ریاض : سعودی عرب کی ایک عدالت نے پانچ افراد کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنا دی ہے۔سرکاری وکیل کے مطابق یہ واقعہ بغیر اجازت کے کیے گئے ایک آپریشن کے نتیجے میں پیش آیا تھا اور 11 افراد کو اس قتل کے الزام میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کے ایک ماہر کے مطابق یہ ایک ’ماورائے قانون قتل‘ تھا۔اقوامِ متحدہ کی سپیشل ریپرٹور ایگنس کیلامارڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی تفتیش کی جائے۔
سعودی ولی عہد نے اس واقعے سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، تاہم اکتوبر میں انھوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کے رہنما کی حیثیت سے وہ اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
اتوار, ستمبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- نئے صوبے ۔۔بسم اللہ اسلام آباد سے کریں : سہیل وڑائچ کا کالم
- زیارت۔۔ مسلح جنگجوؤں کا فوجی قافلے پر حملہ 16 فوجی شہید : بی ایل اے اور ٹی ٹی میں تعلق پر سوالات
- نثار کھوڑو کی تحریکِ التوا یا تحریکِ پیش بندی؟ : نصرت جاوید کا کالم
- بلوچستان: ضلع کچھی میں مسلح افراد کا پولیس تھانے اور سرکاری دفاتر پر حملہ
- صوبوں کی تقسیم اور ملک کا ’مفرور صدر‘ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- دوسری دنیا کا قیام ممکن ہے : کمیونسٹ انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس پر فہیم عامر کا خصوصی مضمون
- پیٹرول تین اور ڈیزل ڈھائی روپے لیٹر مہنگا کر دیا گیا
- پاکستان اور بھارت دیواریں گرائیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- سانحہ پمز ، ننھے فرشتے اور اجل کا فرشتہ : رضی الدین رضی کا کالم
- منڈی بہاؤ الدین میں فائرنگ کے واقعے میں جماعت احمدیہ کا مقامی عہدیدار ہلاک

