اسلام آباد : ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق، وکلا اور آزادیِ اظہار کے لیے کام کرنے والی 23 تنظیموں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ’فوری اور غیر مشروط طور پر‘ رہا کیا جائے اور ان کے خلاف سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
29 اکتوبر کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سکیورٹی خلاف ورزی کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 186 (کارِ سرکار میں مداخلت) کے تحت دونوں کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی دی تھی۔
اس کے علاوہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 353 (سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) کے تحت بھی دونوں کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
آج جمعہ کے روز 23 تنظیموں کے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت سے متعلق مقدمے میں دونوں وکلا کو سنائی گئی سزا ’فوجداری نظام کے غلط استعمال‘ کی ایک مثال ہے۔
بیان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا اطلاق ایک ایسے واقعے پر کیا گیا جس میں اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی آمد کے دوران سڑک پر لگے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر پر الزام تھا کہ انھوں نے 25 اکتوبر 2024 کو انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹا کر کارِ سرکار میں مداخلت کی اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ ایمان اور ہادی اِن الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس کیس کی آخری سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہی ہوتی رہی ہیں جہاں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ گذشتہ کئی ماہ سے قید ہیں۔
بیان میں تنظیموں نے کہا ہے کہ ’انھیں اس بات پر تشویش ہے‘ کہ اڈیالہ جیل میں ہونے والا ٹرائل ’منصفانہ سماعت کے تقاضوں‘ پر پورا نہیں اترتا، اور یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ملزمان کو ان کے وکلا تک مناسب رسائی فراہم نہیں کی گئی۔
تنظیموں نے اپنے بیان میں رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مقدمے کی سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو پورے وقت عدالت کے اندر ایک پنجرہ نما حصے میں رکھا گیا۔‘
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت جج کے روبرو اپنے بیان میں ایمان مزاری بھی یہی کہہ چکی ہیں کہ انھیں اور ان کے شوہر کو پنجرے میں رکھ کر ٹرائل کیا گیا اور وکلا تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔
تنظیموں کے بیان کے مطابق استغاثہ نے الزام ثابت کرنے کے لیے بنیادی طور پر ’پولیس اہلکاروں کی گواہیوں‘ پر انحصار کیا جبکہ دفاع کو استغاثہ کے شواہد کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔
تنظیموں نے پاکستانی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہے ’ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان کے خلاف سزاؤں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘
بیان پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس، انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن ہیومن رائٹس انسٹیٹیوٹ، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز اور دی لا سوسائٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز سمیت 23 ادارے شامل ہیں۔
تنظیموں نے اپنے بیان میں جس مقدمے کا حوالہ دیا ہے، اس کی 27 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کروائے تھے۔
اپنے بیان میں ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ وہ بطور احتجاج اس مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی ہیں۔
اس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فرد جرم بھی اڈیالہ جیل میں ان کی حراست کے دوران ہی عائد کی گئی تھی۔
( بشکریہ : بی بی سی )
(

