سب سے پہلے یہ وضاحت کر دوں کہ میں لسانیات کا کوئی سکالر نہیں اور نہ ہی طالب علم رہا ہوں ۔ میں ایک عام شخص ہوں جو زبانوں سے دلچسپی رکھتا ہے اور وہ گفتگو بھی ایک عام قاری سے کر رہا ہے، academians سے نہیں ۔ میرے پاس لسانیات کا علم نہیں معلومات ہیں ، ہاں البتہ یہ کوشش ضرور ہو گی کہ کوئی سنی سنائی اور غیر مصدقہ بات قاری تک نہ پہنچائی جائے اور پھر مضمون خشک اور بیزار کن نہ ہو، قاری کی دلچسپی بھی برقرار رہے ۔
دنیا کی زبانوں کی تازہ ترین صورت حال
Ethnologue 2026 کے مطابق:
7,170 زندہ زبانیں اس وقت بولی جا رہی ہیں۔
یہ تعداد ہر سال بدلتی رہتی ہے، کیونکہ کچھ نئی زبانیں دریافت ہوتی ہیں اور کچھ ختم ہو جاتی ہیں۔
سب سے بڑی زبانیں (مادری + دوسری زبان کے طور پر) درجہ
زبان کل بولنے والے مادری بولنے والے
1 انگریزی 1.49 ارب 372 ملین
2 مینڈرن چینی 1.18 ارب 988 ملین – مادری میں سب سے بڑی
3 ہندی 611 ملین 347 ملین
4 ہسپانوی561 ملین 487 ملین
5 عربی (معیاری)335 ملین –
6 فرانسیسی334 ملین 75 ملین
7 بنگالی 274 ملین 234 ملین
8 پرتگالی 269 ملین 252 ملین
9 انڈونیشیائی 255 ملین 78 ملین
10 اردو246 ملین 78 ملین
11 روسی210 ملین 133 ملین
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی صرف 23 زبانیں بولتی ہے ، باقی 7,000 سے زیادہ زبانیں آدھی سے بھی کم آبادی میں بٹی ہوئی ہیں۔
اردو اس لسٹ میں 10ویں نمبر پر ہے۔
7,159 زبانوں میں سے
3,193 زبانیں (44%) خطرے سے دوچار ہیں
3,479 زبانیں (49%) مستحکم ہیں۔
487 زبانیں (7%) ادارہ جاتی ہیں یعنی حکومتی دفاتراور تعلیمی اداروں میں استعمال ہوتی ہیں۔
454 زبانیں مکمل معدوم (Extinct) ہو چکی ہیں – 337 زبانیں مردہ سوئی ہوئی (Dormant) ہیں – یعنی کوئی رواں بولنے والا نہیں رہا لیکن کمیونٹی اب بھی اسے اپنی شناخت سمجھتی ہے ۔
خطرے کی شدت
1,431 زبانوں کے 1,000 سے کم بولنے والے رہ گئے ہیں-
463 زبانوں کے 100 سے کم-
110 زبانوں کے 10 سے بھی کم بولنے والے رہ گئے ہیں-
اوسطاً ہر سال 3.5 زبانیں ختم ہو جاتی ہیں، یعنی تقریباً ہر 4 ماہ میں ایک زبان۔
یونیسکو کا اندازہ ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو 2100 تک آج کی نصف سے زیادہ زبانیں شدید خطرے میں ہوں گی۔ سب سے زیادہ خطرہ اوشیانا (آسٹریلیا اور بحر الکاہل کے جزائر)، پھر ایشیا اور افریقہ کی زبانوں کو ہے۔ جو زبان علم ٹیکنالوجی اور معیشت یا مارکیٹ کی زبان نہیں ہو گی ختم ہو جائے گی ۔ شعر اور ادب ایک حد تک ضرور زبان کا تحفظ کرتے ہیں۔
جدید انسان ہومو سیپینز کے سفر کا آغاز افریقہ سے ہوا تو وہ یقیناً ایک ہی زبان بولتے ہوں گے ۔ کالج کے دنوں میں اردو کے ایک استاد صاحب سے پوچھا کہ سر بنی آدم کی زبانیں اتنی زیادہ کیوں ہیں ، ایک ہی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے فرمایا تمہیں نہیں معلوم کہ ہماری قومی زبان اردو کیسے بنی ؟ زبانیں مختلف زبانوں کے ملاپ سے بنتی ہیں، ہندی ترکی فارسی عربی اور کئی دیگر زبانیں بولنے والے ایک لشکر میں اکٹھے ہوئے تو لشکری زبان اردو وجود میں آئی ۔ عرض کیا کہ یہی تو میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ دیگر زبانیں کیسے وجود میں آئیں، تو سوچ میں پڑ گئے اور بولے کل بتائوں گا، دوسرے دن ملاقات ہوئی تو بولے میں نے ایک عالم سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر بہت طویل تھی اور وہ مسلسل اپنے بیٹوں کو نصیحتیں کرتے تھے ، لہذا ان کے بیٹوں نے انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، تب اللہ تعالٰی نے ان کی زبانیں بدل دیں ، سام کی الگ ، حام کی الگ ، یافث کی الگ ۔۔۔ تو اس طرح زبانیں مختلف ہوگئیں ۔ میں نے انبیاء کرام کی تاریخ پر مشتمل کئی کتابیں پڑھیں لیکن مجھے یہ روایت کہیں نہیں ملی۔ غور کیا تو یہ نظریہ ایک سہل پسندانہ جواب لگتا ہے جس کے پیچھے کوئی تحقیقی محنت نہ ہو۔
زبانوں کے ماہر کہتے ہیں ہزاروں زبانیں تین بنیادی عوامل سے بنیں
1. جدائی اور فاصلہ (Isolation)
جب انسانوں کا ایک گروہ افریقہ سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلا – کوئی صحرائے صحارا پار کر گیا، کوئی ہمالیہ، کوئی سمندر – تو ان کا آپس میں رابطہ ٹوٹ گیا۔ جس طرح اردو بولنے والے ایک ہی خاندان کے بچے اگر 50 سال تک الگ الگ ملکوں میں رہیں تو ان کی اردو بدل جائے گی، اسی طرح ہزاروں سال کی جدائی میں زبانیں بالکل بدل گئیں۔
2زبان مسلسل بدلتی ہے
کوئی زبان جامد نہیں رہتی۔ ہر نسل نئے لفظ، نیا لہجہ، نئی گرامر بنا دیتی ہے- صرف 200 سال میں برطانوی اور امریکی انگریزی میں فرق آ گیا،
اس رفتار کو اگر 60,000 سال پر لگائیں تو اندازہ کریں کتنی تبدیلی آئے گی۔
3. نئی ضرورت، نئے لفظ
صحرا میں رہنے والے کو برف کے لیے 1 لفظ چاہیے، برفانی علاقے والے کو 20 لفظ۔ جنگل والے کے پاس درختوں کے 100 نام، ریگستان والے کے پاس اونٹ کی نسلوں کے 50 نام۔ ہر ماحول نے زبان کو نئے الفاظ پر مجبور کیا۔
300,000 – 70,000 سال پہلے افریقہ میں ایک Proto-human زبان تھی
70,000 – 10,000 سال پہلے دنیا بھر میں پھیلاؤ ہوا، ہزاروں قبائلی بولیاں بن گئیں۔
10,000 سال پہلے سے زراعت شروع ہوئی، بڑی بستیاں آباد ہوئیں، بڑے لسانی خاندان جیسے ہند یورپی، سامی، چینی تبتی بنے۔
اتوار, اکتوبر 18, 2026
تازہ خبریں:
- وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
- بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
- ایٹمی پلانٹ اور ٹماٹر کا منشور : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم : زبانوں کی تعداد اور یہ کیسے بنتی ہیں ؟
- اگلے تین روز کے لیے پیٹرول چار روپے لیٹر سستا
- ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- گورنر راج کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات : ’ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں‘ : محسن نقوی
- ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم / زبانوں کے خاندان
- پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی

