تاریخ کبھی کبھی ایسے رہنماؤں کو جنم دیتی ہے جو صرف سیاسی حیثیت کے مالک نہیں ہوتے، بلکہ ایک عہد کی علامت اور اصولوں کی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں فکر، علم، حکمت، بصیرت اور جرات کا امتزاج ہوتا ہے، جو قوموں کو حوصلہ دیتا ہے اور ظلم و سفاکی کے سامنے ڈٹ جانے کی مثال قائم کرتا ہے۔ ایسی ہی شخصیت میں ایک نام علی خامنہ ای کا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی امتِ مسلمہ کے وقار، مظلوموں کے حق اور اسلامی اصولوں کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔
خامنہ ای کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا علم، بصیرت اور حکمت تھی۔ وہ نہ صرف ایک سیاسی رہنما تھے بلکہ ایک فکری رہنما، عالم اور مفکر بھی تھے۔ ان کے بیانات، تقاریر اور تحریریں ہمیشہ حقیقت پسندی، دوراندیشی اور اصول پرستی کی علامت رہیں۔ انہوں نے امت مسلمہ کے مسائل کو گہرائی سے سمجھا، عالمی سیاست کے پیچیدہ تقاضوں کو پڑھا اور ہر فیصلے میں بصیرت اور حکمت کا مظاہرہ کیا۔ یہی حکمت اور بصیرت انہیں دشمن کے سامنے ایک مضبوط ستون بناتی رہی۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا وصف ان کی دلیرانہ قیادت اور استقامت تھا۔ وہ ایک مردِ مجاہد کی طرح دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوئے، نہ کبھی جھکے، نہ ڈرے اور نہ کسی خوف کی لپیٹ میں آئے۔ وہ شیر کی طرح دھاڑ کر سامنے والے کو للکارے، طاقتور قوتوں کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود حق اور اصول کے لیے ڈٹے رہے۔ ان کی یہ شجاعت اور استقامت ایک مومن کی شایان شان شہادت کے مترادف ہے۔
ان کی شہادت ایک ایسا المیہ ہے جو پوری ایرانی قوم اور امت مسلمہ کے دلوں کو نڈھال کر گیا۔ یہ حملہ صرف ایک فرد کے خلاف نہیں تھا، بلکہ ایک نظریے، ایک اصول اور ایک استقامت کے خلاف تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کی سفاکانہ سوچ نے خامنہ ای کو نشانہ بنایا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ جو حق پر ڈٹے گا، اسے شکست دی جائے گی۔ اسرائیل کی ایران پر قبضے کی ناکام کوششیں، فلسطین پر ان کے قبضے کو روکنے کے ایران کے عملی اقدامات، اور خامنہ ای کی مستقل مزاحمت ۔۔ یہ سب کچھ امریکی اور اسرائیلی انا کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ اسی لیے انہوں نے شب خون مار کر ایک مردِ مجاہد کی زندگی چھین لی۔
خامنہ ای کی شہادت امتِ مسلمہ کے لیے ایک انتباہ ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ظلم اور جارحیت کے خلاف ڈٹ جانا، اصولوں کی حفاظت کرنا اور حق کی خاطر قربانی دینا ہی حقیقی بہادری ہے۔ آج پورے عالمِ اسلام کے سامنے سوال ہے کہ آخر کب مسلمان ممالک متحد ہو کر ایسے ظلم و سفاکی کے واقعات کو روکنے کے لیے عملی اقدام کریں گے؟ اتحاد، بصیرت اور عمل ہی مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔
خامنہ ای کی قربانی صرف ایک ملک کے لیے نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ان کی علم و حکمت، استقامت، شجاعت اور بصیرت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ وہ ایک ایسے مردِ مجاہد تھے جنہوں نے دشمن کو للکارا، حق کے لیے سینہ تان کر کھڑے ہوئے، اور مومن کی شایان شان شہادت پا کر تاریخ کے صفحات میں امر ہو گئے۔
اب دنیا منتظر ہے کہ مسلم امہ میں سے خامنہ ای جیسا دلیر شیر کب امریکہ اور اسرائیل جیسے ظالموں کو للکار کر آگے بڑھے، سینہ تان کر کھڑا ہو، اور انھیں چاروں شانے چت پچھاڑ دے۔ کیا ایسا کوئی مرد مومن، مرد حق، مرد مجاہد کسی مسلم ریاست سے بیدار ہوگا؟؟#
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

