انٹر نیشنل کرکٹ کو دروازوں کے پیچھے کرانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے اور اسکے لئے ایک سے زائد انڈسٹریز بھی متحرک ہوگئی ہیں جس میں ایک تو خاص الخاص ہے . ایسا لگتا ہے کہ اسکے لئے ایک خاص فضا قائم کی جارہی ہے تاکہ اسکے مخالفین بھی قائل ہوجائیں.
بگ تھری کے ایک خاص رکن آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ جیسٹن لینگر خالی میدانوں میں کرکٹ بحالی کی تازہ آواز بنے ہیں. جیسٹن لینگر نے اپنے مطالبہ کے حق میں کیا خوب دلیل دی ہے کہ جب ہم کرکٹ سیکھنا اور کھیلنا شروع کرتے ہیں تو اس وقت کونسا کرائوڈ ہوتا ہے. یہ بات انکی اس لئے بھی درست ہے کہ انسان اپنے شوق کی تکمیل کے لئے جو بھی کھیل شروع کرتا ہے وہ اسکے لئے موسم دیکھتا ہے اور نہ ہی کوئی وقت اور تو اور راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو ٹھوکر ماردیتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے کھیل سے پیار بھی کرتا ہے.
جیسٹن لینگر نے ایک اور بھی بات کی . وہ کہتے کہ کیا کوئی جانتا ہے کہ حالات پہلے کی طرح کب ٹھیک ہونگے. جب نہیں تو ہمیں اس بحث سے کہ کیا بہتر اور کیا بہتر نہیں سے باہر نکل جانا چاہیے.
جیسٹن لینگر نے یہ بہت بڑی بات بڑے خوبصورت انداز میں کرکے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے. ان کا مطلب یہ ہے کہ خالی میدان کی کرکٹ ہم کھیل لیں گے کیونکہ ہم آغاز سے ایسا کھیلتے آرہے. رہ گئی بات کہ یہ بہتر ہوگا؟
اس سے انکی مراد دنیا میں کورونا سے جاری ہلاکتیں و دیگر مسا ئل ہیں تو ایک اخلاقی دبائو آئے گا کہ انسانیت کے خطرے کے دنوں میں کرکٹ کھیلنا غلط ہے.جیسٹن لینگر کا یہ بیان اس لئے بھی اہم ہے کہ انگلش کپتان جوئے روٹ بند میدان میں بیک وقت 2 ٹیموں کے ساتھ کھیلنے کا بیان 3 دن قبل دے چکے ہیں.
انٹر نیشنل کرکٹ کونسل جس نے اپنے مارچ کے ویڈیو کانفرنس اجلاس میں کوئی بڑا فیصلہ نہ کرتے ہوئے مئی کے آخر میں اجلاس بلایا تھا،اب اسکے بڑے اچانک اس ماہ کی 21 تاریخ کو سر جوڑیں گے.
دنیا بند ہے. لوگوں کے گھروں میں رکنے میں عافیت ہے. ایسے میں خالی میدان میں کھیلے جانے والی کرکٹ براڈ کاسٹرز، ڈیجیٹل نیٹ ورک کیلئے زیادہ نفع بخش ہوگی اور جوئے کی انڈسٹری کے لئے نئی لائف لائن جو موجودہ حالات میں بیٹھ گئی ہے .
ایسا لگتا ہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ اپنے سیزن میں کچھ بھی ہو، انٹرنیشنل کرکٹ اسی طرح اور آسٹریلیا سال کے آخر میں ورلڈ ٹی 20 بھی اسی کنڈیشن میں منعقد کرے گا.
کورونا وائرس کی تباہ کاری بڑهی تو پھر یہ سوچ بھی ایک چیلنج بن جائے گی اور اگر اس میں کمی واقع ہونا شروع ہو ئ تو کئی ممالک کی باہمی سیریز بھی ہم اسی پیٹرن میں ہوتے دیکھیں گے.
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
- لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟

