استاد محترم خان رضوانی سے میرا پہلا براہ راست تعارف اگست 1989ء میں ہوا تھا
۔۔ اور ۔۔ یہ تعارف خان صاحب کے بڑے صاحبزاےجمشید رضوانی نے خود کروایا تھا۔میں نے 1989ء میں ایم اے تاریخ کی ڈگری مکمل کی تھی اور نوکری کی تلاش میں تھا کہ دفتر روزگار کے ذریعے مجھے ملتان کے ایک ماہنامہ میگزین جلترنگ میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی پوسٹ کا پتہ چلا تھا۔۔ صحافت اور ایڈیٹر کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہونے کا تو مجھے پتہ تھا لیکن ایڈیٹر کی ذ مہ داریوں کے بارے میں کوئی زیادہ سوجھ بوجھ نہ تھی ۔۔
بس یہی معلومات جمع کرتے کرتے استاد محترم خان رضوانی سے ملاقات ہوگئی ۔۔ یہ ملاقات روزنامہ جنگ کے ملتان بیورو آفس ابدالی کالونی میں ہوئی ۔۔ خان صاحب سے اس ملاقات اور رموز صحافت بارے رہنمائی بھری گفتگو جاری تھی کہ اتفاق سے عین اسی وقت ماہنامہ جلترنگ کے مالک اور چیف ایڈیٹر اختر عزیز(مرحوم ) صاحب کا فون آ گیا ۔۔ خان صاحب نے میری جاب کا تذکرہ کیا تو محترم اختر عزیز نے میرا نام لے کر کہا کہ خان صاحب ۔۔انہیں کام آتا ہے یا نہیں لیکن آپ کا کہنا ہی کافی ہے
یوں میں نے کارزارِ صحافت میں پہلا قدم استاد محترم خان رضوانی کے سہارے رکھ دیا ۔۔( بعد میں جنگ ۔ نوائے وقت۔ ایکسپریس دنیا نیوز کو join کیا اور آج کل 92news سے وابستہ ہوں )
جلترنگ کو Join کیے ہوئے مجھے چند ماہ گذرے تھے کہ زکریا یونیورسٹی ملتان کے شعبہ صحافت کی آخری ایک سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ(PGD) کلاس میں داخلہ مل گیااور ہمارے سیشن90_1988ء کے اختتام پر زکریا یونیورسٹی میں صحافت کے ماسٹر ڈگری سیشن کا باقاعدہ آغاز ہو گیا تھا۔ اس آخری سیشن میں نامور دانشور محترم مظہر عارف (رؤف کلاسرا کی صحافت کے ابتدائی استاد) ۔ سیکرٹری زراعت ثاقب علی عطیل ۔ معروف بیورو کریٹ ارشد گوپانگ بھی میرے کلاس فیلو رہے ۔۔۔۔
صحافت کے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ سیشن کے دوران جب مجھے اخبار میں رپورٹنگ کے حوالے سے عملی تجربہ کی اسائمنٹ دی گئی تو خان صاحب نے کمال مہربانی کرتے ہوئے مجھے روزنامہ جنگ کے ملتان بیورو آفس میں بطور ٹرینی رپورٹر ایڈجسٹ کر لیا۔
خان صاحب کے زیر سایہ عملی صحافت کی الف ب شروع کی تو خان صاحب نے مجھے اپنی تحریر کو خوشنما بنانے کیلئے باقاعدہ تختی لکھنے کی نصیحت بھی کی اور مجھے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد روزنامہ جنگ کے ملتان بیورو آفس میں ہر شام کو تختی لکھنے کا معمول آج بھی یاد ہے ۔ خان صاحب خود مجھے تختی پر اصلاح دیا کرتے اور جس روز خان صاحب دفتر میں موجود نہ ہوتے تو جمشید رضوانی سے تختی پر خوشنمائی کی اصلاح مل جایا کرتی تھی ۔۔
خان صاحب تو صحافت کے سرخیل تھے ان کی خبریت سے معمور رپورٹنگ بے لاگ سیاسی ہفتہ وار سیاسی ڈائری کی گونج جنگ اور اخبار جہاں کے توسط سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی سنائی دیتی تھی ۔۔ مجھے خان صاحب کی رہنمائی میں نامور سیاست دانوں کی پریس کانفرنس ۔ اہم کرائم و کورٹ سٹوریز ۔ 1990ء کے عام انتخابات سمیت دیگر اہم ترین ایونٹس کی کوریج کا موقع ملا تو میرا مشاہدہ یہی رہا کہ خان صاحب کا صحافتی اسلوب ۔ خبریت کے اسرار و رموز کی جانچ پرکھ منفرد تھی۔۔
خان صاحب کو بہت کم ایونٹس میں نوٹس لیتے ہوئے دیکھا لیکن خبر جب اخبار کی زینت بنتی تو خبریت کا ہر پہلو انگوٹھی میں نگینے کی مانند چمک دمک رہا ہوتا تھا ۔ ۔۔
خان صاحب کی صحافت کا بنیادی اسلوب یہی رہا کہ
سب کی "خبر ” لو۔۔ اور ۔۔
سب کی خبر دو۔۔۔
وہ کہا کرتے تھے کہ
"صحافت خاص کر رپورٹنگ میں تعلق واسطے بنتے بگڑتے رہتے ہیں اور صحافی کا تعارف یہ تعلقات واسطے نہیں بلکہ اس کی تخلیق کی ہوئی خبر ہوا کرتی ہے ۔۔”
اس لیے تعلق واسطہ رہے یا نہ رہے۔
۔۔۔ لیکن ۔۔۔
"قلم کی حرمت صحافتی اقدار کی آبرو کی خاطر جس نے جتنی بڑی قربانی دی وہی اصل میں کامیاب صحافی ہے۔۔”
استاد محترم خان رضوانی صاحب نے 1962ء میں نوائے وقت سے آغاز کیا۔ 1964ء میں روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوئے اور جنرل ایوب ۔ جنرل ضیاء کے مارشلائی ۔ ذوالفقار علی بھٹو۔ بینظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے سیاسی ادوار میں 32سال ہنگامہ خیز صحافتی خدمات انجام دیں ۔۔
اس کے علاوہ انہوں نےسرائیکی زبان کی ترقی و ترویج کیلئے قلمی اور تنظیمی خدمات بھی انجام دیں (اس حوالے سے خان صاحب کی خدمات کا ذکر ایک الگ تحریر میں۔۔ ان شاءاللہ)
خان صاحب کا 5اپریل 1994ء کو ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوا ۔۔۔نواں شہر کرکٹ گراؤنڈ میں نماز جنازہ پڑھایا گیا تو میں نے ایسی نامور سیاسی ۔سماجی اور اہم انتظامی عہدوں پر براجمان شخصیات کو نم دیدہ اور افسردہ دیکھا جن کے ماتھے پر میں خان صاحب کی بے لاگ غیر جانبدارانہ صحافت کے باعث شکوہ بھری لکیریں ابھرتی ہوئی دیکھتا رہا تھا۔۔خان صاحب پچھلے 29 برسوں سے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے دیہی علاقہ اللہ آباد میں آسودہ خاک ہیں۔
خان صاحب کا ذکر آج بھی "صحافت کے سرخیل۔۔۔ خان صاحب” کے حوالے سے سننے کو ملتا ہے
۔۔ اوریہی ۔۔۔
خان صاحب کی
بے لاگ تحقیقاتی صحافت کا نچوڑ اور اصل اثاثہ ہے کہ
"تعلقات بنتے بگڑتے رہتے ہیں لیکن آبروئے صحافت پر آنچ نہیں آنی چاہیئے ۔”
خان صاحب۔۔ اللہ کی امان سلامتی
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

