لاہور : پنجاب پولیس نے سیشن کورٹ کے حکم پر ٹی وی اینکر غریدہ فاروقی کے لاہور کے گھر سے مبینہ طور پر ملازمت کرنے والی کم عمر لڑکی کو بازیاب کرا لیا۔ لڑکی کے والد محمد منیر نے اپنی بیٹی کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ لڑکی کو اس کی اور اس کے اہل خانہ کی مرضی کے بغیر وہاں قید رکھا گیا ہے۔ لڑکی کی بازیابی سے قبل مبینہ طور پر غریدہ فاروقی اور شازیہ نامی خاتون کے درمیان تین فون کالز کی ساؤنڈ ریکارڈنگز سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ ریکارڈنگ میں شازیہ نے غریدہ فاروقی پر لڑکی پر تشدد کرنے اور اسے اس کے والدین سے ملاقات سے زبردستی روکنے کا الزام لگایا۔ تاہم غریدہ فاروقی کے نام سے ریکارڈنگ میں پہچانے جانے والی دوسری خاتون نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے پہلی خاتون سے کہا کہ اگر انہوں نے کچھ غلط کیا ہے تو وہ اپنے الزامات کے ثبوت پیش کریں۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

