عام انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں دو لخت ہونے والے پاکستان کے مغربی حصے کو نیا پاکستان قرار دے کر ذوالفقار علی بھٹو برسرِ اقتدار آچکے تھے۔۔بھٹو حکومت پر عوامی حکومت کی چھاپ لگی ہوئی تھی ۔۔سقوط ڈھاکہ جیسے قومی المیئے کے باوجود عوام کی امیدیں عوامی حکومت سے جڑی ہوئی تھیں۔۔
ایسے ماحول میں فیض احمد فیض جیسے ترقی پسندہمارے آئیڈیل تھے جن کی وجہ شہرت ان کے وہ انقلابی نظریات تھے جن میں امن اور انسان دوستی کا پرچار کیا جاتا تھا اور محروم ومحکوم طبقات کا مقدمہ بڑے موثر انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔۔ فیض صاحب اپنے اشعار میں برملا اس کا اظہار کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔۔۔
یہی وجہ تھی کہ ناصرف فیض صاحب کا کلام بلکہ فیض صاحب کی ذات بھی عوامی مقبولیت اور پذیرائی کے درجے پر فائز تھی۔۔فیض صاحب کی آواز اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں بہت رعنا اور توانا تھی جو محروم و محکوم طبقات کے لئے بہت پرکشش اور متاثر کن تھی۔۔
یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ تا حال نہ محرومی ختم ہوئی ہے نہ محکومی۔۔۔اسی وجہ سے فیض صاحب کی آواز آج بھی ناصرف تازہ اور توانا ہے بلکہ ان کے کلام کی صورت میں زندہ اور موجود ہے۔۔
فیض صاحب کے فلسفے اور نظریات کے گرویدہ شعر و سخن اور سیاسی و سماجی شعور رکھنے اور عوام کو محرومیوں کے چنگل سے آزاد دیکھنے کے تمنائی فیض صاحب کی محبت اور ان کے نظریات کے عشق میں گرفتار تھے۔۔۔گرفتاری فیض صاحب کی ذات سے بھی منسوب تھی اور پنڈی سازش کیس میں فیض صاحب کی گرفتاری نے ان کے فن ہی کو نہیں ان کی سوچ و فکر اور شخصیت کو بھی جلا بخشی تھی۔۔فیض صاحب کے چاہنے والے ان سے ملنے کے منتظر رہتے اور فیض صاحب کو سننا اور ان کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔
ملتان میں بھی فیض صاحب کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اور فیض صاحب بھی ملتانیوں کے بلاوے کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے بڑی محبت سے ملتان تشریف لایا کرتے تھے۔۔
اس دور کے ملتان میں ادیبوں شاعروں اور فنون لطیفہ سے جڑے ہوئے افراد کے بیٹھنے کے لئے ڈھنگ کی کوئی جگہ نہیں تھی۔نہ تو آرٹس کونسل کا وجود تھا نہ ٹی ہاؤس جیسی کوئی عمارت تعمیر ہوئی تھی۔۔اور ریڈیو اسٹیشن کی عمارت بھی تعمیر کے مراحل سے گزر رہی تھی۔۔
قلعہ کہنہ قاسم باغ پر کیفے عرفات ۔۔بابا ہوٹل اور خان کیفے ٹیریا چوک نواں شہر۔۔دہلی مسلم ہوٹل حسین آگاہی اور ایسے ہی چند اور مقامات پر شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کی بیٹھک سجا کرتی تھی۔
ان کے علاوہ چوک ڈیرہ اڈہ کی اہمیت اس وجہ سے تھی کہ چوک ڈیرہ اڈہ کے ایک طرف گورنمنٹ ٹرانسپورٹ کا دفتر اور بس اسٹینڈ تھا۔۔حسن پروانہ روڈ پر روزنامہ امروز کا دفتر تھا جس کے عملے کی اکثریت ترقی پسند کہلانا پسند کرتی تھی۔روزنامہ امروز سے وابستہ لکھاری اور عملے میں شامل کئی نامور افراد جو ایک عرصہ علمی ادبی اور صحافتی افق پر جگمگاتے رہے ہمارے محلے بستی باغبان جو چوک نواں شہر کے قریب مغربی جانب آج بھی اپنی شناخت کے ساتھ موجود ہے’میں رہائش پذیر ہوا کرتے تھے۔امروز کے ادارتی شعبے سے وابستہ محترم پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد۔رپورٹنگ سے وابستہ محترم ایم اے شمشاد اور آرٹ ایڈیٹر محترم فخرالدین کے علاؤہ محترم خالد محمود بطور کاتب روزنامہ امروز کے عملے میں شامل تھے۔۔ترقی پسند نظریات کے حامل ان افراد کی نظریاتی وابستگی کسی شک و شبے سے بالاتر سمجھی جاتی تھی اور یہ افراد فیض صاحب کے مداحین و معتقدین میں شامل تھے۔
بستی باغبان میں کرائے کے مکان کا حصول آسان بھی تھا اور کم خرچ بھی۔۔محکمہ بحالیات میں بطور کلرک کام کرنے والے اور بستی باغبان میں کئی مکانات کے مالک شیخ عبد الرحمٰن دعویٰ کیا کرتے تھے کہ ن م راشد بھی ان کے کرائے دار رہ چکے ہیں۔۔کچھ عرصہ منو بھائی بھی بستی باغبان کے مقیم رہے تھے۔آواز کی دنیا کے دو تین بڑے نام معروف براڈ کاسٹر محترم فخر بلوچ اور محترم سلام ناصر اور محترم عبد الرحمٰن خان بھی اسی بستی کے باسی رہے تھے۔
خیر۔ڈیرہ اڈہ چوک سے مشرقی جانب ذرا فاصلے پر جنرل پوسٹ آفس تھا۔۔جی ٹی ایس سٹاف یونین۔۔جی پی او سٹاف یونین اور امروز اخبار کی ورکرز یونین۔۔ان ورکرز تنظیموں کی وجہ سے خوب گہما گہمی رہا کرتی تھی۔
چوک ڈیرہ اڈہ کے قریب واقع شب روز ہوٹل اور فردوس ہوٹل میں مختلف تقریبات بھی کبھی کبھار منعقد ہوا کرتی تھیں۔یونینز کے نمائندگان اور کارکنان سب فیض صاحب کے نظریات کے پرستار تھے۔۔
ملتان میں مجلس فن نامی ایک تنظیم جو سٹیج ڈرامے کے ساتھ ساتھ ادبی تقاریب منعقد کر کے اہل ملتان کے فنی و ادبی ذوق کی تسکین کا اہتمام کیا کرتی تھی۔۔ محترم سجاد بریلوی بحیثیت سیکریٹری جنرل اور میں نائب صدر کے طور پر مجلس فن کے ساتھ وابستہ تھے۔۔
ملتان کے مشہور ومعروف لکھاری ڈرامہ نگار اور سٹیج ڈراموں کے ہدایتکار محترم قیصر ملک ملتانی جو بعد ازاں لاہور کی فلمی دنیا کو پیارے ہو گئے تھے و ہ فیض صاحب کے بہت گرویدہ تھے اور اکثر فیض صاحب کو ملتان مدعو کر کے ان کے ساتھ ایک فکری نشست کی خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے۔۔محترم سجاد بریلوی اور ہمارے دیگر ممبران بھی فیض صاحب کے معتقدین میں شامل تھے۔۔
مالی وسائل کی کمی بلکہ عدم دستیابی کے باوجود مجلس فن کی طرف سے فیض صاحب کو ملتان آنے کی دعوت دینے کا پروگرام کچھ یوں فائنل ہوا کہ یہ تقریب شب روز ہوٹل میں منعقد کی جائے گی اور تقریب کے بعد شرکاء کے لئے چائے بسکٹ کی صورت میں ہلکی پھلکی تواضع کے اخراجات کا بندوبست سجاد بریلوی کریں گے۔۔
تاریخ تو یاد نہیں مگرتقریب کی مقررہ تاریخ سے ایک دن پہلے فیض صاحب ملتان تشریف لائے۔ دوسرے دن سہ پہر کے وقت تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی شب روز ہوٹل کا ڈائننگ ہال فیض صاحب کے پرستاروں سے بھرچکا تھا۔۔شرکاء میں شہر کے بہت سے معززین اور اہل علم و دانش اہل قلم اور مزدور تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔۔ فیض صاحب اپنے مخصوص اندازِ دلبرانہ کے ساتھ جان محفل بنے مہمان خاص کی نشست پر تشریف فرما تھے۔۔
یہ ایک فکری نشست تھی۔مقررین باری باری اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے اور فیض صاحب گاہے گاہے اپنے سر کی ہلکی سی جنبش سے مقرر کی باتوں کی تائید کر دیتے تھے۔۔۔
ملتان کی ایک اہم شخصیت معروف گلوکارہ محترمہ ثریا ملتانیکر نہ صرف اس تقریب میں موجود تھیں بلکہ مقررین میں شامل تھیں۔۔تمام مقررین نے اردو میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مگر محترمہ ثریا ملتانیکر نے اپنی باری آنے پر ملتانی زبان میں گفتگو کا آغاز کچھ یوں کیا۔۔””میں آپنی ملتانی زبان وچ گالہہ کریساں۔میڈی ملتانی زبان بہوں مٹھی ہے””۔۔۔زبان ملتانی ہو اور بولنے والی شخصیت وہ جس کی شناخت ہی اپنی دھرتی سے جڑی ہو تو کانوں میں رس گھولنے والا محاورہ حقیقت بن جاتا ہے۔۔
یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ اس وقت تک لفظ سرائیکی کا استعمال اس قدر زبان زد عام نہیں ہوا تھا جیسا آج کل ہے۔ سرائیکی زبان کو۔۔ملتان کے گردونواح میں ملتانی۔۔ریاست بہاولپور میں ریاستی اور ڈیرہ غازیخان میں ڈیروی کہا جاتا تھا۔۔۔
ہال میں موجود لوگ فیض صاحب کو سننا چاہتے تھے۔فیض صاحب نے تقریب کے آخر میں مختصر مگر متانت اور سنجیدگی سے بھرپور مدلل اور فکر انگیز گفتگو کرتے ہوئے امن محبت احترام آدمیت کے پیغام کے ساتھ گفتگو کو سمیٹا اور وہ سچ کہا جو ان کے دل میں تھا۔۔فیض صاحب اپنے افکار و اشعار میں بھی ہمیشہ سچ کا پرچار کرتے رہے۔۔ بقول فیض صاحب اگر دل میں موجود سچ نہ کہا جائے تو کہنے والا خود بھی مطمئین نہیں ہوتا۔۔۔
آج فیض صاحب ہم میں موجود نہیں ہیں مگر ان کا پیغام پوری سچائی کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔۔۔

