اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے احتجاج کے دوران عدلیہ مخالف نعرے لگانے پر متعدد افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بدھ کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔مظاہرے کے دوران ان جماعتوں کے کارکنوں نے نہ صرف چیف جسٹس کا نام لے کر اُن کے خلاف نعرے لگائے بلکہ فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کی تھی۔اس احتجاجی مظاہرے میں ملک کے دو سابق وزرائے اعظم جن میں سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف شامل سمیت جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور متعدد سابق وفاقی وزرا نے شرکت کی تھی۔مقامی پولیس کے مطابق پولیس حکام ابھی اس مقدمے پر کارروائی کرنے اور لوگوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ۔ تھانہ سیکرٹریٹ کے انچارج اور اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں صرف دو افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور دونوں کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ان ملزمان میں پیپلز پارٹی کی خاتون کارکن شہزادہ کوثر گیلانی کے علاوہ راجہ امتیاز علی شامل ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق اس مقدمے میں دیگر نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے اور ویڈیو فلم کے ذریعے دیگر ملزمان کی نشاندہی کرکے اُنھیں گرفتار کیا جائے گا۔ پولیس انسپکٹر محبوب کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات کے علاوہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 228 کے تحت درج کیا گیا ہے جو کہ عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور نعرے بازی کرنے سے متعلق ہے۔مقامی پولیس کے مطابق پولیس حکام ابھی اس مقدمے پر کارروائی کرنے اور لوگوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تاہم اس کا فیصلہ آنے والی حکومت کو چھوڑا جائے گا کہ آیا وہ مقامی پولیس کو عدلیہ مخالف اور دیگر اداروں کے خلاف نعرے بازی کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم دیتی ہے یا نہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

