پشساور : پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے جن میں ایک سکول ٹیچر اور اٹھائیس بچے شامل ہیں
ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک کا کہنا ہے کہ پشاور میں سکول کی عمارت گِرنے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ۔
ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ ’ابتدائی طور پر عمارت گِرنے کے بعد 16 لاشوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس کے بعد چار سے پانچ گھنٹوں تک آپریشن جاری رہا اور اس کی تکمیل تک 29 لاشیں ملی ہیں۔ ان میں ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’پہلے ہمیں اطلاع ملی کہ عمارت گِری ہے لیکن یہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ تین منزلہ عمارت ہے۔‘
’یہ تین منزلہ عمارت انسٹرکچرڈ تھی، یعنی یہ عمارت عارضی طور پر بنی ہوئی تھی۔۔۔ 45 زخمی ہیں جنھیں شدید چوٹیں آئی ہیں، انھیں صوبے کے بڑے ہسپتالوں میں شفٹ کر دیا ہے۔‘
عارف خٹک کا کہنا ہے کہ اس ریسکیو آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی وہیکلز نے حصہ لیا۔
پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت گِرنے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ملبہ اب بھی موجود ہے جبکہ پولیس کے بقول سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سی سی پی او پشاور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سکول کا پرنسپل ایجوکیشن ٹرسٹ کے طور پر سکول چلا رہا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق کمزور عمارت بنائی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔ انھوں نے تصدیق کی ہے کہ سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد بتاتے ہیں کہ یہ سکول دو منزلہ عمارت میں قائم ہے جو کہ تیار شدہ چھتوں پر مبنی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ بظاہر اس عمارت میں پکا لینٹر نہیں بلکہ پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عمارت کے ملبے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اوپر ایک کمرے پر چھت کا ملبہ گِرنے کے بعد نیچے بھی وہی ملبہ دوسری جماعت کے بچوں پر آ گرا۔
( بشکریہ بی بی سی )
جمعرات, اکتوبر 15, 2026
تازہ خبریں:
- پشاور میں سکول کی چھت گرگئی : اٹھائیس بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 29 ہو گئی
- سینیٹ اور قومی اسمبلی نے کے پی میں ایمرجنسی کی منظوری دیدی : اپوزیشن کی نعرے بازی
- زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔بنی نوع انسان ، مختصر اور جامع تاریخ
- جمہوریت کا جنازہ اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- خیر پور میرس سے ہوت والا تک : زبانوں اور مہربانوں کا تذکرہ : زبانِ خلق / ڈاکٹر عباس برمانی
- ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس الٹ گئی : 5 مسافر ہلاک 30 زخمی
- شہباز شریف کا لانگ مارچ اور عمران خان کے گرد گھومتی سیاست : حامد میر کا کالم
- "ممتاز نامہ” — ایک زندگی، کئی جہان : محمد عمران کا اختصاریہ
- کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر حملہ: ایک اہلکار ہلاک، چار افراد زخمی
- ایمرجنسی کا نفاذ: قومی ضرورت یا جمہوریت کے لیے نیا امتحان؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ

