اسلام آباد: وفاقی حکومت نے برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ ’ریڈمشنز معاہدہ‘ پر مذاکرات کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بھی برطانیہ میں غیر قانونی طور پر قیام کی وجہ سے وطن واپس لایا جاسکتا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اگست کے شروع میں ملک کے محکمہ داخلہ کی جانب سے طبی بنیادوں پر برطانیہ میں اپنے قیام کو مزید بڑھانے سے انکار کے بعد نواز شریف نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کی تھی۔
بریگزٹ کے بعد نئے انتظامات تک پہنچنے کے لیے برطانیہ کے ہوم آفس کے مستقل سیکریٹری میتھیو رائکرافٹ نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا جس میں غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے ایک معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔
میتھیو رائکرافٹ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے برطانیہ-پاکستان ریڈمشنز معاہدے پر مذاکرات کو حتمی شکل دی، جس سے غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کو یقینی بنایا جائے گا جن کے ملک میں رہنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔
اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں فیصلے سے متعلق کہا گیا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی وفاقی کابینہ کو آنے والے ہفتوں میں پیش کیا جائے گا جس پر کابینہ کی منظوری سے رواں سال کے آخر تک عملدرآمد کیا جائے گا۔
یہ معاہدہ برطانوی اور پاکستانی حکام کے درمیان مجرمانہ ریکارڈ کا اشتراک کرنے کے قابل بنائے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان قانون نافذ کرنے کے لیے مؤثر تعاون میں مدد ملے۔
ہائی کمیشن نے کہا کہ برطانیہ، پاکستان کے ساتھ گہرے اور باہمی فائدہ مند تعلقات کے حصے کے طور پر ہجرت پر ایک مؤثر شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
اپنے دورے کے دوران میتھیو رائکرافٹ نے برطانوی ہوم آفس کے نئے امیگریشن سسٹم کے بارے میں بھی بات کی جو برطانیہ کا سفر کرنے کے خواہشمندوں کے لیے برابری کے مواقع فراہم کرے گا۔
ہائی کمیشن نے کہا کہ پاکستانی طلبہ نئے گریجویٹ راستوں سے مستفید ہوں گے جس سے انہیں برطانیہ کی جاب مارکیٹ میں ہنر مند کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
شہزاد اکبر نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں دونوں ممالک کے درمیان بین الوزارتی ملاقاتوں میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔
اس سے قبل برطانوی حکومت، پاکستان واپس بھیجے جانے والے لوگوں کے ڈیٹا اور دیگر ریکارڈ فراہم نہیں کرتی تھی۔
انہوں نے جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار اور پاکستان بےدخل کیے گئے لوگوں کی مثال دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان کے جرائم کا ڈیٹا اور دیگر اہم معلومات پاکستانی حکام کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے معاہدے کے تحت جن لوگوں کے ویزوں کی میعاد ختم ہو چکی ہے، جنہوں نے غیر قانونی طور پر قیام کیا تھا اور جن پر جنسی مجرموں کے طور پر کچھ کا ذکر کیا گیا تھا، انہیں پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کی تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
بدھ, ستمبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم

