رضی الدین رضی نے پہلے رفتگان ملتان کی یاد میں مختصر اظہاریئے لکھے اب اس نے بہت خوبصورت ٹائیٹل کے ساتھ انہیں دو جلدوں میں شائع کیا ہے اور عنوان رکھا ہے ’’ کہانیاں رفتگان ملتان کی ‘‘ ‘ پہلی جلد میں ان کا تذ کرہ ہے جو جنوری 1968سے جنوری 2006 تک کے عرصے میں ہمارا ساتھ چھوڑ گئے اس سلسلے میں پہلا جنازہ جو اس نے دیکھا وہ اس کے والد کا تھا تب رضی ساڑھے تین سال کا تھا۔اس نے ثقل سماعت کے شکار ، مگر کرکٹ کے شوقین درزی والد کی ‘شناخت’ اپنی بیوہ ماں سے سنی کہانیوں اور داداکے محفوظ کئے گئے اخباری تراشوں کی مدد سے کی پھر اس نے کم عمری میں قلم ہاتھ میں پکڑا صحافت کے کوچے میں اتر گیا وہ بہتر روزگار کی تلاش میں لاہور میں بھی گیا ، اس کے یار غار شاکر حسین شاکر نے اس کا ہاتھ تھاما ۔ شاکر کے چچا حسین سحر رومانی نے کہا شاکر کی طرح تم بھی میرے بھتیجے ہو!، اور قول نباہا بھی۔
تب ریڈیو ملتان ( آں جہانی) معاوضہ بھی دیتا تھا اور وہاں عاصی کرنالی اور دیگر بزرگوں کی آمد سے یہ نوجوانوں کی تربیت کی درس گاہ بھی تھا مجھے یاد ہے کہ میں کوئیٹہ اور رحیم یار خان میں پانچ برس کے بعد ایمرسن کالج میں آیاتوجابر علی سید نے مجھے کہا ریڈیو تے عاصی کرنالی تے میری ” نیک ٹو نیک ریس ہے ‘پھر انہوں نےوضاحت کرتے ہوئے کہا ” بس اینج سمجھو جو عاصی کرنالی دا پوچھل میری ناساں وچ تے کدی میرا پوچھل انہاں دی
ناساں وچ ‘۔
بہر طور دوسری جلد جنوری 2006 سے اکتوبر 2018تک کے رفتگان کے بارے میں ہی نہیں بلکہ سوال بھی اٹھائے ہیں کہ ملتان ارشد ملتانی ، عاصی کرنالی حسین ۔سحر ، عمر کمال اور عرش صدیقی یا مرزا ابن حنیف یا ولی محمد واجد کے بغیر کیسا ہے ؟
ان میں دو ایک میرے استاد ہیں بیشتر شاگرد یا پھر ایسے معاصر جن سے میں بخوبی واقف تھا اس لئے میرے لئے اسے پڑھنا ایک عجیب تجربہ بن گیا اس میں یحیی امجد( کندیانی ) کے بھائی قاسم خان کے آخری ایام میں کچھ لوگوں کی طرف سے تکلیف دہ میسیج مہم کا ذکر بھی ہے جن کے خلاف انہوں نے ایک طرح ملتان کی ادبی عدالت میں استغاثہ بھی کر رکھا تھا
رضی کی خواہش رہی ہے کہ ملتان میں 1000 روپے دے کر کم از کم 200 احباب ریڈرز کلب کے رکن بن جائیں تاکہ ان کی مطبوعات اور سہ ماہی مجلہ گردوپیش انہیں نصف قیمت پر مل جائے تاہم اس کے لئے رضی کو آئندگان کے بارے میں کتاب لکھنی ہو گی
جمعہ, اکتوبر 2, 2026
تازہ خبریں:
- کیچ میں چار افراد کی ہلاکت پر احتجاج : پکنک کے دوران فضا سے دھماکہ خیز مواد گرا
- مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
- صومالیہ میں بحری قزاقوں نے 3 پاکستانیوں سمیت پانچ افراد قتل کر دیئے
- لاہور میں آذر بائیجان کی سیاح کے ساتھ گینگ ریپ : میڈیکل رپورٹ میں تصدیق
- ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا برقرار : بغیر آستینوں والا لباس پہننے کا الزام
- ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں؟ حکومتی بیانات اور تجزیہ نگاروں نے نئی بحث چھیڑ دی
- ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، 3 اہلکار شہید
- حکومت کا ممکنہ اگلا فیصلہ کن قدم، "آرٹیکل 232” : نصرت جاوید کا کالم
- ایران امریکہ تنازعہ: نئی جنگ خطرناک اور مہلک ہوگی : سیدمجاہد علی کا تجزیہ
- خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر غور

