پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام کی خود مختاری ، مضبوطی، شفافیت، حکمرانی کا بحران ، وسائل کی منصفانہ و شفاف تقسیم، جوابدہی او رنگرانی کا موثر نظام ،ٹھوس بنیادوں پر مقامی منصوبہ بندی ، شہریوں کی فیصلہ سازی میں شمولیت اور کمزور طبقات کو مستحکم کرنے کی سیاست کی بنیاد ہی ملک میں سیاست ، جمہوریت اور قانون کی حکرانی کو تقویت دے سکتی ہے ۔ مقامی نظام حکومت کے بغیر جمہوریت اور جمہوری عمل مکمل طور پر ادھوار ہے ۔1973کے دستور کی شق 140-Aجو عملی طور پر اس مقامی نظام حکومت کو سیاسی ، انتظامی او رمالی خود محتاری سمیت عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو زیادہ بااختیار بنانے پر زور دیتا ہے ۔ اسی طرح آئین کی شق32جو مقامی نظام حکومت میں کسانوں ، مزدوروں ، اقلیتوں ، نوجوانوں سمیت عورتوں کی نمائندگی کو موثر اور بااختیار بنانے پر زور دیتا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک کا مجموعی سیاسی ، انتظامی نظام چاروں صوبوں میں مقامی نظام حکومت کی عدم موجودگی اور حکومتی عدم ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے ۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں مقامی انتخابات سے متعلق مقدمہ کی سماعت کی ۔ اس بنچ میں دیگر دو ارکان میں جسٹس اعجاز الحسن او رجسٹس مظاہر علی اکبر نقوی شامل تھے ۔ عدالت نے پنجاب کے مقامی حکومت کے ایکٹ 2019 کو بنیاد بنا کر اس کی شق 3کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے مقامی حکومتوں کے اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے ۔اگرچہ اس مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ آنا ہے ۔ جو مختصر فیصلہ سامنے آیا ہے اس کے بعد سابقہ مقامی حکومتوں کے اداروں کی مکمل بحالی پر ایک نئی سیاسی سطح پر بحث شروع ہوگئی ہے ۔عدالت نے بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کے ایکٹ 2019کی شق تین کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے جبکہ اسی مکمل ایکٹ کو ختم کرنے کی بات نہیں کی گئی ۔سابقہ ادارے مکمل طور پر موجودہ صورتحال میں عملی طور پر بحال ہوسکیں گے اس کا فیصلہ یقینی طور پر تفصیلی فیصلہ کی صورت میں سامنے آئے گا۔کیونکہ اسی ایکٹ 2019کی شق316پر کوئی بات مختصر فیصلہ میں شامل نہیں جو قانونی ابہام کی صورت پیدا کرتا ہے ۔
سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ تین حوالوں سے اہم ہے ۔ اول مقامی حکومتوں سے جڑے اداروں کو اس کی مدت ختم ہونے سے قبل ختم کرنا آئین سے متصادم یا اس کی خلاف ورزی ہے ۔دوئم مقامی حکومتوں کا نظام پورے ملک میں قانونی تحفظ سے محروم ہے اور صوبائی حکومتیں اس نظام کو اپنی مرضی ، منشا یا ذاتی و سیاسی مفاد کی بنیاد پر اپنے حق میں استعمال بھی کرتی ہے او راس نظام کا استحصال کرکے عوام کے بنیادی جمہوری حق پر ڈاکہ بھی ڈالتی ہیں ۔ سوئم حالیہ فیصلہ اگرسابقہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مکمل طور پر بحال نہیں بھی کرتا تو کم ازکم چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے فوری انتخابات کی طرف پیش رفت میں معاون ثابت ہوسکتا ہے ۔سیاسی ، جمہوری او رمقامی حکومتوں کے حمایت یافتہ افراد یا اداروں کو یہ نکتہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ اس ملک کی سیاسی و جمہوری حکومتیں صوبوں میں آئین کی شق140-Aاور 32کے تحت مضبوط اور خود مختار مقامی حکومتوں کی تشکیل کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں بناتیں ۔
یہ واقعی بڑ ا سیاسی المیہ ہے کہ مقامی حکومتوں کے حامی افراد یا اداروں کو اس نظام کی حمایت ، تسلسل ، خود مختاری ، شفافیت اور تواتر کے ساتھ انتخابات کے لیے سیاسی حکومتوں کے مقابلے مےں ملک کی اعلی عدالتوں پر انحصار یا بھروسہ کرنا پڑتا ہے ۔حالانکہ ملک میں18ویں ترمیم کے بعد جیسے مرکز نے اپنے سیاسی ، انتظامی او رمالی اختیارات وفاق سے صوبوں کو دیے ایسے ہی صوبوں کو ضلعوں ، تحصیل یا ٹاون یا یونین سمیت ویلج کونسل تک اختیارات کی تقسیم کے عمل کو منصفانہ بنیادوں پر یقینی بنانا ہے ۔لیکن ملک میں موجودچاروں صوبائی حکومتیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو اختیارات کی تقسیم ، مقامی حکومتوں کی خود مختاری او رتواتر سے انتخابات کے لیے تیار نہیں ۔ صوبائی حکومتوں کا سیاسی ماڈل مرکزیت یعنی زیادہ سے زیادہ اختیارات کو اپنی حد تک محدود کرنا ہے ۔ یہ ہی وہ سوچ وفکر ہے جو اس ملک مےں عام آدمی یا محروم طبقوں سمیت مجموعی طور پر غیر منصفانہ حکمرانی کے بحران کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔
یہ سوا ل بھی اعلی عدالتوں سمیت سیاسی وقانونی طبقہ میں زیر بحث آنا چاہیے کہ جو بھی مقامی حکومتوں کے صوبائی نظام ہیں وہ کیونکر آئین کی شقوں 140-Aاور 32سے متصادم ہیں او رکیوں صوبائی سطح پر لنگڑے ، کمزور،اپاہج نظام کو تشکیل دے کر حکمرانی کے پہلے سے موجود بحران کو اور زیادہ سنگینی کا شکار کرتے ہیں ۔بدقسمتی سے یہ سب کچھ جمہوریت، پارلیمنٹ ، قانون سازی اور سیاست سمیت عوامی مفاد کی چھتری کو بنیاد بنا کر ایک بڑے ” سیاسی ہتھیار “ کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے ۔ان مقامی حکومتوں کے نظام کو اگر واقعی ہم سیاسی و جمہوری بنیادوں پر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو اس نظام کی مدت اور وفاقی وصوبائی حکومتوں کی مدت ایک جیسی یعنی چار برس ہونی چاہیے ۔کیونکہ یہ خطرہ بدستور ہمیشہ موجود رہے گا کہ جو بھی صوبہ میں نئی حکومت آئے گی وہ سابقہ حکومت کے موجودمقامی نظام حکومت کو قبول کرنے کی بجائے اس پر شب خون مار کر اپنی مرضی کا سیاسی نظام لائے گی جو مقامی نظام کی خود مختاری اور تسلسل کے خلاف ہوگا۔
دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ کا جب تفصیلی فیصلہ سامنے آتا ہے تو کیا سابقہ نظام واقعی بحال ہوسکے گا۔ اگرچہ مجھے سیاسی ، انتظامی اور قانونی بنیاد پر اس کے امکانات کم او رنئے انتخابات کے امکانات زیادہ نظر آتے ہیں ۔کیونکہ سیاسی بنیادوں پر سابقہ مقامی نظا م میں مسلم لیگ ن کا عملا سیاسی غلبہ تھا او راس کی مکمل ایک برس کے لیے بحالی پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے مشکل فیصلہ ہوگا ۔ اس لیے پنجاب میں پی ٹی آئی کی اس وقت کی حکومت سابقہ اداروں کی بحالی کی بجائے نئے انتخابات کا راستہ اختیار کرے گی ۔پہلے ہی پی ٹی آئی کی حکومت اپنی بے شمار سیاسی سطح پر موجود غلطیوں کی بنیاد پر مقامی انتخابات کے لیے تاخیری حربے اختیار کرتی رہی ہے ۔لیکن اگر واقعی یہ سابقہ ادارے بحال ہوتے ہیں تو یہ پی ٹی آئی کے لیے نہ صرف ایک بڑا سیاسی دھچکہ ہوگا بلکہ صوبہ میں صوبہ او رضلع کی سطح پر ایک نئے سیاسی ٹکراو کو بھی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے ۔اس لیے یہ امکان موجود ہے کہ پنجاب کی حکومت کسی محفوظ راستہ کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے گی ۔ ویسے بھی عدالت کی کاروائی کا ایک بڑا حصہ انتخابات میں تاخیری حربے کے دائرہ کار میں بھی رہا ہے ۔
یہ جو بحران ہمیں پنجاب میں دیکھنے کو مل رہا ہے یہ مجموعی طور پر چاروں صوبوں کا بحران ہے او راس کی مضبوطی اور جمہوری عمل کو یقینی بنانے کے لیے ہمیں قومی سطح پر ان مقامی حکومتوں کے نظام کے بارے میں ایک جامع ، ٹھوس، مربوط اور شفاف پالیسی درکار ہے ۔ اس پالیسی کے لیے تمام فریقین کی سطح پر ایک بڑی مشاورت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اگر نظام کو سیاسی ، جمہوری اور قانونی بنیاد کی بجائے محض اپنے ذاتی مفاد کو مقدم بنا کر چلا نے کی کوشش کی جائے گی تو بحران کم نہیں بلکہ اور بڑھے گا۔ اسی طرح ارکان قومی وصوبائی اسمبلی سمیت صوبائی ومقامی حکومتوں کے درمیان اس نظام کی ساکھ کے لیے توازن پر مبنی پالیسی درکار ہے ۔کیونکہ صوبوں او رمقامی نظام حکومت کی سطح پر ٹکراو کی پالیسی سے نہ تو یہ نظام آگے چل سکے گا اور نہ ہی ہم حکمرانی کے بحران سے باہر نکل سکیں گے ۔ہماری بحث ماضی کا ماتم کرنے یا ایک دوسروں پر الزامات کی بوچھار ، لعن طعن کرنے کی بجائے مستقبل کی طرف ایک مضبوط، مربوط اور شفافیت پر مبنی مقامی نظام حکومت پر ہونی چاہیے جو سیاسی اور قانونی تقاضوں سمیت عام آدمی کے ریاست، حکومت او راداروں پر اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکے او رجو خلیج یا نظام پر عدم اعتماد لوگوں کا بڑھ رہا ہے اس کو کم کرکے بھروسہ پر مبنی نظام کو نئی سیاسی طاقت دی جاسکے ۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس)
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

