کراچی : کراچی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات سے وقفے وقفے سے تیز با رش کا سلسلہ جاری ہے جس سے شہر کے کئی علاقے ڈوب گئے۔
جیونیوز کے مطابق ڈیفنس، کلفٹن ، ملیر، ائیرپورٹ، آئی آئی چندریگر روڈ ، صدر، اولڈ سٹی ایریا، گلستان جوہر، ایف بی ایریا، نارتھ ناظم آباد،کورنگی اور پی ای سی ایچ ایس میں بھی بارش کا پانی جمع ہوگیا۔
اس کےعلاوہ نیپا پل، قیوم آباد چورنگی، آرٹس کونسل چورنگی، سپریم کورٹ رجسٹری، زینب مارکیٹ اورایم اےجناح روڈ سمیت شہر کی کئی سڑکیں زیر آب آگئی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے جب کہ کئی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بند ہو گئیں۔
رات بھر کی بارش کے بعد توحید کمرشل، اتحاد کمرشل، خیابان شمشیر، مسلم کمرشل، سی ویو، بدر کمرشل اور صبا ایونیو سمیت ڈیفنس کے علاقے پانی میں ڈوب گئے جب کہ خیابان بحریہ، 26 اسٹریٹ، خیابان مجاہد اور خیابان تنظیم بھی پانی پانی ہو گیا۔
امراض قلب کے سب سے بڑے اسپتال این آئی سی وی ڈی کے گیٹ کے سامنے بارش کا پانی جمع ہونے سے ایمبولینس کوگزرنے میں مشکلات ہیں۔
بارش کا پانی بھرنے سے کلفٹن سب میرین انڈر پاس اور کے پی ٹی انڈر پاس بند کر دیے گئے جب کہ لیاقت آباد سی ون ایریا اور لیاری کی بہار کالونی میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 5 بجے تک کراچی میں سب سے زیادہ بارش 92 ملی میٹر ڈی ایچ اے میں ہوئی۔موسمیاتی تجزیہ کار جواد میمن کے مطابق مزید بارش برسانے والا سسٹم شہر کی جانب بڑھ رہا ہے جس سے کراچی میں آئندہ چند گھنٹوں میں مزید تیز بارش کا امکان ہے۔
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

