اسلام آباد : پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے کو 135 ارب روپے میں بیچ دیا گیا ہے ۔
عارف حبیب کنسورشیم نے135 ارب روپے میں اسے خریدلیاہے
عارف حبیب کنسورشیم نے قومی ائیرلائن کی نجکاری کے لیے بولی کے تیسرے مرحلے میں 135 ارب روپے کی بولی لگائی اور پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز خریدنے میں کامیابی حاصل کی۔
لکی کنسورشیم 134 ارب روپے کی بولی کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔
اس سے قبل بولی کے پہلے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے101.5 ارب روپےکی بولی لگائی تھی جب کہ ائیربلیو نے 26 ارب 50 کروڑ روپےکی بولی لگائی ۔عارف حبیب کنسورشیم گروپ نے 115 ارب روپےکی سب سے زیادہ بولی لگائی۔
دوسرے مرحلے میں لکی کنسورشیم نے 120.25ارب روپے کی نئی بولی لگائی جب کہ عارف حبیب کنسورشیم نے 121 ارب روپےکی نئی بولی لگائی۔
مشیر نجکاری کمیشن محمد علی کا کہنا تھا کہ قومی ائیرلائن کی نجکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، حکومت کا مقصد قومی ائیرلائن کوبیچنا نہیں بلکہ اسے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، قومی ائیرلائن کی نجکاری سے ملک میں سرمایہ کاری آئےگی۔
مشیر نجکاری کمیشن کے مطابق حکومت چاہتی ہے قومی ائیرلائن ماضی کی طرح بہتر ہو، بولی سے حاصل رقم کا 92.5 فیصد حصہ قومی ائیر لائن کی بہتری پر خرچ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو تہائی پیمنٹ شروع میں اور ایک تہائی پیمنٹ بعد میں کی جاسکےگی، ہم نے بڈرز کو بولی کے بعد دو پارٹیز کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔
اتوار, اکتوبر 25, 2026
تازہ خبریں:
- انجینئر ممتاز احمد خان کا ’’ ممتاز نامہ ‘‘ زندگی کا سفر اور قومی شعور کی دستاویز : صائمہ نورین بخاری کا کتاب کالم
- لہندا زبان ہے یا بولی ؟ زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم

