ملتان ۔۔ گردوپیش رپورٹ ۔۔ رضی الدین رضی سے ۔۔۔پنجابی کے نام ور شاعر ، صحافی اور دانش ور ولی محمد واجد کی 22 ویں برسی آج تیس اپریل کو منائی جا رہی ہے ۔ ولی محمد واجد یکم جولائی 1936ءکو جالندھر(بھارت)میں پیداہوئے۔قیام پاکستان کے بعد وہ ملتان آئے اور صحافت کو ذریعہ معاش بنایا۔ولی محمد واجد نے فارسی ،اردو اور پنجابی میں ایم اے کیا۔شاعری میں نعت ان کاخاص میدان تھا۔وہ نعت خوانی بھی کرتے تھے اور محفلوں میں اپنی نعتیں ترنم کے ساتھ سناتے تھے۔

ولی محمد واجد 1966ءمیں روزنامہ امروز سے وابستہ ہوئے۔ آزادی صحافت کی تحریک میں قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ کالونی ٹیکسٹائل ملز میں قتل عام کی رپورٹنگ کے دوران وہ ایسے حقائق منظر عام پر لائے کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ بعد ازاں رہائی کے بعد انہیں سزا کے طور پر سکھر بھیج دیا گیا ۔ انہوں نے کارکن صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد کے دوران بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کیا ۔ ولی محمد واجد نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں ۔ انہوں نے ملتان میں پنجابی اکیڈمی کی بنیاد رکی جس کے اجلاس طویل عرصہ تک باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہے ۔ رو زنامہ امروز کی بندش کے بعد 1993ءمیں وہ جماعت اہلسنت کے رسالے ” السعید “ کے ساتھ ایڈیٹر کے طورپر منسلک ہوئے۔30 اپریل 2003ءکو طویل علالت کے بعد وہ ملتان میں انتقال کرگئے۔ ولی محمد واجد کا ایک ہی نعتیہ مجموعہ والضحی کے نام سے 1981ء میں ملتان سے شائع ہوا ۔
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

