لسانیات ایک علم ہے، ایک باقاعدہ سائنس ہے ۔ اس میں فتوے کی یا بلند بانگ دعوے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایک ماہر لسانیات کے لیے لسانیات کے ساتھ ساتھ تاریخ جغرافیہ ، علم الآثار اور انتھروپولوجی جیسے علوم پر بھی دسترس ضروری ہے اور وہ صرف نظری نہیں عملی کام بھی کرتا ہے ۔کوئی سیاست دان، کوئی قوم پرست دانشور، کوئی صحافی اپنی خواہش ، اپنے روزمرہ مشاہدات یا اپنے وجدان سے کوئی نظریہ قائم نہیں کر سکتا۔
آج اگر ایک بلوچ قوم پرست دعویٰ کرے کہ وہ مہرگڑھ کی تہذیب کا وارث ہے اور بلوچی سات ہزار سال قدیم زبان ہے یا کوئی سندھی کہے کہ ہم موہنجوڈارو کے وارث ہیں اور ہماری زبان پانچ ہزار سال قدیم ہے ، یا کوئی پنجابی کہے کہ ٹیکسلا اور ہڑپہ کی زبان پنجابی تھی اور سرائیکی پوٹھوہاری اور ہندکو وغیرہ پنجابی کے لہجے ہیں، یا کوئی جوشیلا سرائیکی قوم پرست نعرہ بلند کرتا ہے کہ اس کی زبان زمانہ قبل از تاریخ سے مروج چلی آتی ہے
۔۔۔۔۔۔ نہیں برادر
علمی ثبوت لائو تمہارا دعویٰ بلا دلیل ہے۔
چلیں آپ کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے کراتے ہیں جسے فتویٰ دینے کا حق حاصل تھا اور یہ حق اس نے ایک عمر لسانیات میں بسر کر کے حاصل کیا تھا ، ساٹھ برس سے بھی زیادہ لسانیات اس کا اوڑھنا بچھونا رہی۔ لیکن آپ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ جب کوئی شخص علم و عمل کی اس بلندی پر پہنچ جائے تو وہ فتویٰ نہیں نظریہ دیتا ہے۔
برصغیر کی لسانیاتی تاریخ میں سب سے نمایاں نام سر جارج ابراہم گریئرسن کا ہے۔ انہوں نے تن تنہا جو کام کیا وہ آج کئی یونیورسٹیاں مل کر بھی نہیں کر سکتیں۔
گریئرسن 7 جنوری 1851 کو ڈبلن، آئرلینڈ میں پیدا ہوئے ،ٹرینیٹی کالج سے ریاضی اور سنسکرت میں ڈگری لی اور 1873 میں انڈین سول سروس (ICS) میں شمولیت اختیار کی ۔ بنگال، بہار اور یوپی میں کلکٹر اور مجسٹریٹ کے طور پر کام کیا، لیکن ان کی اصل دلچسپی حکمرانی میں نہیں، لوگوں کی بولیوں میں تھی۔
ان کا عظیم کارنامہ – Linguistic Survey of India (LSI) ہے
ان کی دلچسپی دیکھتے ہوئے بلکہ ان کے بار بار اصرار اور حکام کو خطوط لکھنے پر 1894 میں حکومت ہند نے انہیں برصغیر کی تمام زبانوں کا سروے کرنے کا کام سونپا۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا لسانی سروے تھا۔
سروے کے اعداد و شمار حیران کن ہیں
دورانیہ 30 سال (1894 سے 1928)
11 جلدوں میں 19 حصے، تقریباً 8,000 صفحات-
زبانیں : 179 زبانیں اور 544 بولیاں۔
انہوں نے ہر ضلع کے افسر کو لوقا کی انجیل سے ایک ہی کہانی "دو بیٹوں کی تمثیل” (Parable of the Prodigal Son) بھیجی جس کے ساتھ دو سو مختلف الفاظ اور اور دو تین درجن جملے بھیجے کہا اس کا اپنی مقامی بولی میں ترجمہ کر کے بھیجیں۔ اس طرح ایک ہی متن کی 700 سے زیادہ شکلیں انہیں ملیں۔ اور یہ کام اتنی آسانی سے نہیں ہوا ، آج کے ڈپٹی کمشنر حضرات کے رویے دیکھیں اور اس پر انگریز بہادر ڈپٹی کمشنرز کو قیاس کریں ، مسٹر گریئرسن کو بار بار خطوط بھیجنا پڑتے تھے ، بیوروکریسی ان کے فنڈز بھی پورے اور باقاعدگی سے نہیں دیتی تھی ، وہ اپنی تنخواہ اس کام پر خرچ کر دیتے تھے بلکہ دوستوں سے بھی مدد لیتے تھے۔
ہر زبان کی گرامر، الفاظ کی لغت ، اور پہلی بار ان زبانوں کی حد بندی نقشوں پر کی۔
اس سروے سے پہلے کسی کو ٹھیک سے معلوم ہی نہیں تھا کہ برصغیر میں کتنی زبانیں ہیں۔ گریئرسن نے ثابت کیا کہ یہاں 179 زبانیں نہیں، دراصل لسانی خاندانوں کا ایک پورا براعظم آباد ہے۔
گریئرسن کے اہم نظریات
1 انہوں نے پہلی بار کہا کہ ہند آریائی زبانیں دو طرح کی ہیں – بیرونی شاخ (سندھی، پنجابی، راجستھانی) اور اندرونی شاخ (ہندی، بنگالی)۔ اگرچہ بعد میں اس نظریے پر تنقید ہوئی، لیکن یہ بحث کی بنیاد بنا۔
2 لہندا اور ڈارڈی یا داردی اصطلاحات "لہندا” (مغربی پنجاب اور وادی سندھ) اور "ڈارڈی” (کشمیر، گلگت کی زبانیں) جیسی اصطلاحات انہوں نے دیں۔ انہوں نے سندھی ملتانی اعوانکی پہاڑی اور ہندکو کو ایک الگ لسانی خاندان قرار دیا ۔
3 بہاری زبانوں کی شناخت انہوں نے ثابت کیا کہ بھوجپوری، میتھلی، مگدہی الگ زبانیں ہیں، ہندی کی بولیاں نہیں – یہ بات آج میتھلی کو بھارتی آئین میں جگہ ملنے کی بنیاد بنی۔
4 آسامی اور بنگلہ یا بنگالی ہندی سے الگ زبانیں ہیں۔
5 اردو / ہندی پر ان کی رائے
گریئرسن اردو اور ہندی کو ایک ہی زبان "ہندوستانی” کی دو ادبی شکلیں مانتے تھے ، انہوں نے لکھا: "ہندوستانی کی بنیاد دہلی کی کھڑی بولی ہے، ہندو اسے دیوناگری میں لکھ کر ہندی کہتے ہیں، مسلمان فارسی رسم الخط میں لکھ کر اردو۔”
انہیں 1928 میں نائٹ ہڈ ملا، رائل ایشیاٹک سوسائٹی کے فیلو بنے۔ 1941 میں انگلینڈ میں 90 سال کی عمر میں فوت ہوئے لیکن اپنی ساری جائیداد اور لائبریری بھارتی زبانوں کے نام وقف کر گئے۔
آج جب ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں 74 زبانیں ہیں، بھارت میں 122، تو اس کی بنیاد گریئرسن کا سروے ہے۔ یونیسکو کی خطرے سے دوچار زبانوں کی فہرست میں جو زبانیں ہیں، ان میں سے اکثر کا پہلا تحریری ثبوت گریئرسن کے سروے میں ہی ملتا ہے۔
جارج گریئرسن نوآبادیاتی افسر ضرور تھے، لیکن انہوں نے بندوق کی جگہ قلم سے برصغیر کی خدمت کی – انہوں نے ان زبانوں کو لکھ کر محفوظ کیا جنہیں اس وقت کوئی لکھنے والا بھی نہ تھا۔
لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
ایڈیٹر1 Views

