میں نے اپنے آپ سے پوچھا تم کون ہو ؟میں نے جواب دیا میں ہوں جسے تم جانتے ہو ’’میں نے کہا ‘‘ تم وہ نہیں ہو جسے میں جانتا ہوں ان دنوں تو بھی وہ نہیں ہے جسے لوگ جانتے ہیں کہ یہ وہ ہے ۔
پھر تم کون ہو؟’’میں نے پوچھا
میں انڈہ ہوں‘‘ میں نے جواب دیا ۔
اگر تم انڈے ہو تو یہ بتاؤ پہلے مرغی پیدا ہوئی تھی یا انڈہ پیدا ہوا تھا ‘‘
میں اس بارے میں نہیں جانتا میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ میں انڈہ ہوں اور تین سو روپے درجن کے حساب سے فروخت ہو رہا ہوں‘‘
میں تم سے ریٹ نہیں پوچھ رہا یہ ریٹ تو گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں ۔تم یہ بتاؤ کہ پہلے انڈہ پیدا ہوا تھا یا مرغی پیدا ہوئی تھی ‘‘۔
میں تمہارے سوال کا جواب سوچ کر دوں گا پہلے مجھے ایک شعر کا مطلب بتاؤ‘‘۔
’’کون سا شعر؟‘‘
وہی انڈے اور ہاتھی والا
یکایک یکایک یہ کیا ہو گیا
کہ انڈے پہ ہاتھی کھڑا ہو گیا
’’بھلا یہ بھی کوئی شعر ہے ۔تم دانشور ہو کر عوام الناس کی باتوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہو؟‘‘
اچھا تو پھر اس شعر کا مطلب سمجھاؤ
رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پاہے رکاب میں
پھر وہی شعرو شاعری میں پوچھ رہا ہوں کہ پہلے …..
یہ میں تمہیں سوچ کر بتائوں گا تم مجھے بتائو کہ پنکھے کو پنکھا کیوں کہتے ہیں ،آلو بخارا یا تربوز کیوں نہیں کہتے ‘‘
اس لئے کہ’’ سب سے پہلے کسی شخص نے پنکھے کو پنکھا کہہ دیا تھا اس لئے اسےآج تک پنکھا کہا جاتا ہے اگر کسی نے آلو بخارا کہہ دیا ہوتا تو ہم اسے آج آلو بخارا ہی کہہ رہے ہوتے ‘‘
’’میں آج سے پنکھے کو آلو بخارا کہوں گا یہ آلو بخارا چلاؤ مجھے گرمی لگ رہی ہے ۔‘‘
صبح سے خنک ہوائیں چل رہی ہیں اور تمہیں گرمی لگ ر ہی ہے میں تمہارا مسئلہ سمجھتا ہوں تم ذہنی طور پر پریشان ہو تمہاری طرح کے کچھ او رلوگ بھی پریشان ہیں اس پریشانی کے مثبت حل کے لئے آئو تبادلہ خیال کریں لہٰذا یہ بتاؤ کہ پہلے انڈہ پیدا ہوا تھا یا مرغی پیدا ہوئی تھی ۔
’’میں نے تمہیں بتایا کہ مجھے اس کے بارے میں کچھ علم نہیں میں کتابوں کا مطالعہ کرکے بتاؤں گا کہ صحیح صورتحال کیا ہے‘‘۔
میں نے کتابوںکا مطالعہ کیا ہے۔ ان کتابوں کی ایک ایک سطر میں کتنے ہی نکات پوشیدہ ہیں کسی شق سے پتہ چلتا ہے کہ انڈہ پیدا ہوا تھا اور کوئی دوسری شق بتاتی ہے کہ پہلے مرغی پیدا ہوئی تھی تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟
’’میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں انڈہ ہوں اور تین سو روپے درجن فروخت ہو رہا ہوں اگر مزید گرمی پڑی تو میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پڑا ہوا ملوں گا آلو بخارا چلاؤمجھے گرمی لگ رہی ہے‘‘
میں تمہیں پنکھے کو آلو بخارا کہنے کی اجازت نہیں دوں گا تمہیں پنکھے کو پنکھا ہی کہنا پڑے گا‘‘
’’چلو میں اسے پنکھا کہہ لیتا ہوں مجھے گرمی لگ رہی ہے پنکھا چلاؤ ‘‘
’’موسم بہت خوشگوار ہے میں پنکھا نہیں چلاؤں گا‘‘
’’موسم خوشگوار نہیں ہے خدا کیلئے پنکھا چلاؤ‘‘
’’تم انڈے ہو، باہر سے بھی سفید ہو رہے ہو، اندر سے بھی زرد ہو، میں تمہیں تین سو روپے درجن کے حساب سے خرید لوں گا میں پنکھا نہیں چلاؤں گا‘‘
تم کیا چاہتے ہو ،میں نے پوچھا
میں تم سے صرف ایک مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ پہلے مرغی پیدا ہوئی تھی یا انڈہ پیدا ہوا تھا۔
کیا ہم موجودہ صورتحال یعنی کنفیوژن، مایوسی ، پولرائزیشن،غیر یقینی صورتحال، غربت، افلاس، بدتمیزی، حب الوطنی، غداری، مار دھاڑ جیسے موضوعات پر گفتگو نہیں کر سکتے ؟
’’کیوں نہیں کر سکتے ،کرسکتے ہیں ،تم شروع ہو جاؤ‘‘
’’ٹھیک ہے مگر اس بار میں تم سے پوچھوں گا کہ پہلے انڈہ پیدا ہوا تھا یا مرغی ؟‘‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)
جمعرات, ستمبر 24, 2026
تازہ خبریں:
- فرمانبردار شاہ کی کایا کلپ : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- محلاتی سازشیں ، جماعتِ اسلامی اور بھٹو کے حامی طلبہ پر فائرنگ : نصرت جاوید کا کالم
- مسلم لیگ (ن) کی ’ تنہا پرواز‘ : مظہر عباس کا کالم
- جنید حفیظ کیس کی چھے برس بعد پہلی باقاعدہ سماعت: جنید ’پُرامید مگر تنہا ہیں‘ : اہل خانہ
- امن کے پلیٹ فارم سے ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم

