میں ادبی شخصیت ہوں یا نہیں ہوں لیکن مجھے ادبی محفلوں میں جانے کا بہت شوق ہے میں سمجھتی ہوں کہ ایسی محفلوں میں جانے سے انسان کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتا ہے یہی سوچ کر میں ہمیشہ سخنور فورم کی ادبی بیٹھک کا حصہ بننے کی کوشش میں رہی۔
جب بھی میں اس فورم پر گئی میں اپنے دامن میں بہت کچھ سمیٹ کرلا ئی۔وہاں جا کر ہر زبان سے تعلق رکھنے والے با ادب لوگوں اور ملتان کی چنیدہ شخصیات سے ملاقات کا شرف بھی ملا۔ مگر بعض اوقات میری دوسری مصروفیات کی وجہ سے غیر حاضری ہوجاتی تو اس کا مجھے بہت افسوس ہوتا ۔
پچھلی بیس فروری کو بھی کچھ ایسی ہی مصروفیت کی وجہ سے میں ایک اہم نشست کا حصہ نہ بن سکی۔ جس کاتاحال افسوس ہے ۔مگر رضی بھائی کی محبت میں کبھی فراموش نہیں کرسکتی کہ انہوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ آپ اپنی کتاب تو لے لیں۔ میں گزشتہ ہفتے ان کے آفس پہلی بار گئی۔ اور میں وہاں کاخوبصورت ادبی ماحول اور وہاں کے لوگوں کو سامنے دیکھ کر بہت حیران ہوئی کہ میرے پہنچنے سے پہلے ملتان کی نامور شخصیات شاکر بھائی ، قمر رضا بھائی اور نوازش بھائی رضی بھائی کے ہمراہ وہاں پہلے سے موجود تھے میز پر کتابوں کا ڈھیر تھا اور بڑی سیر حاصل گفتگو ادب پہ ہو رہی تھی ۔
باتوں باتوں میں وقت کا احساس ہی نہ ہوا اور چائے کی چسکیاں لینے کے بعد کتاب بغل میں دبائے میں وہاں سے گھر آگئی سخنوران ملتان کا جب بغور مطالعہ کیا۔ تو میں داد دیے بغیر نہ رہ سکی کہ رضی بھائی نے کیسے کیسے لوگوں سے ملوا دیا ہے ۔بعض لوگ تو ایسے تھے جن کے نام بھی میں نے پہلی دفعہ اس میں پڑھے ہیں ۔ابھی یہ ایک سال کا تعارف اور احوال ہے ۔دس سال کا تعارف اور احوال کتنا ہوگا ۔کتاب جوں جوں پڑھتی گئی بہت ساری پرتیں مجھ پر کھلتی گئیں ۔کہ لوگ تو اپنے نام کے لیے اپنی شاعری اپنی نثر اپنی کلیات چھپوا لیتے ہیں ۔رضی شاکر اور قمر کو کیا ہوا کہ لوگوں کی تاریخیں رقم کرتے پھر رہے ہیں اس میں ان کا کیا مفاد ہوگا ۔میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔
ہاں یہ بات ضرور میرے ذہن میں آئی۔کہ ملتان کے شاعر ادیب اور معتبر لوگوں کی مختصر بایوگرافی کو یکجا کرکے تاریخ کا حصہ بنا نا چاہا ہے ۔یہ ادبی بیٹھک انشاءاللہ برس ہا برس تک چلتی رہے گی کیونکہ اس کو چلانے والے سچے کھرے اور لوگوں کو آپس میں ملانے والے ہیں ۔شہر میں مختلف جگہوں پر مختلف طبیعت کے لوگ پائے جاتے ہیں اور انہیں کے درمیان جب کبھی کوئی بات ادبی بیٹھک کی ہوتی تو یہی گمان گزرتا کہ شاید یہ بند ہوجائےگی ۔کئی دفعہ اونچ نیچ آتے رہے۔ کبھی ایسا عالم بھی دیکھا کہ پاؤں دھرنے کی جگہ نہیں اور کبھی ایسا بھی ہو ا کہ چار لوگ بیٹھے ہوتے تھے۔اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ میں نے جا کے نظامت کی اور محفل سجا لی ۔
رضی بھائی نے ایک کوشش یہ بھی کی کہ فیس بک پر باقاعدگی سے روز ایک تعارف دیا کرتے تھے اور کئی لوگوں کا یہ تعارف فیس بک پہ بھی محفوظ ہے۔میں سمجھتی ہوں یہ جو ادبی دستاویز رقم کر نے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ بہت بڑا کام اور ملتان کی تاریخ ہے ۔یہ بات بالکل سچ ہے کی کسی بھی کام کو کرنے کے لئے نیت نیک رکھنی پڑتی ہے پھر اللہ کے فضل سے اور دوستوں کے تعاون سے سارے راستے خود بخود سیدھے ہو جاتے ہیں رضی بھائی میں آپ کی بے حد شکر گزار ہوں آپ نے نہ صرف مجھے سخنوران ملتان میں جگہ دی بلکہ مجھے اپنے آفس بلا کے بڑی عزت سے کتاب بھی دی ۔اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد مجھے لگتا ہے ادبی بیٹھک میں سخنوران ملتان کا اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔اللہ سخنور فورم کے منتظمین رفقائے کار اور دوستوں کو سلامت رکھے ۔
پیر, اکتوبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- الف کا پولیس مقابلہ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- کیا وزیر اعلیٰ کوتشدد کا پرچار زیب دیتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم

