اپوزیشن جماعتوں کے پی ٹی آئی حکومت کے اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات ’حتمی مرحلے‘ میں داخل ہو چکے ہیں، مشترکہ اپوزیشن کو امید ہے کہ حکمران اتحاد ’گھنٹوں نہیں تو چند دنوں میں‘ ٹوٹ جائے گا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے سے بھی مخلوط حکومت میں دراڑیں بھی نظر آئیں۔
شیخ رشید احمد نے مسلم لیگ (ق) الزام عائد کیا کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے اقدام کے خلاف ساتھ دینے کے لیے حکومت کو بلیک میل کررہی ہے۔
اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کا حصہ بننے والے مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ حکومتی اتحادیوں بالخصوص مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم پاکستان اور بی اے پی کے ساتھ ہماری بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے یہ اگر گھنٹوں نہیں تو چند روز کی بات ہے کہ وہ اتحاد چھوڑ کر ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادیوں نے عمران خان سے علیحدگی اختیار کرنے کا ارادہ کر لیا ہے لیکن دونوں فریقین کے درمیان ’کچھ معاملات‘ پر کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اتحادیوں کا خیال ہے کہ وہ اپوزیشن سے شرائط منوانے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں، کیونکہ اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کو نکالنے کے لیے صرف پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی پر انحصار کرنے کے لیے پر اعتماد نہیں ہے‘۔
حکومت کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد تحریک عدم اعتماد کے دوران پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے ووٹوں کا شمار نہیں کریں گے، اتحادی اپوزیشن کے لیے مزید اہم ہوگئے ہیں۔
حزب اختلاف کے ایک اور اندرونی ذرائع نے کہا کہ اتحادی مشترکہ اپوزیشن کے ساتھ معاملات میں کچھ ’قابل اعتماد ضامن‘ رکھنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں طاقتوں کے ضامن سامنے آتے اور اس طرح کے معاہدوں پر مہر لگا دیتے تھے لیکن اب اتحادی، اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے حوالے سے ہوشیار ہیں کیونکہ ان کے پاس ایسے ضامنوں کے بغیر اعتماد کی کمی ہے۔
وزیراعظم کی پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان
دوسری جانب وزیراعظم خان اتحادیوں کو حکومت کے ساتھ وفادار رکھنے کی آخری کوشش کر رہے ہیں، اس سلسلے میں ان کی (آج) اتوار کو مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے۔
مسلم لیگ (ق) وزیر اعظم سے پہلے ہی کہہ چکی ہے وہ تحریک عدم اعتمادکے سلسلے میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل عثمان بزدار کی جگہ وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے پرویز الٰہی کے نام کا اعلان کریں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’اگر وزیراعظم اتوار کو پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لیے امیدوار کے طور پر پرویز الٰہی کے نام کا اعلان نہیں کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اہم اتحادی سے محروم ہوجائیں گے‘۔
مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پی دونوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ انہیں اپوزیشن کی جانب سے انہیں حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی صورت میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور سندھ کے گورنر کی عہدوں کے علاوہ پولنگ کے بعد کے دیگر انتظامات کی پیش کش ہوئی ہے۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
جمعہ, نومبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔

