کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے پیمرا کو حکم دیا ہے کہ اے آر وائے نیوز چینل کی نشریات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ میں اے آر وائے نیوز انتظامیہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے بعد عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیمرا کی جانب سے واضح کیا گیا کہ چینل کو بین نہیں کیا گیا اور نا ہی کسی کیبل آپریٹر کو چینل ہٹانے کا کہا گیا۔واضح رہے کہ اے آر وائے کی نشریات گذشہ روز اس وقت بند ہو گئی تھیں جب ایک شو کے دوران چیئرمین تحریک انصاف کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی جانب سے ایک متنازع بیان دیا گیا جس پر ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا اور ان کو گرفتار بھی کیا گیا۔
اے آر وائے کے سی ای او، نیوز ڈائریکٹر اور چند اینکرز کے خلاف بھی کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران پیمرا کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کاشف حنیف نے موقف اختیار کیا کہ پیمرا نے چینل کو قانون کے تحت شو کاز نوٹس دیا ہے۔
عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ چینل کو وقت ضائع کیے بغیر بحال کیا جائے، جبکہ اے آر وائے کو شو کاز نوٹس کا جواب دینے کے لیے وقت میں بھی 15 اگست تک توسیع کر دی ہے۔
عدالت نے حکمنامے میں لکھا کہ اے آر وائے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عدالت کی جانب سے حتمی فیصلے تک شہباز گل کو چینل پر نہیں بلایا جائے گا اور ایسی شخصیات کے معاملے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے گا جو ایسے کلمات ادا کر سکتے ہیں جن کی بنا پر پیمرا ایسا ہی شوکاز نوٹس پھر جاری کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اے آر وائے نیوز کی انتظامیہ نے اپنے چینل پر تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ادارہ ’فوج کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں۔‘
گذشتہ روز اے آر وائے کے اینکر کاشف عباسی نے اپنے شو کے آغاز میں چینل کی انتظامیہ اور سی ای او سلمان اقبال کا موقف پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ‘اے آر وائے شہباز گل کے بیان کی مذمت کرتا ہے۔ اے آر وائے ادارے کے طور پر کبھی بھی عدلیہ یا فوج کسی ادارے کے خلاف مہم کا حصہ نہ بنا ہے اور نہ آئندہ بنے گا۔’
ان کا کہنا تھا کہ چینل پر ماضی میں یہ بھی الزام لگتا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ان کا کوئی گٹھ جوڑ ہے۔ ‘اے آر وائے ہمیشہ سے فوج کی عزت کرتا ہے، پاکستان کے لیے ایک مضبوط فوج کا حامی ہے۔’
‘ہم ایک پلیٹ فارم ہیں۔۔۔ ہم جب کسی کو لائن پر لیتے ہیں تو ہم کسی کا دماغ نہیں پڑھ سکتے کہ وہ ٹی وی پروگرام پر آ کر کیا کہے گا۔۔۔ شہباز گل نے (ٹرانسمیشن میں) آ کر اپنی رائے دی۔ ادارے کو یہ پتا نہیں تھا کہ وہ اس طرح کی گفتگو کریں گے کہ لوگ حکم نہ مانیں۔ یہ ہمارے لیے بھی سرپرائز تھا۔’
اے آر وائے کی انتظامیہ نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ وفاقی حکومت انھیں انتقام کا نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ ‘پلیٹ فارم کے طور پر ہمارا اس سازش سے کوئی تعلق نہیں۔’
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھاری (پیمرا) نے سوموار کی شب مبینہ طور پر نفرت آمیز اور پاکستانی فوج کے اندر بغاوت کو اکسانے والے مواد کو نشر کرنے پر اے آر وائی چینل کو چھ صفحات پر مشتمل ایک طویل شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔
پیمرا نے اے آر وائی نیوز کو تین دن میں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ چینل یہ بتائے کہ اس نفرت انگیز مواد پر کیوں نہ اس کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے۔
سوموار کی شام جاری ہونے والے اس شوکاز کے مطابق اس قانونی کارروائی کے نتیجے میں اے آر وائی کو پیمرا قانون کی دفعہ 29، 30 کے تحت جرمانہ، معطلی اور لائسنس کی منسوخی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
ترجمان پیمرا محمد طاہر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اے آر وائی کی نشریات بغیر کسی دباؤ کے معطل کی گئی ہیں اور اس کی وجوہات شوکاز نوٹس میں درج ہیں۔پیمرا ترجمان کے مطابق پیمرا نے قانونی طریقے سے اپنی ذمہ داری پوری کی اور جب ایک ایسا بیان نشر ہوا تو پھر اس پر کارروائی عمل میں لائی گئی اور شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
جمعہ, اکتوبر 23, 2026
تازہ خبریں:
- فضول خرچ بیٹے کی تمثیل :زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- خیبر پختونخوا۔۔ پی ٹی آئی ارکان کو ’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش : نصرت جاوید کا کالم
- جوتے چومنے کی سزا جوتے چاٹ کر دینے کا حکم: مظفر گڑھ میں پنچایت کا فیصلہ ، چار افراد گرفتار
- مولانا اور خان ۔۔ قربتوں اور دوریوں کی داستان : حامد میر کا کالم
- سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
- پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
- لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
- محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
- جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ

