ملتان : گورنرپنجاب ملک رفیق رجوانہ نے کہاہے کہ ہمیں تعصبات سے بالاترہوکر سوچناچاہیے ۔میں دائیں اوربائیں بازوکاقائل نہیں ،دائیں بائیں بازو کی بہت سیاست ہوگئی پاکستان ایک جسم ہے اورہمیں پاکستان کی سیاست کرنی چاہیے اورپاکستان کے بارے میں سوچناچاہیے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے اتوارکے روز ملتان ٹی ہاﺅس کے زیراہتمام معروف کالم نگار ،مصنف ،دانشور اوروزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن عرفان صدیقی کی کتاب ”جوبچھڑگئے “ کی تعارفی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی نامور شاعر اورادارہ فروغ قومی زبان کے صدر نشین افتخار عارف تھے ۔تقریب میں چیئرمین ملتان ٹی ہاﺅس میاں تنویراحمد شیخ ،سینیٹررانامحمودالحسن اورایم پی اے بیرسٹرمحمدعلی کھوکھرنے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرپنجاب نے کہاکہ ہماراقومی مزاج بن چکاہے کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جس پارٹی میں ہیں اس میں کوئی خامی نہیں ،ہم اوروں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں اورایساشعورکی کمی کے باعث ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کواس وقت مثبت سیاست کی ضرورت ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاہے کہ انسانی جذبوں کو نظریات کی عینک سے نہیں دیکھناچاہیے ۔نظریات جوبھی ہوں جذبے دکھ اورخوشیاں ایک جیسی ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ملتان آفس کے لئے اگرصوبائی حکومت اراضی فراہم کردے تواس کی تعمیر کے اخراجات وفاقی حکومت خودکرے گی ۔انہوں نے کہاکہ اکادمی اد بیات کے مظفرآباد ،دادو،وزیرستان میں بھی دفاترقائم کئے گئے ہیں ۔پشاورمیں اکادمی کے دفترکی نئی عمارت تعمیر کی گئی ہے اورکوئٹہ میں بھی اس کی نئی عمارت تعمیرکی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک کالم نگارکی حیثیت سے میں نے انسانی جذبوں کو ہی کالموں کاموضوع بنایا۔انہوں نے مزیدکہاکہ میں اس بات پریقین رکھتاہوں کہ ہرباشعورشخص جانبدارہوتاہے۔جب خدانے آپ کو شعوردیاتوآپ کو اچھے برے کی تمیزکی صلاحیت بھی عطاءکردی ۔پھرآپ جودرست سمجھتے ہیں وہی لکھتے ہیں اس سلسلے میں میرانقطہ نظر بہت واضح ہے ۔تقریب کے مہمان خصوصی افتخار عارف نے اظہارخیال کے دوران کہاکہ اگرچہ کالم نگاری کو ادب میں اہمیت نہیں دی جاتی اوراخباری کالم کے بارے میں عموی تاثریہ ہے کہ وقتی اہمیت کے ہوتے ہیں لیکن عرفان صدیقی کے یہ کالم انشاءپردازی کی اعلیٰ مثال ہیں ۔ان کالموں کے ذریعے انہوں نے ان شخصیات کی زندگیوں کااحوال محفوظ کردیاہے جن کا ہماری قومی سیاست ،ادب وثقافت اورزندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق ہے۔انہوں نے کہاکہ عرفان صدیقی کے ساتھ ہماراقلم کارشتہ ہے اورقلم کایہ رشتہ ہمیشہ مضبوط ہوتاہے ۔افتخار عارف نے کہاکہ جوبچھڑگئے ایک ایسی کتاب ہے کہ جسے نصاب کاحصہ بنایاجاناچاہیئے ۔قبل ازیں خالدمسعودخان ،قمررضاشہزاد،رضی الدین رضی ، سجادجہانیہ اورشاکرحسین شاکرنے خطاب کے دوران کہاکہ عرفان صدیقی کے کالموں کایہ مجموعہ ایک تاریخی دستاویز ہے ۔انہوں نے بچھڑجانے والی مختلف شخصیات کے بارے میں جومضامین تحریرکئے وہ تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

