کیا عجب بات ہے کہ بعض لوگوں کی ہر گفتگو کی تان اس امر پر ٹوٹتی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ رمضان المبارک میں مساجد میں پڑھی جانے والی تراویح اور نماز عید ہے جس نے وبا کے پھیلاؤ کا گراف بڑی حد تک بڑھا دیا ہے ۔مذہب بے زار لوگوں کا یہ سوقیانہ رویہ غیر منطقی ہے اور ایسی رائے بنانے اور پھیلانے والوں کی دماغی حالت پر ترس آتا ہے ۔ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے ؟ یہ کوئی ایسی گتھی نہیں جو آسانی سے سمجھ نہ آسکے۔
ہمارے آزاد خیال دانشور شروع دن سے دیگر نظریات کے حوالے سے اسلام کے خلاف بلا دلیل تنقید کی روش پر اڑے رہے ہیں ،انہوں نے کبھی اپنی تہذیب و ثقافت کے تناظر میں اسلام کو نظریہ حیات ماننے والوں کی ذہنی اُپج کا صحیح اندازہ لگانے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ اس بارے ہمیشہ بدگمانیاں پالتے رہے اور اپنے بے جا تنقیدی رو یوں سے لوگوں کے ساتھ تعلق بڑھانے کی بجائے فاصلے بڑھانے کی ڈگر پر چلتے رہے ،یہی وجہ ہے کی بڑے بڑے نامور روشن خیال، ترقی پسنددانشور آخر کو مذہب کی طرف مراجعت پر مجبور ہوئے اور وہ جنہوں نے ” انگارے“ کی اشاعت سے اشتراکیت اورانقلاب روس کی چھتری تلے پناہ لیکر ادب میں نئی جہتوں کے امکانات کے دَر وا کرنے کی جستجوئے پیہم کی تھی ترجمہ قرآن لکھ کر جسم و روح کی پاکیزگی کی توفیق سے ہمکنار ہوئے ۔
آج نئے ذہن کو مذہب بے زاری کی راہ پر چلانے کے لئے کورونا وائرس کے اثرات کو مسجد و منبر سے جوڑنے کی ایک نئی کوشش کا آغاز ہوا ہے اور اسی کو روحِ عصر بنا کر ایک اور نظریاتی سنگ میل تراشا جا رہا ہے ،جس سے صاف عیاں ہے کہ ہمارے نظریہ سازوں نے ماضی کی بے ہیت نظریاتی ٹھوکروں سے کچھ نہیں سیکھا ۔ہم آج تک یہ جان ہی نہیں پائے کہ اسلام بھی ایک ترقی پسند نظریہ حیات ہے ،اسی نے جدلیاتی نقطہ نظر کی بنیاد رکھی ،یہ معروضی تبدیلیوں کو اجماع اور اجتہاد کی بنیاد پر اپنے اندر سمونے کی پوری سکت رکھتا ہے ،وہ اجماع اور اجتہاد جس کی بنیاد قرآن و حدیث کی روشنی میں رکھی گئی ہو ۔جدید فکری بے راہ روی کی بے بنیاد اساس پر من گھڑت سائنسی دلائل کے ڈھانچے کو استوار نہ کیا گیا ہو ۔
اس سلسلے میں مسٹر اور مُلّاکے باہمی تناؤ،من مانی اور ہٹ دھرمی کی روش نے پہلے ہی بہت خرابی پیدا کی ، دونوں اپنے اپنے نظریئےکی تلوار لئے مباہلے اور مناظرے پر تُلے بے معنی و لایعنی دلائل کے ذریعے اپنے سوزیوں کے ہمراہ ہر پل رن سجانے کی ٹوہ میں اپنے اپنے لحاظ سے فکرو نظر کی خدمت میں لگے رہے ،دراصل جہالت کے پودے کو پروان چڑھانے کی سعی ناروا ہی ہے جس نے ہمیشہ کسی نئے فتنے کو جنم دیا اور یہ آج کی نہیں صدیوں پرانی رسم ہے۔
کورونا ایک وائرس ہے جسے شروع میں سرکاری اشتہاری مہم میں کہا گیا کہ یہ”ایک مہلک وبا ہے مگر جان لیوا نہیں “ پھر جب اس کی تباہ کاریوں کا دائرہ وسیع ہوا تو اشتہار کی عبارت تبدیل کر کے ”مہلک وبا“ کے” جان لیوا “ہونے کی تصدیق کا عندیہ دینا شروع کردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤمیں محراب و ممبر کا کوئی عمل دخل نہیں ،اس کے مہلک سے جان لیوا ہونے کے سارے عمل کے پیچھے حکومتی ناتجربہ کاری ،کوتاہی ،غیر سنجیدگی اور ناکام منصوبہ بندی کارفرماہے۔ جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے اور ابھی ایک لمبا عرصہ اس وائرس کی چیرہ دستویوں اور ہولناکیوں کے سنگ جینا ہوگا۔
ہم وہ سنگ دل قوم ہیں جس نے تہتر سال بیت جانے کے باوجود تہذیبی اور ثقافتی طور پر اپنی شناخت کا کوئی وسیلہ نہیں بنایا ہمارے نظام ہائے زندگی بے مہار جانور کی طرح ہیں جو جدھر مرضی منہ مارتا پھرے ،ہمارے سیاسی رویوں تک نے ابھی تک بلوغت کی عمر کو نہیں چھوا ،لوگ مر رہے ہیں ،بے روزگاری فروتر ہورہی ہے ،منہگائی آسمان کو چھورہی ہے مگر ہمارے سیاست دان غریب عوام کا دکھ بانٹنے کی بجائے انتقام لینے اور حکومت گرانے کی سازشوں کے جال بننے میں مصروف ،کسی سیاسی جماعت کو یہ فکر دامن گیر نہیں ہے آگہی کی کوئی مہم چلائے لوگوں کو کرونا وائرس کے ساتھ جینے کے ڈھنگ سکھائے، حکومت نے ” احساس“ کے ذریعے لوگوں میں امدادی فنڈ تقسیم کرنے کی مہم شروع کی تو کسی نے حکومت کے اس عمل کو نہیں سراہا اوراب حکومت اس فنڈ کی فراہمی سے دست کشی کا عندیہ دینے کے درپے ہے ،سیاستدانوں ،معزز ججوں اور حزب مخالف جماعتوں کے چھوٹے بڑے کارکنوں نے ”احساس“ کے خلاف سوشل میڈیا پر بد تہذیبی کا جو طوفان کھڑا کیا الامان الحفیظ۔زندہ اقوام اور اس کے دانشور وسیاستدان اس طور نہیں جیتے جیسے ہم زندگی کر رہے ہیں اور نہ ہی فکرو نظرکے شجر اس طور پھلتے پھولتے اور نمو پاتے ہیں جیسے ہمارے نظریہ ساز اور دانشور چاہتے ہیں ۔اسلام ہمارا دین ہے اور یہی ہماری سلامتی کا ضامن ہے اس کے دامن میں پناہ لیکر ہی ہم عافیت پا سکتے ہیں۔مسجد ومنبر کو تباہی کا ذمہ دار قرار دے کرہم پاکستان کی نظریاتی جڑوں کو اتنی آسانی سے کمزور نہیں کر سکتے ،جتنی کہ مذہب بے زار تصور کرتے ہیں۔
ہمارے آزاد خیال دانشور شروع دن سے دیگر نظریات کے حوالے سے اسلام کے خلاف بلا دلیل تنقید کی روش پر اڑے رہے ہیں ،انہوں نے کبھی اپنی تہذیب و ثقافت کے تناظر میں اسلام کو نظریہ حیات ماننے والوں کی ذہنی اُپج کا صحیح اندازہ لگانے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ اس بارے ہمیشہ بدگمانیاں پالتے رہے اور اپنے بے جا تنقیدی رو یوں سے لوگوں کے ساتھ تعلق بڑھانے کی بجائے فاصلے بڑھانے کی ڈگر پر چلتے رہے ،یہی وجہ ہے کی بڑے بڑے نامور روشن خیال، ترقی پسنددانشور آخر کو مذہب کی طرف مراجعت پر مجبور ہوئے اور وہ جنہوں نے ” انگارے“ کی اشاعت سے اشتراکیت اورانقلاب روس کی چھتری تلے پناہ لیکر ادب میں نئی جہتوں کے امکانات کے دَر وا کرنے کی جستجوئے پیہم کی تھی ترجمہ قرآن لکھ کر جسم و روح کی پاکیزگی کی توفیق سے ہمکنار ہوئے ۔
آج نئے ذہن کو مذہب بے زاری کی راہ پر چلانے کے لئے کورونا وائرس کے اثرات کو مسجد و منبر سے جوڑنے کی ایک نئی کوشش کا آغاز ہوا ہے اور اسی کو روحِ عصر بنا کر ایک اور نظریاتی سنگ میل تراشا جا رہا ہے ،جس سے صاف عیاں ہے کہ ہمارے نظریہ سازوں نے ماضی کی بے ہیت نظریاتی ٹھوکروں سے کچھ نہیں سیکھا ۔ہم آج تک یہ جان ہی نہیں پائے کہ اسلام بھی ایک ترقی پسند نظریہ حیات ہے ،اسی نے جدلیاتی نقطہ نظر کی بنیاد رکھی ،یہ معروضی تبدیلیوں کو اجماع اور اجتہاد کی بنیاد پر اپنے اندر سمونے کی پوری سکت رکھتا ہے ،وہ اجماع اور اجتہاد جس کی بنیاد قرآن و حدیث کی روشنی میں رکھی گئی ہو ۔جدید فکری بے راہ روی کی بے بنیاد اساس پر من گھڑت سائنسی دلائل کے ڈھانچے کو استوار نہ کیا گیا ہو ۔
اس سلسلے میں مسٹر اور مُلّاکے باہمی تناؤ،من مانی اور ہٹ دھرمی کی روش نے پہلے ہی بہت خرابی پیدا کی ، دونوں اپنے اپنے نظریئےکی تلوار لئے مباہلے اور مناظرے پر تُلے بے معنی و لایعنی دلائل کے ذریعے اپنے سوزیوں کے ہمراہ ہر پل رن سجانے کی ٹوہ میں اپنے اپنے لحاظ سے فکرو نظر کی خدمت میں لگے رہے ،دراصل جہالت کے پودے کو پروان چڑھانے کی سعی ناروا ہی ہے جس نے ہمیشہ کسی نئے فتنے کو جنم دیا اور یہ آج کی نہیں صدیوں پرانی رسم ہے۔
کورونا ایک وائرس ہے جسے شروع میں سرکاری اشتہاری مہم میں کہا گیا کہ یہ”ایک مہلک وبا ہے مگر جان لیوا نہیں “ پھر جب اس کی تباہ کاریوں کا دائرہ وسیع ہوا تو اشتہار کی عبارت تبدیل کر کے ”مہلک وبا“ کے” جان لیوا “ہونے کی تصدیق کا عندیہ دینا شروع کردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤمیں محراب و ممبر کا کوئی عمل دخل نہیں ،اس کے مہلک سے جان لیوا ہونے کے سارے عمل کے پیچھے حکومتی ناتجربہ کاری ،کوتاہی ،غیر سنجیدگی اور ناکام منصوبہ بندی کارفرماہے۔ جس کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے اور ابھی ایک لمبا عرصہ اس وائرس کی چیرہ دستویوں اور ہولناکیوں کے سنگ جینا ہوگا۔
ہم وہ سنگ دل قوم ہیں جس نے تہتر سال بیت جانے کے باوجود تہذیبی اور ثقافتی طور پر اپنی شناخت کا کوئی وسیلہ نہیں بنایا ہمارے نظام ہائے زندگی بے مہار جانور کی طرح ہیں جو جدھر مرضی منہ مارتا پھرے ،ہمارے سیاسی رویوں تک نے ابھی تک بلوغت کی عمر کو نہیں چھوا ،لوگ مر رہے ہیں ،بے روزگاری فروتر ہورہی ہے ،منہگائی آسمان کو چھورہی ہے مگر ہمارے سیاست دان غریب عوام کا دکھ بانٹنے کی بجائے انتقام لینے اور حکومت گرانے کی سازشوں کے جال بننے میں مصروف ،کسی سیاسی جماعت کو یہ فکر دامن گیر نہیں ہے آگہی کی کوئی مہم چلائے لوگوں کو کرونا وائرس کے ساتھ جینے کے ڈھنگ سکھائے، حکومت نے ” احساس“ کے ذریعے لوگوں میں امدادی فنڈ تقسیم کرنے کی مہم شروع کی تو کسی نے حکومت کے اس عمل کو نہیں سراہا اوراب حکومت اس فنڈ کی فراہمی سے دست کشی کا عندیہ دینے کے درپے ہے ،سیاستدانوں ،معزز ججوں اور حزب مخالف جماعتوں کے چھوٹے بڑے کارکنوں نے ”احساس“ کے خلاف سوشل میڈیا پر بد تہذیبی کا جو طوفان کھڑا کیا الامان الحفیظ۔زندہ اقوام اور اس کے دانشور وسیاستدان اس طور نہیں جیتے جیسے ہم زندگی کر رہے ہیں اور نہ ہی فکرو نظرکے شجر اس طور پھلتے پھولتے اور نمو پاتے ہیں جیسے ہمارے نظریہ ساز اور دانشور چاہتے ہیں ۔اسلام ہمارا دین ہے اور یہی ہماری سلامتی کا ضامن ہے اس کے دامن میں پناہ لیکر ہی ہم عافیت پا سکتے ہیں۔مسجد ومنبر کو تباہی کا ذمہ دار قرار دے کرہم پاکستان کی نظریاتی جڑوں کو اتنی آسانی سے کمزور نہیں کر سکتے ،جتنی کہ مذہب بے زار تصور کرتے ہیں۔

