Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اکتوبر 8, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ارجنٹائن کے میسی کا الوداعی میچ اور 10 نمبر شرٹ کا اعزاز : مہتاب حیدر تھہیم کا کالم
  • لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی
  • ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید
  • سابق کور کمانڈر جنرل احسان الحق کو گورنر خیبر پختونخوا بنائے جانے کا امکان
  • دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل
  • پی ٹی آئی لانگ مارچ کی ’گورنر راج ‘کی طرف پیش قدمی :سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ہر صوبے کے لیے ایمرجنسی یا گورنر راج کا جواز : نصرت جاوید کا کالم
  • ماں کہانی سنا ۔۔۔ رضی الدین رضی کی نظم
  • ایمان مزاری اور ہادی علی کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی: ڈی ایس پی کی گرفتاری کا عندیہ
  • پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا روز، شرکا کا بنوں اور کرک کی سرحد پر پڑاؤ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » نصرت جاویدکا تجزیہ:پٹرول‘ بجلی کا بحران اور بے بس حکومت
تجزیے

نصرت جاویدکا تجزیہ:پٹرول‘ بجلی کا بحران اور بے بس حکومت

ایڈیٹرمئی 30, 20225 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
shahbaz sharif address
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

چند قریب ترین دوست میرے محسنوں کی مانند ہیں۔مشکل ترین حالات میں بھی تنہا اور پریشان نہیں ہونے دیتے۔عمران حکومت کے دوران محض صحافت کے ذریعے رزق کمانے کے تناظر میں جن اذیتوں اور ذلت سے گزرنا پڑا ان سے بخوبی واقف ہیں۔یہ دوست مگر اب گلہ کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کے استعمال سے ہٹانے کے بعد وجود میں آئی مخلوط یا قومی حکومت کے بارے میں میری رائے دن بدن تلخ سے تلخ ترین ہورہی ہے۔ اہم ترین ریاستی اور حکومتی امور سے وہ جن غیر معمولی محدودات کے ہوتے ہوئے بھی نبردآزما ہونے کی کوشش کر رہی ہیں میں انہیں خاطر میں نہیں لارہا۔
مخلص دوستوں کی رائے نظرانداز کرنا میرے لئے ممکن ہی نہیں۔گزشتہ دو دنوں سے گھر میں تنہا بیٹھے اپنے پر ہوئی تنقید پر سنجیدگی سے غور کیا ہے۔ دیانت داری سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت کی بابت میری تلخ نوائی درحقیقت ’’اسی باعث تو…منع کرتے تھے‘‘ والی سوچ کا اظہار ہے۔
عمران حکومت کے بارے میں ہزاروں تحفظات کے باوجود جن دنوں اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی ’’دیگ‘‘ چڑھائی گئی تو میں اس کالم کے ذریعے فریاد کرنا شروع ہوگیا کہ اس سے گریز اختیار کیا جائے۔اسے کم از کم جون میں رواں برس کا بجٹ پیش کرنے کی مہلت ہی فراہم کردی جائے۔
اس برس کا آغازہوتے ہی روس نے یوکرین کی سرحد کے قریب اپنی افواج کو جارحانہ انداز میں تعینات کرنا شروع کردیا تھا۔یورپ اور دنیا کے کئی ممالک اس گماں میں مبتلا رہے کہ روسی صدر محض جارحانہ ڈرامہ لگارہا ہے۔ اس حقیقت سے غافل رہے کہ پوٹن اپنے ملک کی کھوئی ہوئی سپرطاقت والی شناخت ہر صورت بحال کرنے کو بے چین ہے۔یوکرین کو ویسے بھی وہ ’’مہاروس‘‘ کا جزولانیفک تصور کرتا ہے۔ ’’بگڑا ہوا بچہ‘‘ گھرلانے کو بے تاب۔فروری کے آخری ہفتے میں بالآخر اس نے یوکرین پر فوجی دھاوا بول دیا۔
روس کی دیدہ دلیر جارحیت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو پوٹن کے ملک پر اقتصادی پابندیاں لگانے کو مجبور کیا۔ ان پابندیوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کا بحران نمودار ہوگیا۔یوکرین پر حملے سے تیل کے ایک لیٹر کی قیمت کے جو نرخ تھے ان میں اب تک 45فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔اس اضافے سے قبل بھی کرونا پر قابو پالینے کے بعد کاروبار کی بحالی کی وجہ سے تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کا رحجان نمایاں ہونا شروع ہوگیا تھا۔
پاکستان جیسے ممالک کی حکومتوں اور شہریوں کے لئے تیل کا بحران عذاب کی صورت نازل ہوتا ہے۔عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجنے کو بے چین سیاستدانوں کو مذکورہ عذاب کی مجھ عام صحافی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خبر ہونا چاہیے تھی۔عمران خان صاحب کو ہمارے پرانے سیاستدان’’بھولا‘‘ ٹھہراتے ہیں۔ وہ جبلی طورپر لیکن بہت کائیاں ثابت ہوئے۔یہ جان لینے کے بعد کہ ان کے لئے اقتدار میں رہنا ممکن نہیں رہا تو اچانک ایک روز ٹی وی پر قوم سے خطاب کرنے نمودار ہوئے اور بجلی اور پیٹرول کی قیمتوں کو جون تک منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔
عوام کا جی خوش رکھنے والا اعلان کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو فراموش کرگئے کہ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے آئی ایم ایف نے شوکت ترین کے تیار کردہ بجٹ پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے۔ان کی وجہ سے ہمیں 500ملین ڈالر کی جو قسطیں ملنا تھیں و ہ بھی روک دی گئیں۔ان کے وزیر خزانہ کو بالآخر ’’منی بجٹ‘‘ پیش کرنا پڑا۔ا س کے ہوتے ہوئے بھی آئی ایم ایف فروری سے مصر تھا کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو طلب ورسد کے عین مطابق طے کیا جائے۔ حکومت انہیں سستے داموں شہریوں کو فراہم کرنے کے لئے قومی خزانے سے جو ’’امدادی رقوم‘‘ مہیا کررہی ہے روک دی جائیں ورنہ پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا۔
ایسے حالات میں بہتر تو یہی تھا کہ عمران خان صاحب کو تحریک عدم اعتماد کی بدولت فارغ کردینے کے بعد قائم ہوئی حکومت حلف اٹھاتے ہی ٹھوس معاشی حقائق عوام کے روبرو رکھتی۔ انہیں برملا خبردار کرتی کہ عمران حکومت نے جس ’’فیاضی‘‘ سے ملکی معیشت چلائی ہے اسے برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کوسری لنکا جیسے حالات سے بچانے کے لئے کسی بھی حکومت کو اب عوام کے لئے ناقابل قبول مگر سخت ترین فیصلے لینا ہوں گے۔ حقائق کو عوام کے روبرو رکھتے ہوئے نئے ا نتخاب کا اعلان کردیا جاتا۔یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جاتا کہ وہ کونسی جماعت کو معیشت سنبھالنے کے قابل سمجھتے ہیں۔
شہباز شریف کی قیادت میں قائم ہوئی حکومت نے مگر ’’ہونی‘‘ کو ٹالنا چاہا۔ پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں کو پرانی سطح پر برقرار رکھنے کے لئے وہ کسی ’’جگاڑ‘‘ کی تلاش میں رہی۔یہ امید بھی باندھی کہ آئی ایم ایف کا رویہ اس کے ساتھ سخت گیر نہ رہے۔ہمارے دیرینہ دوست بھی مالی امداد فراہم کرنے کو آمادہ ہوجائیں گے۔ عمران خان صاحب مصر ہیں کہ ان کی حکومت کو ’’امریکی سازش‘‘ کے ذریعے ہٹایا گیا ہے۔جس حکومت کو لیکن وہ ’’امپورٹڈ‘‘ پکارتے ہیں واقعتا امریکہ کی لاڈلی ہوتی تو واشنگٹن آئی ایم ایف کو ہماری مدد کے لئے مجبور کردیتا۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔یہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں اضافے سے کتراتی رہی تو ہمارے سیٹھوں نے ڈالر خریدنا شروع کردئیے۔ سٹاک ایکس چینج بھی مسلسل مندی کی زد میں رہا۔بالآخر حکومت مجبور ہوگئی کہ گزرے جمعہ کی رات پیٹرول اور ڈیزل کے ایک لیٹر کی قیمت میں یکمشت 30روپے اضافے کا اعلان کردے۔مذکورہ اضافے کے باوجود اس وقت بھی ہم اپنی گاڑی یا موٹرسائیکل میں جو پیٹرول ڈلواتے ہیں اس کے ایک لیٹر کو قابل برداشت بنانے کے لئے حکومت کو قومی خزانے سے کم از کم 40روپے کی امدادی رقم دینا پڑرہی ہے۔حالات ایسے ہی رہے تو آئندہ بجٹ پیش کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں مزید اضافے کا اعلان کرنا پڑے گا۔ عوام کے لئے اگرچہ 30روپے کا اضافہ بھی برداشت نہیں ہورہا۔
عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی عملاََ نایابی کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے بھی اپنی استعداد کے مطابق بجلی پیدا نہیں کررہے۔ اس کی وجہ سے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کا عذاب لوٹ آیا ہے۔ عام آدمی کی توجہ مگر ’’حال‘‘ ہی پر مرکوز رہتی ہے۔قیامت خیز گرمی کے موسم میں لوڈشیڈنگ لوٹ آنے کا دوش فقط شہباز حکومت کے کاندھوں پر رکھا جارہا ہے۔حکومت کو کوستے ہوئے عام پاکستانی یہ حقیقت یاد رکھنے کو تیار نہیں کہ 2013میں اقتدار سنبھالتے ہی نواز حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اپنی اولین ترجیح بنایا تھا۔اس کے خاتمے میں ’’شہباز سپیڈ‘‘ نے بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
حکومت کو اگر اگلے برس کے اگست تک اقتدار میں رہنے کا یقین ہوتا تو وہ آئندہ تین سے چار ماہ تک پھیلے بحران سے نبردآزما رہنے کے بعد حالات کو بہتری کی جانب موڑنے کا کریڈٹ لے سکتی تھی۔اسے مگر مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ عوام کے لئے قطعی ناقابل قبول فیصلوں کا اعلان کردینے کے بعد رواں برس کے اکتوبر ہی میں نئے انتخاب کے لئے تیار ہوجائے۔نئے انتخاب یقینی بنانے کے لئے عمران خان صاحب کے جلسے اور جلوس ہی کارفرمانہیں۔بتدریج یہ حکومت اعلیٰ عدلیہ کی چوکس نگرانی کی بدولت بے بس نظر آنا بھی شروع ہوگئی ہے۔
ملکی سیاست کا کئی دہائیوں سے مشاہدہ کرنے کی وجہ سے میرے لئے موجودہ حکومت کو ’’بے چاری‘‘ تصور کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ممکن نہیں۔عمران خان صاحب کی جگہ جو لوگ حکومت میں آئے ہیں وہ 1985سے ریاستی اور حکومتی معاملات کی بابت بخوبی آگاہ رہے ہیں۔جن مشکلات کا وہ ان دنوں سامنا کررہے ہیں اس کا علم انہیں مجھ سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے تھا۔ میں انہیں ’’ہورچوپو‘‘ کا طعنہ دینے کو مجبور ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleفاروق عادل کا کالم:پاکستان میں سیاست کو ’اسلامی ٹچ‘ دینے کی روایت کتنی پرانی ہے؟
Next Article زکریاایکسپریس میں ریلوے اہلکاروں کی مسافر خاتون سے اجتماعی زیادتی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ارجنٹائن کے میسی کا الوداعی میچ اور 10 نمبر شرٹ کا اعزاز : مہتاب حیدر تھہیم کا کالم

اکتوبر 8, 2026

لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی

اکتوبر 7, 2026

ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید

اکتوبر 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ارجنٹائن کے میسی کا الوداعی میچ اور 10 نمبر شرٹ کا اعزاز : مہتاب حیدر تھہیم کا کالم اکتوبر 8, 2026
  • لانگ مارچ درہ آدم خیل پہنچ گیا، عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال منتقل کیا جائے : سہیل آفریدی اکتوبر 7, 2026
  • ڈی آئی خان میں فائرنگ کے دو واقعات میں ایف بی آر اور پولیس کے 5 اہلکار شہید اکتوبر 6, 2026
  • سابق کور کمانڈر جنرل احسان الحق کو گورنر خیبر پختونخوا بنائے جانے کا امکان اکتوبر 6, 2026
  • دُکی سے اغوا ہونے والے 12 مزدوروں میں سے رحیم یار خان کا ایک مزدور قتل اکتوبر 5, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.