اب چلتے چلتے ایک واقعہ اقبال ساجد کا بھی سن لیں۔ انتہائی غریب مگر شعر کے معاملے میں پورا بدلحاظ۔ وہ اپنی غربت کی وجہ سے کہ اس نے ساری عمر کوئی کام نہیں کیا تھا چنانچہ جس سے اسے کچھ توقع ہوتی تھی تو جی بھر کر اس کی خوشامد کرتا۔ مگر اس کے کسی برے شعر کی تعریف نہیں کرتا تھا۔ اس سے قطع نظر اس نے ایک دفعہ ایک غزل کہی جس کا مطلع تھا:
فراق و فیض و ندیم وفراز کچھ بھی نہیں
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں
میں نے کہا یار فراز اے کلاس شاعر ہیں مگر تم نے ان کو برے جوڑوں کےساتھ کھڑا کر دیا۔ سن کر بولا مجھے بھی پتہ ہے مگر فراز یہاں قافیے کی مجبوری سے آیا ہے
اتوار, اکتوبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- صحافت ۔۔تاریخ کو شکست دینے والا لفظ : وجاہت مسعود کا کالم
- فرانس میں مہنگائی کے خلاف پھر مظاہرے، گرفتار افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
