Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, ستمبر 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
  • دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
  • الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
  • اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
  • ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
  • پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
  • مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » عبدالرشید شکورکا کالم:روم اولمپکس 1960: پاکستان کا پہلا اولمپک گولڈ میڈل جس نے ہاکی کو قومی کھیل بنا دیا
عبدالرشید شکور

عبدالرشید شکورکا کالم:روم اولمپکس 1960: پاکستان کا پہلا اولمپک گولڈ میڈل جس نے ہاکی کو قومی کھیل بنا دیا

ایڈیٹرستمبر 10, 20211 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

سنہ 1951 میں ہاشم خان کا برٹش اوپن ٹائٹل جیتنا اور پھر 1954 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اوول ٹیسٹ جیتنے کا تاریخی کارنامہ یہ ظاہر کررہا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے بین الاقوامی منظرنامے پر اپنی شناخت کرانے کے لیے تیار ہوگیا۔ لیکن سب کو ہاکی کے میدان سے بڑی خبر کا انتظار تھا۔
پاکستان بننے کے ایک سال بعد ہی پاکستانی ہاکی ٹیم نے 1948 کے لندن اولمپکس میں حصہ لیا لیکن ہالینڈ سے ہارنے کے سبب اسے چوتھی پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔ چار سال بعد ہیلسنکی اولمپکس میں بھی کہانی کچھ اسی طرح رہی جب برطانیہ نے اسے ہرا کر کانسی کے تمغے سے محروم کردیا۔
پھر 1956 کے میلبرن اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی کارکردگی پچھلے دو اولمپکس سے اس لحاظ سے بہتر رہی کہ اس نے فائنل تک رسائی حاصل کی۔ لیکن فائنل میں انڈیا نے اسے ایک گول سے ہرا دیا۔ پاکستان نے اگرچہ چاندی کا تمغہ حاصل کیا لیکن فاتح عالم بننے کی خواہش ہر کھلاڑی کے دل میں موجود تھی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہاکی کے میدانوں میں انڈیا کا طوطا بول رہا تھا۔ وہ مسلسل چھ اولمپکس مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت چکا تھا۔
اور پھر انڈیا کا طلسم ٹوٹ گیا۔
1960 کے روم اولمپکس شروع ہوئے تو اس وقت بھی عام رائے انڈیا کے حق میں دکھائی دے رہی تھی۔ لیکن پاکستانی ہاکی ٹیم کو بھی کوئی نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہ تھا اور اس وقت یہی کہا جا رہا تھا کہ اگر انڈین ہاکی ٹیم کو کوئی ٹیم چیلنج دے سکتی ہے تو وہ پاکستان ہے۔
روم اولمپکس سے قبل پاکستانی ہاکی ٹیم نے 1958 میں ٹوکیو ایشیئن گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر ایک لحاظ سے نفسیاتی برتری حاصل کرلی تھی۔ اسی لیے روم اولمپکس میں ان کے درمیان ایک سخت مقابلے کا سب کو انتظار تھا۔
پاکستان اور انڈیا دونوں نے پُراعتماد انداز میں روم اولمپکس کا آغاز کیا۔ عبدالحمید حمیدی کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے اپنے گروپ میچوں میں آسٹریلیا، جاپان اور پولینڈ کو واضح فرق سے شکست دی۔
کوارٹر فائنل میں پاکستان کا سامنا جرمنی سے تھا جس میں پاکستان نے عبدالوحید خان اور نصیر بندہ کے گول کی بدولت دو ایک سے کامیابی حاصل کی۔ سیمی فائنل میں پاکستان نے سپین کو ایم ایچ عاطف کے فیصلہ کن گول کی بدولت زیر کیا۔
9 ستمبر 1960 کو پاکستانی ٹیم اور اس کے پہلے اولمپک گولڈ میڈل کے درمیان چار سال پہلے کی طرح اس بار بھی انڈیا کی ٹیم کھڑی تھی۔
لیکن روم میں وہ نہیں ہوا جو میلبرن میں ہوا تھا۔
اس مرتبہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ گیارہویں منٹ میں نصیر بندہ کے گول نے پاکستان کو ہاکی کے افق پر پہلی بار فاتح عالم بنا دیا۔
یہ اولمپکس مقابلوں میں انڈیا کی 32 سالہ بالادستی کا خاتمہ بھی تھا۔
روم اولمپکس کی فاتح ہاکی ٹیم کے کھلاڑی
روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ٹیم عبدالرشید (گول کیپر)، ایم ایچ عاطف، بشیر احمد (فل بیکس)، انوار احمد خان، غلام رسول چوہدری، حبیب علی کڈی (ہاف بیکس)، نور عالم، عبدالحمید حمیدی، عبدالوحید خان، مطیع اللہ اور نصیر بندہ (فارورڈز) پر مشتمل تھی۔
اس زمانے میں ہر سکواڈ اٹھارہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتا تھا لیکن میڈلز ان گیارہ کھلاڑیوں کو ملا کرتے تھے جو میدان میں ہوتے تھے۔
جو کھلاڑی فائنل نہیں کھیلے تھے، ان میں روری گارڈنر، منیر ڈار، خورشید اسلم، ظفرحیات، ذکا الدین، ظفر علی خان اور مشتاق احمد شامل تھے۔
روم اولمپکس کے پاکستانی ہیروز
روم اولمپکس میں پاکستان کے تمام ہی کھلاڑیوں نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ لیکن کپتان عبدالحمید حمیدی، نصیر بندہ اور عبدالوحید خان کا جادو سرچڑھ کر بولا تھا۔
حمیدی کا یہ چوتھا اولمپک ٹورنامنٹ تھا اور انھوں نے رائٹ ان کی پوزیشن پر کھیلتے ہوئے نو گول کیے تھے۔
سینٹر فارورڈ کی پوزیشن پر عبدالوحیدخان چھ گول کر کے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
نصیر بندہ لیفٹ ان کی پوزیشن پر باکمال کھلاڑی تھے جنھوں نے پورے ٹورنامنٹ میں پانچ گول کیے لیکن فائنل میں ان کے یادگار گول نے انھیں قومی ہیرو بنا دیا۔
مطیع اللہ اور نور عالم نے ونگرز کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں خوبصورتی سے نبھائی تھیں جبکہ ہاف لائن کا کردار کسی طور کم نہ تھا جو انوار احمد خان، حبیب علی کڈی اور غلام رسول چوہدری پر مشتمل تھی۔
روم اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کی شاندار کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے چھ میچوں میں 25 گول کیے اور اس کے خلاف صرف ایک گول ہوا جو کوارٹر فائنل میں جرمنی نے کیا تھا۔
نصیر احمد کے نام کے ساتھ بُندہ کیوں؟
نصیر بُندہ کے بیٹے سابق انٹرنیشنل ہاکی کھلاڑی ناصر نصیر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹمیری دادی نے میرے والد نصیر احمد کو بچپن میں کوئی منت مانتے ہوئے کان میں چھید کرا کر ایک بُندہ پہنا دیا تھا۔
یہ بُندہ ’زندگی بھر ان کے نام کا حصہ بن گیا۔‘
ناصر نصیر نے یہ دلچسپ بات بھی بتائی ʹمیرے والد عام طور پر کھیلتے ہوئے جوتے نہیں پہنتے تھے۔ وہ ننگے پاؤں کھیلنے میں آسانی محسوس کرتے تھے۔ʹ
عبدالوحید خان بتاتے ہیں ʹروم اولمپکس میں نصیر بندہ کو جوتے پہن کر کھیلنا پڑا تھا کیونکہ اس گراؤنڈ میں گھاس بڑھی ہوئی تھی اور اس پر پانی بھی تھا۔‘
نصیر بندہ کے لیے گول کرنا جیسے معمول کی بات تھی۔ انھوں نے 44 بین الاقوامی میچ کھیلے اور 43 گول کیے۔
وہ میلبرن اولمپکس میں سلور میڈل جبکہ ٹوکیو اور جکارتا کے ایشیائی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔
نصیر بندہ اپنی برق رفتاری سے دفاعی کھلاڑیوں کو بے بس کرنے میں مہارت کی وجہ سے اپنے کیریئر میں ’مکی ماؤس‘ کے نام سے بھی مشہور تھے۔
سانولی رنگت کے عبدالوحید کا چمکدار کھیل
روم اولمپکس کا فائنل کھیلنے والی فاتح پاکستانی ٹیم کے صرف دو کھلاڑی عبدالوحید خان اور مطیع اللہ اس وقت حیات ہیں۔
83 سالہ مطیع اللہ کی قوت سماعت کمزور ہوچکی ہے لہذا وہ گفتگو میں دقت محسوس کرتے ہیں۔
انھوں نے تین اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی جن میں ایک گولڈ میڈل اور دو سلور میڈل حاصل کیے۔ وہ دو ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔
مطیع اللہ کے دو بھتیجے سمیع اللہ اور کلیم اللہ اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
84 سالہ عبدالوحید خان کے پاس اس دور کی یادوں کا بہت بڑا خزانہ موجود ہے۔
وہ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ʹمجھے یاد ہے کہ جب قومی ہاکی کیمپ لگا تو مجھے یہ کہہ کر اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا کہ میں ختم ہوگیا ہوں۔‘
’میں کسٹمز کی ٹیم کے ساتھ ممبئی کھیلنے چلا گیا۔ جب میں بحری جہاز سے واپس آرہا تھا تو اس وقت مجھے اطلاع ملی کہ مجھے کیمپ میں بلا لیا گیا ہے۔
’یہ چار ماہ کا کیمپ تھا جو لاہور کی سخت گرمی میں لگایا گیا تھا۔ کرنل علی اقتدار شاہ دارا کیمپ کمانڈنٹ تھے جنھوں نے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کا ایک نفسیاتی حربہ اختیار کیا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے کھلاڑیوں کے کمرے اور ڈائننگ ہال میں پوسٹر لگا دیا تھا جس پر درج تھا ʹوکٹری ایٹ رومʹ تاکہ انھیں ہر وقت اس بات کا احساس رہے کہ انھیں روم اولمپکس میں جیتنا ہے۔‘
عبدالوحید خان کہتے ہیں ʹسخت ٹریننگ نے کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل فٹ کردیا تھا۔ مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ میرا آخری قومی سلیکشن ہوسکتا ہے۔ لہذا میں اپنی ٹریننگ پر بہت زیادہ توجہ دے رہا تھا۔ʹ
عبدالوحید خان نے روم اولمپکس کے بعد 1962 کے ایشیئن گیمز میں سترہ گول کیے تھے جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس میں ان کی ایک ڈبل ہیٹرک بھی شامل تھی۔‘
نصیر بندہ کا تاریخی گول
عبدالوحید خان فائنل میں نصیر بندہ کے فیصلہ کن گول کے بارے میں بتاتے ہیں ʹعموماً لیفٹ آؤٹ اور رائٹ آؤٹ کے کراس کو سینٹر فارورڈ کے طور پر میں کنیکٹ کیا کرتا تھا۔
’فائنل میں انڈین کھلاڑیوں کے ذہنوں میں یہی بات تھی کہ جو بھی کراس آئے گا وہ میں کنیکٹ کروں گا۔ لیکن حمیدی کی ہٹ کو نور عالم نے روکا اور کراس لگایا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’انڈین کھلاڑی یہی سمجھے اس کراس کو میں روکوں گا۔ اسی وجہ سے ڈیفینڈر نصیر بندہ کو چھوڑ کر میرے پاس آگیا۔ لیکن میں نے گیند چھوڑ دی اور نصیر بندہ خالی کھڑے تھے اور انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند گول میں پھینک دی۔‘
حمیدی کی وزنی ہاکی سٹک
پاکستانی ٹیم کے کپتان عبدالحمید حمیدی دوسرے کھلاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ وزنی سٹک استعمال کرتے تھے۔
عام طور پر فارورڈز کی سٹکیں 18 اونس کی ہوا کرتی تھیں۔ لیکن حمیدی 26 اونس وزنی ہاکی سٹک سے کھیلا کرتے تھے۔ وہ گیند کو پش نہیں کرتے تھے بلکہ زوردار ہٹ مارتے تھے۔
عبدالحمید حمیدی پاکستان کے پہلے ہاکی اولمپیئن ہیں جنھیں روم اولمپکس کے بعد تمغہ امتیاز دیا گیا تھا۔ ان کے بعد اس ٹیم کے مزید دو کھلاڑیوں نصیر بندہ کو 1962 میں اور منظور حسین عاطف کو 1963 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ جبکہ مطیع اللہ کو 1963 میں تمغہ امتیاز دیا گیا۔
عبدالوحید خان، انوار احمد خان اور منیر ڈار کے لیے حکومت پاکستان نے 2015 میں تمغہ امتیاز کا اعلان کیا تھا۔
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل کیسے بنا؟
روم اولمپکس جیت کر پاکستانی ٹیم جب وطن واپس آئی تو صدر جنرل ایوب خان نے کراچی میں فاتح ٹیم کو مدعو کیا۔ اسی ملاقات میں انھوں نے ہاکی کو قومی کھیل کا درجہ دینے کا باقاعدہ اعلان کیا۔
عبدالوحید خان بتاتے ہیں ʹٹیم کو مختلف شہروں میں لے جایا گیا تھا جہاں اس کا زبردست استقبال ہوا۔ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر ٹیم کی آمد کے موقع پر اتنے زیادہ لوگ تھے کہ میں اس ہجوم میں گِر پڑا تھا۔
’جب ٹیم داتا دربار جارہی تھی تو سڑک لوگوں سے بھری ہوئی تھی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہی حال دوسرے شہروں میں بھی تھا۔‘
عبدالوحید خان بتاتے ہیں ʹروم اولمپکس میں جب پاکستانی پرچم لہرایا گیا تو کئی لوگ ایسے بھی تھے جو پاکستان کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ لیکن پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب بھی پاکستان کا نام آتا تھا تو لوگ کہتے تھے یقیناً آپ ہاکی کے کھلاڑی ہیں۔ مطلب یہ کہ ہاکی اور پاکستان لازم و ملزوم بن گئے تھے۔‘
’ہم پر جیسے پہاڑ گر پڑا ہو‘
روم اولمپکس کا فائنل جیت کر پاکستانی کھلاڑیوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ دوسری طرف انڈین ٹیم کے لیے یہ شکست کسی سانحے سے کم نہ تھی۔
اس ٹیم میں شامل اولمپیئن کلونت اروڑا بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ʹفائنل کی یادیں ہمارے لیے خراب ہیں کیونکہ ہم ہارے تھے۔ اس وقت ایسا لگا تھا جیسے ہم پر پہاڑ گر پڑا ہو۔ آج بھی اس میچ کو یاد کر کے ہمیں بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ʹ
86 سالہ کلونت اروڑا کہتے ہیں ʹہمارے لیے یہی بات کسی دھچکے سے کم نہ تھی کہ پاکستان نے ہم پر پہلے گول کیسے کردیا۔ ہم اس کے عادی نہیں تھے۔
’ہماری ٹیم کے پاس گول کرنے والے کھلاڑی کم تھے۔ اس لیے ہم پاکستان کی ایک گول کی برتری ختم نہ کرسکے۔ کچھ کھلاڑی جنھیں ٹیم میں ہونا چاہیے تھا وہ سیاست کی وجہ سے اس ٹیم میں سلیکٹ نہیں ہوسکے تھے۔‘
روم اولمپکس کا فائنل کھیلنے والی انڈین ہاکی ٹیم کے سینٹر فارورڈ جسونت سنگھ اس وقت حیات ہیں اور ان کی عمر 90 سال ہوچکی ہے۔
جب میں نے ان سے فون پر رابطہ کر کے بات کرنا چاہی تو وہ زیادہ بات نہ کرسکے اور اتنا کہا کہ انھیں صرف یہ یاد ہے کہ وہ روم اولمپکس میں سینٹر فارورڈ تھے لیکن اس سے زیادہ کچھ اور یاد نہیں۔
یہ جسونت سنگھ ہی تھے جنھیں میچ کے ابتدائی لمحات میں گول کرنے کا موقع ملا تھا۔ لیکن وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔
عبدالوحید خان کہتے ہیں ʹجسونت سنگھ ساڑھے چھ فٹ طویل قامت کھلاڑی تھے اور جب میدان میں میرا ان سے سامنا ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ہم گلی ڈنڈا ہیں کیونکہ میں قد میں چھوٹا اور دبلا پتلا تھا۔‘
چرنجیت سنگھ بھی 90 کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ وہ ان فٹ ہونے کی وجہ سے فائنل نہیں کھیل سکے تھے تاہم اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے انھوں نے بی بی سی اردو کو مختصراً بتایا کہ ʹاس زمانے میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیمیں یکساں معیار رکھتی تھیں۔
’ہمیں میلبرن میں ہی یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ پاکستان سے ہونے والا آئندہ مقابلہ آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ہماری ٹیم ایسی نہیں تھی کہ گولڈ میڈل نہ جیت سکتی۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

اولمپکس ہاکی
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleعقیل عباس جعفری کی تحقیق :ناول نگار ابن صفی کی تخلیقی قوت کسی سائنسدان سے کم نہ تھی
Next Article کابل کے بش بازار میں امریکی سامان کی شاپنگ پر نکلے طالبان : مدثر ملک کی کابل ڈائری
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کوالالمپور:نیوزی لینڈ نے نیشنز ہاکی کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکت دے دی

جون 21, 2025

پاکستان ایف آئی ایچ نیشنز ہاکی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا

جون 20, 2025

ایشین چیمپیئنز ٹرافی ہاکی؛ چین پاکستان کو شکست دیکر فائنل میں پہنچ گیا

ستمبر 16, 2024

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ ستمبر 22, 2026
  • نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی ستمبر 22, 2026
  • دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا ستمبر 22, 2026
  • پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا ستمبر 22, 2026
  • دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم ستمبر 21, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.