انقرہ :ترکی کے سب سے طاقتور صدر رجب طیب اردوغان اتوار کے انتخابات میں اپنے خلاف متحد ہونے والی حزب اختلاف کے مقابلے میں اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ان کے اہم حریف کمال قلیچداراوغلو جمعے کے روز حامیوں کے سامنے آئے۔ یہ پہلی بار ہے کہ ان کے اتحادی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انھوں نے ’امن اور جمہوریت‘ کی بحالی کا عہد کیا۔
ترک صدر اردوغان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کئی چیلنجوں کے باوجود ترکی کو سر بلند رکھا ہے جن میں معیشت، مہنگائی اور فروری میں آنے والے تباہ کن دہرے زلزلے شامل ہیں۔
یہ مسائل ایوان صدر اور پارلیمنٹ دونوں کے لیے اس مہم میں غالب رہے ہیں۔
حزب اختلاف کے 74 سالہ رہنما کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ نرم خو واقع ہوئے ہیں ، لیکن انھوں نے سامعین کے سامنے ایک جوشیلی تقریر کی۔
ان کے حامی سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ایسے صدر سے، جس نے پارلیمنٹ کے مقابلے میں اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے، اقتدار واپس لینے کا یہ اب تک کا سب سے اچھا موقع ہے۔
رائے عامہ کے جائزوں میں کمال قلیچداراوغلو قدرے آگے ہیں اور ان کے حامیوں کو توقع ہے کہ وہ اتوار کے الیکشن میں 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ جیت سکتے ہیں۔
پہلی بار ووٹ ڈالنے والے 50 لاکھ ووٹروں میں سے ایک فرات نے کہا کہ وہ جو بائیں بازو کی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کی سرکردگی میں قدامت پسندوں اور قوم پرستوں کے ایک ہی پلیٹ فارم پر نظر آنے پر خوش ہیں۔
وہاں قوم پرست میرل اکسینر تھیں، جو چھ جماعتوں کے مضبوط اتحاد میں واحد خاتون رہنما ہیں، اور تیمل کرملاوغلو بھی تھے، جو اسلام نواز فیلیسٹی پارٹی کے سربراہ ہیں۔
قلیچداراوغلو کی پارٹی بنیادی طور پر سیکولر ہے، لیکن انھوں نے حجاب پہننے والی خواتین تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کی ہے۔ چھ پارٹیوں نے ہیدی (آگے بڑھو!) کے نعرے اور اسی نام کے ایک انتخابی گیت کے تحت اپنی مہم چلائی ہے۔
( بشکریہ :بی بی سی اردو )
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے

