جنرل موسی خان سپاہی سے کمیشنڈ آفیسر منتخب ہوئے تھے۔اگست1947میں وہ برٹش انڈین آرمی میں میجر تھے۔
قیام پاکستان کے بعد انھیں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں بطورانسٹرکٹربھیجا گیا۔ وہ کوئٹہ جانے کے لئے محو سفر تھے کہ سکھر ریلوے سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر نے آواز لگوائی کہ میجر موسی کون ہے؟ میجر موسی نے تعارف کرایا تو اس نے مطلع کیا کہ آپ واپس لاہور جائیں۔ یہ آپ کے لئے ٹیلی گرام ہے۔ میجر موسی وہاں سے واپس عازم لاہور ہوئے۔ لاہورپہنچ کر وہ انگریزجی۔ او۔ سی کے اے ڈی سی مقرر ہوئے۔ بریگیڈئیرایوب خان پرالزام تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے وقت ہونے والے فسادات میں غیر مسلم عورتوں کے زیورات اتروا لئے تھے۔ اس کے خلاف ان الزمات کے تحت انکوائری زیر التوا تھی۔ میجر موسی نے اس فائل کو نیچے والے دراز میں رکھ دیا اور یہ انکوائری ٹھپ ہوگئی۔ یہ تھا وہ احسان جو میجر موسی نے جنرل ایوب خان پر کیا تھا۔ جب جنرل ایوب خان مارشل نافذ کرکے صدر پاکستان بنے تو انھوں نے جنرل موسی کو پاکستانی فوج کا دوسرا پاکستانی کمانڈر انچیف مقرر کردیا۔
اتوار, اکتوبر 18, 2026
تازہ خبریں:
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
- پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی

