پاکستان ریلوے کو اس وقت اربوں روپے کے خسارے کا سامنا ہے ،ہچکیاں لیتے ہوئے ریل سسٹم کے پس منظر میں جہاں بہت سے عوامل شامل ہیں وہاں نااہل اور سفارشی افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتی اور قابل افسران کو کھڈے لائن لگانے کی پالیسی بھی ایک بڑی وجہ ہے ،اس صورت حال میں ریلوے افسران بددلی کا شکار ہیں،سونے پر سہاگہ یہ کہ موجودہ حکومت کی ترجیحات میں ریل شامل نہیں ہے،اس کو تو اس وقت اپنی بقا کا مسلہ ہے ،ریلوے کی بہتری اور اس کو ترقی کے ٹریک پر چڑھانا تو بہت دور کی بات ہے،گزشتہ 10برسوں میں ریلوے سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے ہم نے صرف سی پیک کے تحت ایم ایل (مین لائن)ون کے منصوبے پر امید لگائی ہوئی ہے،بدقسمتی سے یہ منصوبہ بھی ہماری نااہلی اور بعض بیرونی عوامل کے باعث پروان چڑھتا نظر نہیں آتا۔
چاہیے تو یہ تھا کہ اگر ایم ایل ون پروجیکٹ میں مشکلات درپیش ہیں تو حکومت اپنے وسائل سے ریلوے کی کچھ نہ کچھ حالت بہتر بنا تی ،لیکن لگتا ہے کہ اس بارے بھی اقتدار کے ایوانوں میں کچھ سوچا نہیں جارہا ،کراچی سے پشاور براستہ جیک آباد،کشمور،روجھان،راجن پور،جام پور اورڈیرہ غازی خان روٹ جس کو ایم ایل ٹو کہا جاتا ہے اس کو فعال کیا جاتا، کراچی اور سکھر ڈویژن کے ہچکولے کھاتے ٹریک کی اپ گریڈیشن کی جاتی،اہل اور اچھی شہرت والے افسران کو اہم عہدوں پر لگایا جاتا،فریٹ ٹرین سسٹم کے دائرہ کارکو وسعت دی جاتی ،سسٹم میں چلنے والی موجودہ ٹرینوں کی حالت زار کو بہتر بنایا جاتا،پاکستان ریلوے جس کو چاروں صوبوں کو ملانے والی ایک زنجیر کہا جاتا ہے ،اس کی ترقی دفاعی اعتبار سے بھی بہت اہمیت کی حامل ہے،اس کے باوجود اس کو حالات کے رحم وکرم چھوڑ دیناہماری نالائقی کے سوا اور کچھ نہیں ہے،ریل کو موجودہ حکومت کتنی اہمیت دیتی ہے اس کو تو صرف اس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ اس وقت اس کا کوئی وفاقی وزیر ہی نہیں ہے۔
وزارت ریلوے کا قلمدان وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے پاس ہے،میاں صاحب کو اس وقت جس سیاسی اور دیگر حساس معاملات کا سامنا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا کہ وہ ریلوے کو پر بھرپور توجہ دے کر اس کو ماضی کی طرح ایک باوقار ادارہ بنا سکتے ہیں احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے،اس صورت حال میں ریلوے کی بہتری کی ذمہ داری چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ جو کہ بالحاظ عہدہ ریلوے ڈویژن کے سیکرٹری بھی ہیں پر آجاتی ہے،ان کا تعلق ریلوے کے شعبہ کمرشل اینڈ ٹریفک سے ہے،اس لحاظ سے تو ان کو ریلوے کے مسائل کا زیادہ ادراک ہونا چاہے،لیکن شاہ صاحب جن کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے نے اہم عہدوں پرافسران کی تعیناتی کا حیران کن فارمولہ اپنایا ،ریلوے کے اس وقت مجموعی طور پر 7آپریشنل ڈویژن ہیں ،ان میں کراچی،کوئٹہ،سکھر،ملتان،لاہور،راولپنڈی اور پشاور ریلوے ڈویژن شامل ہیں،ان میں سے 6ریلوے ڈویژنوں میں جو ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ(ڈی ایس) تعینات ہیں ان کاڈومی سائل صرف ایک صوبہ کا ہے،آئیے اب اس صورت حال پر ایک نظر ڈالتے ہیں،ڈی ایس ریلوے پشاور ڈویژن مقصود جان،ڈی ایس ریلوے راولپنڈی ڈویژن نورالدین داوڑ ،ڈی ایس ریلوے سکھرڈویژن،فرمان غنی،ڈی ایس ریلوے کراچی ڈویژن ناصر خلیلی،ڈی ایس ریلوے کوئٹہ ڈویژن عمران حیات اور ڈی ایس ریلوے لاہور حنیف گل کا ڈومی سائل کے پی کا ہے،خدانخواستہ یہاں ہم صوبائیت کا منفی پہلو اجاگر نہیں کررہے ہیں ،کچھ ڈی ایس پروفیشنل اور اچھی شہرت کے حامل بھی ہیں،بلاشبہ ڈی ایس لاہور حنیف گل کانام اس میں لیا جاسکتاہے،لیکن اگر ڈی ایس ایسے7 اہم عہدوں میں سے6 افسران صرف اس وجہ سے تعینات ہوں گے کہ ان کا ڈومی سائل آپ کے صوبہ کا ہے تو شاہ صاحب سوالات تو پیدا ہوں گے،ایسے میں جب کہ مظہر علی شاہ صاحب جوخود بھی کوٹہ سسٹم کے تحت سی ایس ایس کرکے ریلوے گروپ میں شامل ہوئے ان کو تو دیگر صوبوں کےکوٹہ کا خیال بھی رکھنا چاہیے تھا،جہاں کے متعدد قابل افسران صرف لیے کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں کہ ان کا ڈومی سائل آپ کو پسند نہیں ہے،ان حالات میں ریلوے کےقابل افسران میں بددلی پھیلنا ایک فطری عمل ہے ،وزیر اعظم میاں شہباز شریف جن کے پاس وزارت ریلوے کا قلمدان بھی ہے کو اس سنجیدہ اور سنگین صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )
ریلوے میں تقرریوں کا فارمولا اور خیبر پختونخوا کے ڈومیسائل کا راج : مان نہ مان ۔۔۔عبدالرئوف مان کا کالم
ایڈیٹر16 Views

