کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں بےہنگم تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں سینکڑوں چھوٹی بڑی دکانیں مسمار کر دی گئی ہیں، جن کا سڑکوں پر بکھرا ملبہ روشنیوں کے شہر کراچی کی بجائے شام کے کسی ایسے شہر کا منظر پیش کر رہا ہے جو ابھی ابھی بمباری کا نشانہ بنا ہو۔
یہ صرف اشیا کی خرید و فروخت کا ایک عام سا بازار نہیں ہے، بلکہ اس کی ایک طویل اور دلچسپ کہانی بھی ہے، جس کی وجہ سے یہ کراچی کی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔
یہ مارکیٹ 1895 سے 1899 کے دوران میں تعمیر ہوئی تھی اور اس دور میں رائج ‘مغل گاتھک’ طرزِ تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ یہ وہ طرزِ تعمیر ہے جس میں مغل اور یورپی عمارت سازی کے اصولوں کو ملا کر ایک قسم کا ‘فیوژن’ پیش کیا جاتا ہے۔شہر کے عین قلب میں واقع اس مارکیٹ کا محلِ وقوع کچھ یوں ہے کہ یہاں سے فریئر ہال، سندھ کلب، کراچی جمخانہ، ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل، گورنمنٹ ہاؤس، فلیگ سٹاف ہاؤس اور اسی نوعیت کے مقامات پیدل فاصلے پر موجود ہیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی افسروں کو تمام ضروری کام سرانجام دینے کے لیے زیادہ دور نہ جانا پڑے۔
اس مارکیٹ میں جودھ پوری لال پتھر استعمال کیا گیا ہے جو اسے مخصوص کردار بخشتا ہے، لیکن اس شوخ رنگ کی ایک تاریک کہانی بھی ہے۔ایک روایت کے مطابق جس جگہ ایمپریس مارکیٹ تعمیر ہوئی، اسی جگہ پر 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد کئی ہندوستانی ‘باغیوں’ کو توپ دم کیا گیا تھا۔اس وقت یہ علاقہ کراچی کینٹ کا حصہ تھا اور یہاں فوجیوں کا پریڈ گراؤنڈ تھا۔کہا جاتا تھا کہ اس کے بعد ایک عرصے تک لوگ چھپ چھپ کر یہاں پھولوں کی پتیاں نچھاور کیا کرتے تھے۔ جب انگریزوں کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہاں شہدا کی یادگار نہ تعمیر ہو جائے تو انھوں نے یہاں ملکۂ برطانیہ کے نام پر مارکیٹ تعمیر کروا دی۔اس کے علاوہ یہاں صرف انگریزوں کو داخل ہونے کی اجازت تھی، اور مقامیوں کو یہاں پھٹکنے تک نہیں دیا جاتا تھا، تاہم بعد میں یہ پابندی ختم ہو گئی۔ایمپریس مارکیٹ کا سنگِ بنیاد اس وقت کے بمبئی کے گورنر جیمز فرگوسن نے رکھا تھا۔ اس کا ڈیزائن مشہور انجینیئر جیمز سٹریکن نے بنایا تھا۔ سٹریکن بنیادی طور پر ریلوے انجینیئر تھے لیکن کراچی میں انھوں نے کراچی میں سٹی پلاننگ کے کئی منصوبوں میں حصہ لیا، جن میں ایمپریس مارکیٹ کے علاوہ کراچی کے شہریوں کو بجلی کی سہولت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ایمپریس مارکیٹ کے بیچوں بیچ ایک صحن رکھا گیا جس کا رقبہ 100 فٹ ضرب 130 فٹ تھا۔
اس کے چاروں طرف چار گیلریاں تھیں جن میں سے ہر ایک 46 فٹ چوڑی تھی۔ تکمیل کے وقت اس مارکیٹ میں کل 280 دکانوں کی گنجائش تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دکانوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی، حتیٰ کہ اب یہ ہزاروں تک پہنچ گئی۔یہی وجہ ہے کہ اب کراچی کی بلدیہ نے ان تجاوزات کو گرا کر ایمپریس مارکیٹ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت بہت سی دکانیں گرائی جا چکی ہیں، اور بہت سی ایسی ہیں جنھیں گرایا جانا باقی ہے۔
کیا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ اس تخریب سے تعمیر کی صورت نکلے گی اور اصل ایمپریس مارکیٹ اس شکل میں ہمارے سامنے آئے گی جس کا نقشہ جیمز سٹریکن نے تیار کیا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
اتوار, نومبر 8, 2026
تازہ خبریں:
- 23 بین الاقوامی تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ
- زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

