اسلام آباد : سپریم کورٹ نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے تعاون نہ کیے جانے پر اٹارنی جنرل سے برہمی کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے تیسری رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمہ داران تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر اٹارنی جنرل ایسے نہیں چلے گا۔‘ بی بی سی کے مطابق سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دس جولائی کو حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔خیال رہے کہ عدالت نے ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں قائم ہونے والی چھ رکنی ٹیم کو دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کے پابند ہیں۔
ہفتہ, ستمبر 26, 2026
تازہ خبریں:
- پیٹرول میں اضافہ مسلسل جاری : آج 391 روپے 30 پیسے لیٹر ملے گا
- پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ
- پیٹرول ، ڈیزل پر جگا ٹیکس اور جماعتِ اسلامی کی ’’ نظریاتی سیاست ‘‘ : نصرت جاوید کا کالم
- پی ٹی آئی لانگ مارچ سے پہلے اسلام آباد کے راستے بند، اہم شاہراہوں پر کنٹینرز
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ

