کابل: کابل میں غیرملکی سفارتخانوں اور صدارتی محل کے قریب ہونے والے ایک دھماکے میں 80 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہو گئے ۔ افغان حکام کے مطابق یہ دھماکہ بدھ کی صبح آٹھ بج کی بیس منٹ پر وزیر اکبر خان نامی علاقے میں ہوا جسے شہر کا سفارتی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کسی ٹرک یا پانی کے ٹینکر میں لایا گیا تاہم تاحال یہ واضح نہیں کہ شہر کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں یہ گاڑی کیسے پہنچی۔
افغان وزارتِ صحت کے اہلکار اسماعیل کاؤسی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 80 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے اور اس میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ زخمیوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ذمبیق سکوائر میں ہونے والے اس بم دھماکے کی شدت سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر واقع گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق اس واقعے میں کچھ پاکستانی سفارتکاروں اور سفارتخانے کے عملے کی رہائش گاہیں بھی متاثر ہوئی ہیں اور ان میں سے کچھ معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
(بشکریہ:بی بی سی)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

