماجیات، عمرانیات کا کوئی شعور نہیں ، یہ رشوت لیتی ہے ، ناجائز منافع خوری کرتی ہے،professional dishonesty کی مرتکب ہوتی ہے لیکن عمرہ کر کے ، مسجد میں ایئر کنڈیشنر لگوا کر ، اپنے مخصوص فرقے کے مدرسے اور جہادی تنظیم کو بھاری چندہ دے کر ، کچھ دن تبلیغ میں لگا کر ، محرم میں سبیلیں اور لنگر خانے بنا کر بزعم خود پاک صاف ہو جاتی ہے ۔۔ ان کے خیال میں ان کے علاوہ سب کرپٹ ہیں ، انہیں چھوڑ کر باقی سب کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔۔۔۔
اور ہر چوراہے پر پھانسی گھاٹ بنا کر کچھ لاکھ لوگوں کو لٹکا دینے سے ملک خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم :مجرم کون ۔۔ سرمایہ دار ، جاگیردار یا پاکستان کی فاشسٹ مڈل کلاس ؟
ایڈیٹر10 Views
Previous Articleبجلی کی قیمتوں میں اضافہ غریب کیلئے قیامت سے کم نہیں، سراج الحق
Next Article امتیاز عالم کا کالم:کچھ ان کہی بھولی بسری نظمیں

