ملتان : اے پی پی ۔ ناقص تفتیش اور گواہوں کے منحرف ہوجانے کے باعث رواں برس کے دوران گزشتہ تین ماہ (مئی ،جون،جولائی)میں جنسی زیادتی کے 65مقدمات میں سے کسی ایک میں بھی کسی ملزم کو سزانہیں ہوسکی۔ مقامی کرائم رپورٹر حسیب اعوان کے مطابق سال 2022ءمیں ایسے 353مقدمات کے 323ملزمان بری ہوگئے تھے۔ لوک سجاگ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2023ءمیں ریپ کے 30مقدمات کافیصلہ ہوا جن میں سے ایک ملزم کو عمرقید کی سزا ہوئی ۔29مقدمات میں گواہوں کے منحرف ہونے کے باعث ملزمان بری ہوگئے۔ فروری میں 29مقدمات میں 2ملزمان کوسزائے موت ،ایک کو قید اور جرمانہ ہوا ،26بری کردیئے گئے۔ اپریل 2023ءمیں ایک ملزم کوعمرقید ہوئی ،22بری کردیئے گئے ۔جون کے مہینے میں 28میں سے 9ملزمان رہا ہوگئے اورجولائی میں 13مقدمات کے تمام ملزمان بری ہوگئے۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نذرحسین ٹانگرہ نے اس حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ صنفی تشدد کی روک تھام کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ناقص تفتیش ملزمان کی بریت کاباعث بنتی ہے۔میڈیکل رپورٹ میں تاخیر اورغلطیاں بھی عدالتوں سے ریلیف کاباعث بن جاتی ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اینٹی ریپ آرڈیننس 2020ءکے بعد سخت اورفوری فیصلے متعارف کرائے گئے اور بروقت فرانزک اور ڈی این اے ٹیسٹ کویقینی بنایاجارہاہے۔
ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

