میں نے اس بارے میسج کرنے والے ذمہ دار افسر کو ثبوت بھیجنے کو کہا ،مگر انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا ،لیکن یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ ہمارے یہاں ایسے واقعات دیدہ دلیری کے ساتھ ہوتے ہیں ۔تازہ ترین واقعہ مجید اچک زئی کو رہا کردینے کا ہے ،جس بارے عدالت کی طرف سے تاحال کسی قسم کی وضاحت نہیں آئی۔زندگی کی بازی ہارنے والے کا تعلق پولیس سے تھا اب محکمہ پولیس اپنے بے گناہ مارے گئے اہلکار بارے کیا کرتا ہے اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔
جس واقعے سے متعلق میسج وصول ہوا ہے وہ تو ویسے ہی بہت پرانا ہے جس کی فائل ڈھیروں فائلز کی بھیڑ میں کہیں گم ہوچکی ہوگی،اس لئے گڑا مردہ اکھیڑنا ضروری نہیں ہے ،مگر سی سی پی او لاہور سے ایک سوال کرنا تو بنتا ہے کہ حضور ! جب آپ فیصل آباد میں ایس پی تھے تو ڈکیتی کے ایک ملزم جو پولیس کے پاس ڈکیتی کے مال کی برآمدگی کے سلسلے میں ریمانڈ پر تھا اسے ایک پولیس افسر نے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ اور کسی عدالتی حکم کے بغیر رہا کردیا ۔یہ معاملہ ویسے تو ہائیکورٹ تک گیا مگر ایک ایڈیشنل سیشن جج نے ہائیکورٹ میں جعلی بندے کو مدعی کے طور پر پیش کرکے لئے گئے فیصلے کوماننے سے انکار کرتے ہوئے اس پولیس آفیسر کے وارنٹ نکال دیئے مگر وہ افسر فیصل آباد سے تبادلہ کراکے کہیں اور چلاگیا تاہم ایڈیشنل سیشن جج نے اس پولیس افسر کو اشتہاری قرار دے دیا ۔
یہ تو جو گزری سو گزری سردست قضیہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کا تھا جو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے دربار میں پہنچا،مگر ایسے فیصلے ان کے بس میں نہیں ہوتے بلکہ کشتی وہی پار لگاتے ہیں جنہوں نے منجدھار کے بیچ ڈالی ہوتی ہے ۔دو سالہ مدت اقتدار میں انہوں نے یا ان کے قائد نے کیا ہی کیا ہے! افراتفری کا ایک عالم چہار سو پھیلا ہوا ہے ،پنجاب کے چار آئی جی ز پہلے ہی حالات کی بھینٹ چڑھ چکے تھے جو اب پانچویں آئی جی کو بارگاہِ حکومت ِ پنجاب کی قربان گاہ کی چوکھٹ پر بے دردی سے ذبح کردیا گیا تو کیا ہوا ۔وزیر اعظم چپ کے روزے میں ہیں ،ملک کا بڑا صوبہ اچھی شہرت رکھنے والے آفیسرز سے بڑی کامیابی کے ساتھ پاک کیا جارہا ہے ۔سنا ہے اس سارے کھیل کے پیچھے پاک پتن والوں کا ہاتھ ہے جو بہت مہارت سے پتلیاں نچا رہے ہیں ۔سب ان کی دسترس میں ہے ” جوچاہے ان کا حسنِ کرشمہ ساز کرے “َ۔
آخر یہ سارا وبال ان دنوں پولیس ہی پر کیوں ؟ وہ بھی ایسے آفیسر ز جن کی پوری سروس میں کہیں بددیانتی یا بد عنوانی کا داغ نہیں ہے۔پھر کسی چھوٹے افسر کو بڑے افسر پر ترجیح دینا ویسے ہی اخلاقی اقدار کے منافی ہے ،اول تو سی سی پی او کا آئی جی کے روبرو ڈٹ جانا ہی نظم وضبط کی خلاف ورزی ہے اس پر مستزاد اس کی ضد پر ایک سینیئر ترین افسر کو گھٹنے ٹکوا دینا، بدترین فعل ہے جس کی کسی طور سروسز قواعدو ضوابط میں گنجائش نہیں ہوا کرتی ،نہ ہی ہونی چاہئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نئے آئی جی پنجاب انعام غنی ایک قابل افسر ہیں ،وہ ایف آئی اے ،آئی بی میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں ،یو این مشن موزمبیق ،آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی امریکہ اور ایمبیسی آف پاکستان کویت میں بھی کام کر چکے ہیں پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے دوران ان کی کاکردگی مثالی رہی ہے ،نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔تاہم ان کی بطور آئی جی پنجاب تعیناتی پر پولیس کے ایک سینئر آفیسر طارق مسعود یٰسین نے ان کے ماتحت کام کرنے سے انکار کردیا ہے ،علاوہ ازیں متعدد اور آفیسرزمیں بھی تحفظات پائے جاتے ہیں ۔
اس ساری صورت حال میں سب سے اہم اور بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک کے بڑے صوبے میں اس قسم کی افراتفری کی فضا میں ایک انتہائی تجربہ کا رپولیس افسر اپنی عمدہ کار کردگی کیسے دکھا سکے گا جبکہ اس کے محکمے کے اندر اس کے ہمدردوں اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں کی اس کے ساتھ ہم آہنگی نہ پائی جاتی ہو ۔کیا تھوڑے ہی عرصے بعد انہیں بھی حکومتی نالائقی کی سان پر چڑھا دیا جائے گا؟
اسلم انصاری کا ایک شعر دل ودماغ میں گونج رہا ہے کہ
یونہی ہر آہٹ پہ دیوارِ دل گرتی رہی
دیکھنا یارو یہی ہوگا کہ مرجائیں گے ہم
پیر, ستمبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- پی آئی اے، بیجنگ اور شریکے : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- پی ٹی آئی پنجاب کے سابق صدر حماد اظہر ملتان سے گرفتار۔لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا
- صوبوں کی بحث ۔۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا

