کہتے ہیں کہ قیام پاکستان سے پہلے ایک ہندو اخبار نے سرخی لگا دی کہ ”تمام مسلمان کافر ہو گئے“…… اس پر مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی، ایک مسلمان نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ متذکرہ ہندو اخبار نے مسلمانوں کی توہین کی ہے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے مسلمانوں سے معافی مانگنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے متذکرہ اخبار کے ہندو مدیر کو طلب کر لیا، مدیر نے کہا کہ مدعی اپنے ہم مذہب تمام فرقوں کے نمائندہ علماء کو عدالت میں لائے، وہ (مدیر) ان کے سامنے اپنی خبر کو سچ ثابت کرے گا۔ تاریخ طے ہو گئی، تمام مسلمان فرقوں کے وفود اپنے اپنے علماء کی قیادت میں عدالت پہنچ گئے۔
ہندو مدیر نے عدالت کے فاضل جج سے کہا کہ ایک ایک فرقے کے وفد کو کمرۂ عدالت میں باری باری بلایا جائے۔ ایک فرقے کا وفد آیا تو مدیر نے اس سے باقی فرقوں کے بارے میں رائے پوچھی تو اس نے باقی تمام فرقوں کو دلائل سے کافر قرار دیا۔ دوسرے وفد نے بھی یہی کیا۔ تیسرے کے خیال میں بھی باقی تمام فرقے کافر تھے۔ جب سب نے ایک دوسرے کو کافر قرار دے دیا تو مدیر موصوف نے عدالت سے کہا کہ یہ خود ہی جب ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں تو سبھی کافر ہو گئے ناں۔ مسلمان کہاں بچے؟ مَیں نے تو صرف ان سب کا مؤقف رپورٹ کیا ہے جھوٹ تو نہیں گھڑا…… اخبار کا کام خبر دینا ہے۔ خبر یہی ہے کہ سب مسلمان (ایک دوسرے کی نظر میں) کافر ہو گئے ہیں“…… تو اس پر معافی کیسی؟
متذکرہ سنا سنایا واقعہ (یا قصہ) یوں یاد آیا کہ آج کل وطن عزیز میں مختلف افراد، طبقات، ادارے، تنظیمیں ایک دوسرے کو وطن دشمن اور غدار قرار دے رہی ہیں۔ غدار سازی کے اس دور میں لگتا ہے کہ کوئی بھی محب وطن قرار نہیں پا سکے گا۔ کل ہمارے اس رویے سے فائدہ اٹھا کر جو کام ایک ہندو اخبار نے دکھایا تھا، آج کے ہمارے اس رویے سے وہی کام آج کا ہندو میڈیا دکھا رہا ہے۔ اس پر بھی ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ دیکھو تمہاری وجہ سے ہندوستانی میڈیا جشن منا رہا ہے۔ اللہ کے بندو، ہندوستان تو ہمارا کھلا دشمن ہے، اس کی سرکار، اس کی سیاسی قیادت، اس کا میڈیا تو دشمنی ہی کرے گا، ہاں سوال یہ ہے کہ ہم اپنے سجن کہاں ہیں؟
مَیں خود ہی تھا اپنی جان کے پیچھے پڑا ہوا
میرا شمار بھی تو میرے دشمنوں میں تھا……
جب سے حزب اختلاف کی گیارہ سیاسی جماعتوں نے کل جماعتی اجلاس (آل پارٹیز کانفرنس) منعقد کر کے پاکستان جمہوری تحریک پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی اور اس کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف مشترکہ تحریک چلانے کا آغاز کیا تو حکومت پر خاصا دباؤ آ گیا تھا۔ گوجرانوالہ، کراچی اور کوئٹہ کے کامیاب اور بھرپور جلسوں نے اپوزیشن کی تحریک کی کامیابی کے امکانات بڑھا دیئے تھے۔ کراچی میں مزار قائد کے واقعہ کو احمقانہ انداز میں نمٹانے سے وفاقی حکومت کی مہنگائی کے ہاتھوں زخم زخم ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور لگ رہا تھا کہ اپوزیشن نے حکومت اور حکمران جماعت پر کاٹھی ڈال لی ہے اور دل کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ کسی بھی وقت کوئی بھی خبر آ سکتی ہے، مگر پھر وہ ہو گیا جو اپوزیشن والوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ تین بار کے وزیر اعظم کی تین تقاریر، جانشین بی بی، کی قدرے دھیمے سروں میں سٹھنیاں، محمود اچکزئی کی نرم الفاظ میں گرم دھمکیاں، سابق سرکاری اتحادی اختر مینگل کے بغلی گھونسے، مولانا اویس نورانی کی زبان کی پھسلن سے جو تاثر ابھر رہا تھا، وہ شائد ان رہنماؤں اور اپوزیشن پارٹیوں کی حب الوطنی کی طنابیں ڈھیلی ہونے کے ناکافی ثبوت تھے کہ انتہائی متین و فہیم، جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ دو بار کے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں بیان نے کسر پوری کر دی۔
وہ انتہائی نرم خو اور کم گو سیاستدان ہیں جو مروت اور باہمی احترام کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ اس مختصر خطاب میں بھی وہ جوش میں نظر نہیں آئے۔ وہ الفاظ کا مناسب چناؤ کرنے کے عادی ہیں اور یہی بطور سپیکر ان کی طویل تربیت کا حصہ ہے۔ پتہ نہیں اس روز لفظوں سے ان کی شناسائی کہاں کھو گئی؟
اپنی وضاحت کے مطابق ان کا روئے سخن جس شخصیت کی طرف تھا، ان کے خطاب کے جملوں اور الفاظ کے دروبست سے ویسا لگ نہیں رہا تھا۔ اب ان سے سہواً ایسا ہوا ہے یا دانستہ انہوں نے مغالطہ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، یہ تو وہ خود ہی بہتر جانتے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ اس کے نتیجے میں متحدہ اپوزیشن کی پرواز نہ صرف ناہموار ہو گئی ہے، بلکہ حکمران جماعت کی سیاست کے تنِ مضمحل میں جان پڑ گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر آندھیوں کا رخ بدل گیا ہے۔ اپوزیشن کے صوبائی خود مختاری اور سول بالا دستی کے نہلے پر حکومت کے جلی و خفی ہمدردوں نے حب الوطنی کا دہلا پھینک دیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نجانے کیوں یہ بھول گئی کہ جہاں بغاوت کی گھاٹی شروع ہوتی ہے، وہاں حق گوئی و بیباکی کو بھی بریکیں لگانا پڑتی ہیں۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ (ن) اسی لئے بڑی پارٹی ہے کہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں مقبول ترین ہے۔ اگر وہ پنجاب میں کمزور پڑ جائے تو اس کی سیاست کا بے گورو کفن لاشہ ماتم گساروں کو ترسنے لگے۔ وطن عزیز کی خالق جماعت کو اپنی تخلیق کی بقاء و سلامتی کی نزاکتوں کو سمجھنا ہوگا اور یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ پنجاب کے مزاج کا تاریخی پس منظر کیا ہے، یہاں سیاسی و عسکری تعاون و ہم آہنگی کا کردار بہت اہم ہے۔ یہاں کے سیاسی مزاج میں ”انقلابیت“ کا تڑکا کبھی مضبوط و مقبول نہیں رہا…… عوام تقریریں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور آغا شورش کاشمیریؒ کی سنتے تھے، مگر ووٹ مسلم لیگ اور اس کے بطن سے جنم لینے والی پارٹیوں کو دیتے تھے۔ جس کسی نے بھی پنجاب میں سیاست کرنی ہے، اسے پنجاب کے مزاج کو سمجھنا ہوگا یا بدلنے کا انتظار کرنا ہوگا:
جو یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )
ہفتہ, ستمبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول میں اضافہ مسلسل جاری : آج 391 روپے 30 پیسے لیٹر ملے گا
- پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
- پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم
- پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ

